تازہ ترین

GB News

کرونا کا پھیلائو اور صورتحال کی گمبھیرتا

Share Button

 

ملک بھر میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید1352 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد مصدقہ کیسز کی تعداد41 ہزار 152ہوگئی۔نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق گزشتہ چوبیسگ ھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے چودہ ہزار175ٹیسٹ کیے گئے، اس طرح مجموعی طور پر تین لاکھ تہترہزار410کورونا ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جبکہ اب تک گیارہ ہزار341مریض اس وائرس سے صحت یاب ہوگئے ہیں۔ ان میں سے سندھ میں سولہ ہزار377، پنجاب میں چودہ ہزار 584، خیبرپختون خوا میں چھ ہزاراکسٹھ ، بلوچستان میںدوہزار544، آزاد کشمیر میں 112، اسلام آباد میں947اور گلگت بلتستان میں 527کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔کورونا وائرس نے چوبیس گھنٹوں میں مزید انتالیس زندگیوں کے چراغ گل کردیئے جس کے بعد ملک میں کورونا وائرس کے سبب888افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ305اموات ہوئیں جب کہ سندھ میں268، پنجاب میں 252، بلوچستان میں 36، اسلام آباد میںسات، گلگت بلتستان میںچارجب کہ آزاد کشمیر میں ایک شخص جان کی بازی ہار چکا ہے۔ علاوہ ازیں 188مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔دریں اثناء کورونا از خود نوٹس کیس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ کا نیا لارجر بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے جو آج سے سماعت کرے گا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ 18 مئی کو کورونا از خود نوٹس پر سماعت کرے گا۔ اس کے لئے اٹارنی جنرل پاکستان ، صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز، سیکرٹری صحت اور چیف سیکرٹریز سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیے گئے ہیں۔کورونا از خود نوٹس پر سماعت کے لیے جسٹس عمرعطابندیال اور جسٹس سجادعلی شاہ کی عدم دستیابی کے باعث سپریم کورٹ کا نیا لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے۔ جسٹس مشیرعالم اور جسٹس سردارطارق مسعود اب فاضل بینچ کا حصہ بن گئے ہیں۔کرونا کے حوالے سے صورتحال روز بروز خراب ہو رہی ہے’ اموات کی شرح اورمریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے’ ہم جانتے ہیں کہ اس سے لوگوں کی نفسیاتی صحت پر بھی اثرات رونما ہو رہے ہیں کیونکہ انسان معاشرت کی بنیادپرزندہ رہتاہے۔لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کرچلتے ہیں اورایک دوسرے کی مددکرتے ہیں تب ہی کچھ ہوپاتااوربن پاتا ہے ۔روئے ارض پرانسان کوجوسانسیں عطاکی گئی ہیں،وہ اسی وقت حقیقی معنوں میں بامقصدطریقے سے بروئے کارلائی جاسکتی ہیں،جب ٹھوس اورحقیقت پسندانہ بنیادپراشتراکِ عمل یقینی بنایاجائے۔کسی بھی انسان کیلئے اِس سے زیادہ کوئی بات سوہانِ روح نہیں ہوسکتی کہ اسے الگ تھلگ رہنے پرمجبورکر دیا جائے یاوہ الگ تھلگ رہنے پرمجبور ہو۔مل جل کررہنے کی طرح تنہائی بھی انسان کیلئے بہت ضروری ہے۔شخصیت کی تشکیل وتطہیرمیں تنہائی کلیدی کردار اداکرتی ہے۔جولوگ دنیاسے دور ہوکرکچھ وقت اپنے ساتھ گزارتے ہیں وہ غوروخوض کے ذریعے اپنی خرابیوں اورخامیوں کو دورکرنے پرمتوجہ ہوتے ہیں۔حال ہی میں کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہواہے کہ کوروناوائرس کی پیداکردہ شدید بحرانی کیفیت کے دوران کسی بھی شخص کوالگ تھلگ رہنے کی صورت میں شدیدنفسیاتی الجھنوں کاسامناہوسکتا ہے۔تنہائی اذیت دیتی ہے۔اس سے ذہنی یانفسی ہی نہیں، جسمانی الجھن بھی پیداہوتی ہے۔ماہرین کاکہنا ہے کہ تنہائی کاشکارہونے والے افراد میں موت کاامکان دوسرے یاعام افرادکے مقابلے میں26فیصدبڑھ جاتاہے۔ماہرین نے تحقیق کے ذریعے بتایاہے کہ شدید بھوک اورپیاس کی حالت میں جسم پرجواثرات مرتب ہوتے ہیں،ویسے ہی منفی اثرات جسم پرشدید نوعیت کی تنہائی کی حالت میں بھی مرتب ہوتے ہیں۔کوروناوائرس کے ہاتھوں جو صورتِ حال پیداہوئی ہے اس نے حیاتیاتی اعتبارسے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے۔ رابطے ختم ہوجانے کی صورت طبیعت اسی طوربگڑتی ہے،جس طوراشیائے خوردونوش کی شدیدکمی کے باعث بگڑتی ہے۔26مارچ کومیسوچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے جدیدتحقیق کے حوالے سے ابتدائی رپورٹ جاری کی ہے،جس میں کہاگیا ہے کہ بھوک اورتنہائی میں تحریک اورصِلے کے حوالے سے خاصی مماثلت پائی جاتی ہے۔اشیائے خوردونوش کی طرح رابطے بھی انسان کی انتہائی بنیادی ضرورت ہیں۔ جس طرح انسان کھائے پیے بغیرڈھنگ سے جی نہیں سکتا بالکل اسی طور وہ رابطوں کے بغیربھی ادھورے پن کاشکاررہتا ہے اوراِس کیفیت کے اس کی نفسی ساخت پرشدید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں کوروناوائرس کے ہاتھوں پیداہونے والی صورتِ حال نے دنیا بھر میں کروڑوں افرادکوالگ تھلگ زندگی بسرکرنے پرمجبورکیا ہے۔ اس وقت کروڑوں افراد تنہائی کاشکار ہیں۔کم وبیش ہرملک میں کروڑوں افرادمکمل تنہائی پرمبنی زندگی بسرنہ کررہے ہوں تب بھی محدود زندگی توبسرکرہی رہے ہیں۔ماہرین نے جس اسٹڈی سے متعلق ابتدائی رپورٹ جاری کی ہے،وہ تین برس قبل شروع کی گئی تھی۔لیویاٹومووا،ریبیکاساگزے اوران کے ساتھیوں نے اس نکتے پرتحقیق کی ہے کہ تنہائی سے انسان کاذہن کس حدتک متاثرہوتا ہے۔یونیورسٹی آف شکاگوکے ماہرِنفسیات آنجہانی جان کیسیوپونے تنہائی کے بارے میں غیرمعمولی تحقیق کی ہے۔عمومی حالات میں تنہائی مسلط نہیں ہوتی۔جیلوں میں بھی تنہائی چند افراد کیلئے ہوتی ہے۔بہت بڑے پیمانے پراور شدید پریشان کن تنہائی مخصوص حالات کانتیجہ ہوتی ہے۔ماہرین نے جبری تنہائی کے بارے میں بھی سوچا تھااور یہ بھی کہ ایسا بھلاکیوں ہوگا؟ تب ان کے ذہن میں کورونا وائرس جیسی کسی وباکاتصورنہ تھا اورپھر کوروناوائرس نمودارہوگیا دی وارفارکائنڈنیس:بلڈنگ ایمپیتھی اِن اے فریکچرڈ ورلڈکے مصنف اسٹینفرڈیونیورسٹی کے نفسیات داں جمیل ذکی کہتے ہیں کہ غذاکی کمی سے ہمارے جسم میں جوکچھ ہوتاہے وہی کچھ تنہائی کے ہاتھوں بھی ہوتاہے۔تنہائی جسم وجاں کی توانائی نچوڑ لیتی ہے۔اس تحقیق سے کروڑوں افرادکوسکون کاسانس لینے اورکچھ سمجھنے کاموقع ملے گا۔اس مطالعے میں40 رضاکاروں نے حصہ لیا۔انہیں کھانے پینے کی اشیاسے دوررکھ کردس دس گھنٹے گزارنے کوکہاگیااورپھرتنہا رہنے کوبھی کہاگیا۔ماہرین کہتے ہیں کہ حقیقی تنہائی پیداکرنابھی مسئلہ ہے۔بہت سے لوگ بھیڑمیں بھی تنہا ہوتے ہیں اور بہت سوں کایہ حال ہے کہ تنہائی سے بھی محظوظ ہوتے ہیں۔ صبح سے شام تک ایسی حالت پیداکی گئی کہ چند ایک ناول پڑھنے کے سوا کسی بھی چیزکی کوئی گنجائش نہ تھی۔ناول کے کرداربھی تنہائی کے ساتھی ثابت ہو سکتے ہیں۔بھوک اورپیاس کی حالت میں دس گھنٹے گزارنے کے دوران صرف پانی پینے کی اجازت دی گئی۔دونوں حالتوں میں دماغ کے ریسپانس کاجائزہ لیاگیا۔دماغ کاوسطی حصہ سبسٹینشیانگراکہلاتاہے جس کاتعلق تحریک اورطلب سے ہے۔محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ دونوں حالتوںبھوک اور پیاس کی شدت اورتنہائی میں دماغ یکساں شدت سے ردِعمل ظاہرکرتاہے۔بھوک کی حالت میں جذبات زیادہ شدید تھے۔اندازہ لگایاگیاکہ دونوں حالتوں میں معاملات شدید اذیت کے رہے۔تحقیق سے یہ نتیجہ اخذکیاگیاکہ سماجی رابطے بھی انتہائی بنیادی ضرورت کا درجہ رکھتے ہیں۔سوال یہ نہیں ہے کہ کوروناوائرس کے پھیلائوسے پیدا ہونے والی صورتِ حال میں سماجی رابطوں کاکیابنے گا۔اس وائرس کے پھیلنے سے پہلے بھی یہ سوال گردش کررہا تھا کہ سوشل میڈیا سے سماجی رابطوں کی ضرورت پوری ہوتی ہے یا نہیں۔مغربی معاشروں میں سوشل میڈیاکوحقیقی سماجی رابطوں کے نعم البدل کے طورپراپنا لیا گیا ہے۔اس کے نتیجے میں خرابیاں زیادہ پیدا ہوئی ہیں۔جب لوگ ایک دوسرے سے ملنے سے گریزکرتے ہیں توذہن محدود ہوتا چلاجاتا ہے۔دل ونظرمیں وہ اپنائیت اوروہ بات نہیں رہتی جسے زندگی کی اصل کہیے۔کورونا وائرس کے ہاتھوں نافذ کیے جانے والے لاک ڈائون کے دوران سوشل میڈیانے ہماری حقیقی ضرورت پوری کی ہے یانہیں۔اس کیفیت کے حقیقی اثرات کا اندازہ ہمیں بیس سال بعدہوگاجب اس حوالے سے وسیع تحقیق ہوگی۔ یہ حیران کن ہی ہے کہ انسان اپنی تمام تر ترقی کے باوجود ایک وائرس کے تدارک کا اہتما کرنے سے قاصر ہے اور اور اس کی ساری توانائیاں یہاں جواب دے چکی ہیں۔

Facebook Comments
Share Button