تازہ ترین

GB News

شرح سود میں کمی، کرونا سے ٹیکس وصولی 15، صنعتی پیداوار23فیصد کم ہوگئی، سٹیٹ بینک

Share Button

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر شرح سود میں ایک فیصد کمی کر دی ہے۔ شرح سود 19 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی۔تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں کو سہارا دینے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا ہے، مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں ایک فیصد کمی کر دی گئی ہے جسکے بعد بنیادی شرح سود 8 فیصد ہو گئی ہے۔سٹیٹ بینک کی طرف سے بنیادی شرح سود میں ایک فیصد کمی کے بعد شرح سود 19 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔ مارچ 2020ء سے اب تک شرح سود میں 5 اعشاریہ 25 فیصد کمی کی گئی ہے۔سٹیٹ بینک کے مطابق کرونا وائرس کے سبب معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، مارچ میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔سٹیٹ بینک کے مطابق رواں برس مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد رہنے کا امکان ہے، اگلے مالی سال مہنگائی کی شرح 7 سے 9 فیصد رہنے کا امکان ہے۔مرکزی بینک کے مطابق کرونا کے سبب اچھوتے چیلنج کا سامنا ہے کیونکہ وبا کی نوعیت غیر معاشی ہے، شرح سود میں کمی معاشی سست روی ختم نہیں کرسکتی لیکن رقم کی قلت کا مسئلہ حل کرسکتی ہے۔سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مارچ اوراپریل میں ٹیکس آمدن میں 15فیصدکی بڑی کمی ہوئی، رواں مالی سال کی چوتھی سہ ماہی میں خسار ے میں بڑے اضافے کا خدشہ ہے، چیلنجزکے باوجودکرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ قابو میں رہنے کا امکان ہے ،سٹیٹ بینک کے مطابق مجموعی کھپت اورسروسز سیکٹر قدرے طویل عرصے تک دباو¿ میں رہیں گے۔مرکزی بینک کے مطابق خراب زرعی حالات کے سبب خوردنی اشیاءکی قیمت بڑھنے کاامکان ہے، اگلے مالی سال معیشت سست رہی تو مہنگائی مزید کم ہوسکتی ہے۔سٹیٹ سے جاری اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ مہگائی کی توقعات اور شرح نمو میں کمی کے سبب مانیٹری پالیسی کمیٹی کا ماننا ہے کہ شرح سود میں کمی سے کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی بیروزگاری، مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین اور کمپنیوں پر قوت خرید اور قرض کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔مانیٹری پالیسی کمیٹی نے کہا کہ شرح سود میں کمی سمیت سٹیٹ بینک کی جانب سے کیے گئے دیگر اقدامات سے مدد ملے گی مثلاً رعایتی شرح سود پر کمپنیوں کو قرض کی فراہمی، بنیادی رقم کی ادائیگی میں ایک سال کی توسیع، قرض کی ادائیگی کی مدت 90دن سے بڑھا کر 180دن کرنا، کرونا وائرس سے نمٹنے کے لئے ہسپتالوں کو کم شرح سود پر قرض کی فراہمی کی گئی تاکہ یہ اس بحرانی صورتحال میں اپنے ملازمین کو نوکریوں سے نہ نکالیں۔مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں جائزہ لیا گیا کہ مقامی سطح پر سرگرمیوں کے اشاریوں مثلاً ریٹیل سیلز، کریڈٹ کارڈ کے اخراجات، سیمنٹ کی پیداوار، برآمدی آرڈرز، ٹیکس جمع کرنا و دیگر اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ معیشت حالیہ ہفتوں میں سست روی کا شکار ہوئی ہے۔تاہم اگر مہنگائی کی بات کی جائے تو مارچ اور اپریل کے انڈیکس کے مطابق مہنگائی کے رجحان میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق کورونا وائرس کے دورانیے کی وجہ سے غیریقینی صورتحال انتہا کو پہنچی ہوئی ہے اور شرح نمو میں کمی کے سبب مہنگائی میں اضافے کا خطرہ ہے۔اجلاس میں کہا گیا کہ مالی سال 2020 میں معیشت کے مزید 1.5فیصد سکڑنے کا خطرہ ہے جس کے بعد مالی سال 2021 میں 2فیصد بہتری کا امکان ہے جبکہ مہنگائی کی شرح 11-12فیصد جبکہ اگلے سال کم ہو کر 7-9فیصد رہنے کا امکان ہے۔تاہم مانیٹری پالیسی کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اشیا کی ترسیل نہ ہونے یا اس میں رکاوٹ کے نتیجے میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کا خدشہ ہے البتہ معیشت کی کمزور حالت کی وجہ سے یہ دوسرے مرحلے میں سنگین اثرات جاری کرنے سے قاصر رہیں گے۔ بیان میں کہا گیا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے بعد عالمی معیشت مزید ابتر صورتحال سے دوچار ہوئی اور گریٹ ڈپریشن کے بعد عالمی معیشت کے سب سے زیادہ تنزلی کا شکار ہونے کا خدشہ ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف کی جاری رپورٹ کے مطابق یہ 2020 میں مزید 3فیصد سکڑ سکتی ہے۔سٹیٹ بینک کے مطابق کورونا وائرس کے سنگین اثرات 2009 کی عالمی کساد بازاری سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے جب معیشت عالمی مالیاتی بحران کے دوران 0.07سکڑ گئی تھی جبکہ مزید سنگین ترین نتائج کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک نے کہا کہ عالمی معاشی بحران کے ساتھ ساتھ تیل کی قیمتیں بھی عالمی سطح پر انتہائی کم ہو گئی ہیں اور ماہرین کے مطابق تیل کی قیموتں میں کمی کا یہ سلسلہ برقرار رہے گا۔ادارہ شماریات کے مطابق اپریل میں ملکی برآمدات میں 53 فیصد جبکہ درآمدات میں 32 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ کاروباری سرگرمیاں ماند پڑنے سے مارچ سے اپریل کے دوران ٹیکس وصولیاں بھی 15 فیصد کم رہی۔ماہرین کے مطابق 17 مارچ سے اب تک شرح سود میں 5 اعشاریہ 25 فیصد کمی ہوئی جس کے باعث حکومت کے قرضوں میں 1900 ارب روپے تک کی کمی واقع ہوچکی ہے۔

Facebook Comments
Share Button