تازہ ترین

GB News

تُرک ڈرامے ”ارطغرل غازی” کے خلاف نہیں، ریما خان

Share Button

پاکستان میں اسلامی فتوحات پر مبنی ترک ڈرامے ”ارطغرل غازی” کی مقبولیت میں روزافزوں اضافہ ہورہا ہے لیکن شوبزانڈسٹری میں اس ڈرامے سے متعلق 2 رائے پائی جاتی ہیں،جہاں کئی سیلبرٹیز اس ڈرامے کو نشر کرنے کی مخالفت کرچکی ہیں وہیں بیشتر اس کے گُن گاتے نظر آتے ہیں۔

اداکارہ اور ٹی وی میزبان ریما خان کو بھی اس ڈرامے کے حوالے سے بیان پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جس پر انہوں نےاس حوالے سے وضاحت جاری کی ہے۔

رمضان ٹرانسمیشن کرنے والی ریما نے اپنے پروگرام کے دوران وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ میرے بیان کو بالکل غلط رنگ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس ڈرامے یا ہماری تاریخ کے بالکل خلاف نہیں ہوں،  ایک اچھی چیز جس سے تاریخ کا علم ہورہا ہو اورہماری معلومات میں بھی اضافہ ہورہا ہو، میں اس کی مخالفت کیسے کرسکتی ہوں۔ چاہے ایسا مواد ترکی کا ہو، ملائشیا کا، سعودی عرب سے ہو یا کسی بھی ملک سے حتیٰ کہ ہمارے دشمن ممالک کابھی ہو اگر ہماری تاریخ کو مثبت دکھایا گیا اور وہ بات انسانیت کیلئے اچھی ہوگی تو میں ہمیشہ اس کی تعریف کروں گی۔

ریما نے مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ میری بات کا مقصد یہ تھا کہ سرکاری ٹی وی پرترک ڈرامہ دکھایا جارہا تو پھر اس حوالے سے ایک بارٹر سسٹم ہونا چاہیے، پی ٹی وی کے آرکائیو میں ماضی میں بنائے گئے بہترین ڈرامے موجود ہیں جنہیں ترک زبان میں ڈب کرکے ترکی میں دکھایا جائے تو ہمارے ریونیو میں اضافہ ہوگا، اور انڈسٹری سے وابستہ بےروزگار افراد کیلئے بھی کام کے مواقع میسر ہوں گے۔

وضاحتی بیان میں ریما نے مزید کہا کہ میں نے اس پیرائے میں بات کی تھی لیکن اسے جو رنگ دیا گیا اس سے تکلیف ہوئی، کیونکہ میں بہت مثبت ہوں اور اچھی باتوں پرخود عمل کرنے کے علاوہ ان کی تشہیر بھی کرتی ہوں۔ خدارا اچھی بات کوغلط رنگ دینےکے بجائے دیکھیں کہ وہ کس انداز سے کی گئی اور اس کے پیچھے نیت کیا تھی۔

واضح رہے کہ ریماخان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں غیر ملکی پراجیکٹس کی تشہیرکرنا غلط ہے، خصوصا تب جب یہاں فنکار گھروں پر بیٹھے ہیں اور ان کے پاس کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسرے ممالک کی پروڈکشنز دکھانے کے بجائے اپنے لوگوں کو کام کا موقع دینا چاہیے۔

ترکی کا”گیم آف تھرون” کہلانے والا یہ تاریخی ڈرامہ سیریل ارطغرل پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی خواہش پراردو زبان میں ڈب کر کے یکم رمضان سے سرکاری ٹی وی پرنشرکیا جارہا ہے۔ ڈرامے میں 13 ویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کےقیام سے قبل اسلامی فتوحات کا سلسلہ دکھایا گیا ہے۔

Facebook Comments
Share Button