تازہ ترین

GB News

ٹیم کو ٹاپ تھری میں لانا ہدف ہے، بابراعظم

Share Button

قومی ون ڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ میری کوشش ہے کہ اپنی قیادت کا اسٹائل جارحانہ ہی رکھوں جیسے عمران خان کا تھا۔ قومی ٹیم کو ٹی ٹوینٹی اور ون ڈے ٹیم کو ٹاپ تھری رینکینگ میں لانا میرا ہدف ہے۔

ویڈیو لنک کے ذریعے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوینٹی اور ون ڈے کی قیادت سونپے جانے پر پی سی بی کا شکر گزار ہوں۔ میرے لیے ٹیم کی قیادت نئی بات نہیں ہے۔ میں انڈر نائنٹین سے ٹیم کی قیادت کرتا چلا آرہا ہوں۔ یہ بات درست ہے کہ ٹیم کی قیادت پھولوں کی سیج نہیں ہے اور یہ کہ میچ کے دوران باہر سے ہیڈ کوچ ٹیم کو بتا رہے ہوتے ہیں۔ یہ تاثر غلط ہے گروانڈ میں ٹیم میں نے ہی کھلانی ہوتی ہے۔

بابر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارتی ٹیم کے قائد اور بیٹسمین ویرات کوہلی سے موازنہ کیے جانے پر کوئی دباو نہیں ہے۔ کوہلی کے کھیلنے کا اپنا انداز ہے اور میرا انداز اپنا ہے۔ میں اپنی کرکٹ کھیل رہاہوں اور بطور کپتان چیزیں سیکھ رہاہوں۔ کھبی اچھی پرفارمنس بھی ہوتی ہے اچھا پرفارم بھی کرتے ہیں تو کھبی غلطی بھی کرتے ہیں۔

بابر کا کہنا تھا کہ بیٹنگ کی وجہ سے کپتانی کا کوئی دباو نہیں ہے۔ میں ایک وقت میں ایک ہی چیز پر فوکس کرتا ہوں۔ بیٹنگ کرتے ہوئے میرا تمام تر فوکس اپنی بیٹنگ کی طرف ہوتا ہے اور گروانڈ میں ٹیم کی کپتانی کرتے ہوئے میری تمام تر توجہ اپنی ٹیم کو کامیابی دلوانے کی جانب ہوتی ہے۔ تمام کھلاڑی اپنے طور پر ٹرئینگ کررہے ہیں کھلاڑیوں کے فٹنس ٹیسٹ بھی لیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹوینٹی میرا بطور کپتان پہلا ٹورنامنٹ ہوگا۔ اس لیے خواہش ہے کہ وقت پر ہو۔ دورہ انگلینڈ آسان نہیں ہوگا۔ پی سی بی انگلش کرکٹ بورڈ کے ساتھ مل کر اس کا جائزہ لے رہا ہے۔ کھلاڑیوں کا تحفظ بورڈ کی پہلی ترجیع ہے۔ کھیل کے قوانین بدل رہے ہیں۔ سوشل ڈسٹنس کا قانون بھی ہوگا۔ اس لیے اس کے ساتھ ایڈجیسٹ کرنا آسان نہیں ہوگا۔ کوشش ہوگی کہ دورے میں جلد سے جلد خود کو ایڈجیسٹ کریں۔

بابر اعظم کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ محمد رضوان کو مکمل چانس ملنا چاہیئے بلکہ میرا خیال ہے کہ ہر کھلاڑی کو مکمل موقع ملنا چاہیئے۔ سرفراز احمد ہمارے پلان کا حصہ ہیں۔ وہاب ریاض اور محمد عامر کو سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل نا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پلان میں شامل نہیں ہیں۔ تمام کھلاڑیوں کو متحرک رکھنے کے لیے حکمت عملی بنا لی ہے۔

Facebook Comments
Share Button