تازہ ترین

GB News

الیکشن کمیشن کے مثبت فیصلے

Share Button

 

الیکشن کمیشن نے گلگت بلتستان کے تمام سرکاری اداروں میں تقرریوں ، تبادلوں اور ترقیوں،حکومت یا منتخب نمائندوں کی جانب سے نئے منصوبوں کا اعلان کرنے پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ لوکل گورنمنٹ کے فنڈزمنجمد کردیئے گئے ہیں۔ احکامات کے تحت عام انتخابات کے انعقاد تک ایف پی ایس سی اور 15 مئی 2020 تک ہونے والے ٹیسٹ اور انٹر ویوز کے علاوہ کسی بھی قسم کی تقرریوں اور تبادلوں پر پابندی عائد کردی گئی ہے مفاد عامہ میں کوئی بھرتی کرنی ہو تو چیف الیکشن کمشنر کی رضا مندی سے ہو گی نوٹی فیکیشن کے اجرا کے بعدعام انتخابات کے انعقاد تک 15مئی 2020کے بعد جاری شدہ تمام ترقیاتی منصوبوں پر پابندی لگادی گئی ہے ،عام انتخابات کے انعقاد تک کوئی منتخب نمائندہ یا حکومت کے عہدیدار کسی نئی سکیم کا اعلان یا افتتاح نہیں کرسکیں گے، نئی حکومت بننے تک کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع کرنے یا کمیونٹی بیسڈ اقدامات لینے پر پابندی ہوگی ،انتخابات کے انعقاد اور نئی حکومت کے قیام تک لوکل گورنمنٹ کے اداروں کے فنڈزمنجمد رہیں گے،فنانس ڈیپارٹمنٹ میں نئی آسامیوں کی تخلیق کے کیس جمع نہیں ہوں گے نہ ہی جی بی فنانس ڈیپار ٹمنٹ اورایس اینڈ جی اے ڈی ڈیپارٹمنٹ اپ گریڈیشن،ری ڈی سگنیشن کے کیس پر عملدرآمد کریں گے، انتخابات کے انعقاد تک کوئی بھی پروموشن بورڈ نہیں بیٹھے گا نئی گاڑیوںکی خریداری پر پابندی عائد ہوگی ،مر مت و بحالی کے کاموں کے لئے اضافی رقم کا اجرا نہیں کیا جائے گا،نو ٹی فیکیشن کے اجرا سے انتخابات کے انعقاد تک نئی پالیسی قوانین رولز اینڈ ریگولیشن وغیرہ نہیں بنائے جا سکتے،اس کے علاوہ صوبائی حکومت کو صوبائی زکواة کونسل اور ضلعی زکواة کمیٹیوں میں نئے ارکان کی نامزدگی سے بھی روک دیا گیا ہے مستحق افراد میں زکواة ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے تقسیم کی جائے گی۔ تمام ترقیاتی فنڈز جو سکیم کے تحت مختص کئے ہیں جاری رہیں گے ان کا خرچ پلاننگ مینئو اور پیپرا رولز کے تحت بغیر کسی تبدیلی کا ہوگا ۔انتخابات میں سرکاری وسائل کے استعمال کو کسی بھی دور میں روکا نہیں جا سکا اس لیے دھاندلی کا الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں برطانیہ کے روزنامہ، فائنانشل ٹائمز نے پاکستان میں ہونے والے سابقہ الیکشنز کو پاکستان کی تاریخ کے گندے ترین الیکشنز قرار دیاتھا۔ اسی طرح نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور دنیا کے دوسرے کئی اخبارات نے بھی انتخابات کے بارے میں اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا ۔ پی پی پی، پی ایم ایل ن اور ایم کیو ایم بھی ان الیکشنز کو دھاندلی زدہ قرار دیتے رہے ہیں۔آج تک کی پاکستان کی تاریخ میں صرف ایک الیکشن، 1970 کے، ایسے ہوئے ہیں جن کے حوالے سے تمام فریقین کا بڑی حد تک اتفاق ہے کہ وہ صاف و شفاف تھے۔ وگرنہ 1965 کے صدارتی انتخابات سے لے کر 25 جولائی 2018 کو ہونے والے انتخابات تک ہر الیکشن میں دھاندلی کی گئی ہے، یہ الگ بات ہے کہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے کبھی انہیں زیادہ دھاندلی کرنی پڑی اور کبھی کم۔ ایسا مگر کبھی نہیں ہوا کہ دھاندلی نہ کی ہو۔ ہاں یہ لازم نہیں ہے کہ دھاندلی کے باوجود اپنی مرضی کے نتائج بھی حاصل کے جا سکیںکیونکہ الیکشن پر سازشوں کے علاوہ اور بھی کئی عوامل اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں۔1990 میں ہونے والی دھاندلی کے کچھ ثبوت تو اصغر خان کیس کی وجہ سے زبان زد عام ہیں لیکن کچھ ایسے بھی حقائق ہیں جو بہت زیادہ زیر بحث نہیں آ سکے۔ 1990 کے الیکشن میں صرف چیدہ چیدہ سیاستدانوں میں پیسے تقسیم نہیں کیے بلکہ پنجاب سے آئی جے آئی کے ہر امیدوار کو کم از کم دو کروڑ بیس لاکھ روپے اس وقت کے دو کروڑ بیس لاکھ آج کے کم از کم 25 کروڑ کے برابر دیے گئے۔صدارتی محل میں ایک الیکشن سیل بنایا گیا تھا اور الیکشن انتظامیہ کو حکم دیا گیا کہ کسی بھی پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ پولنگ ایجنٹس کو نہیں دینا بلکہ سیدھا صدارتی محل میں قائم الیکشن سیل میں پہنچانا ہے، وہیں ریزلٹ اکٹھے ہوتے تھے، آئی جے آئی کے امیدواروں کے حق میں تبدیل کیے جاتے تھے اور پھر پی ٹی وی سے نشر کیے جاتے تھے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس سے بڑھ کر اور ظلم کیا ہو سکتا تھا کہ پی پی پی اور اس کے اتحادیوں نے 1988 کے الیکشن کے مقابلے 1990 میں 0.4 ملین ووٹ زیادہ 7.9 ملین لیے لیکن اس کی قومی اسمبلی کی سیٹیں 93 کے مقابلے میں کم ہو کر 44 رہ گئیں جب کہ آئی جے آئی نے ووٹ 7.4 ملین لیے اور سیٹس 105 لیں۔ اور یہ سب کمال آئی جے آئی کی قیادت، صدر غلام اسحاق خان کا تھا۔پھر تقریبا اسی نوعیت کی دھاندلی 2002 میں کی گئی جب مسلم لیگ ق کو جتوانے کے لئے مادر پدر آزاد دھاندلی کی گئی۔ مخالف امیدواروں کو جیلوں میں ڈالا گیا، نیب کے کیسز بنوائے گئے، مخالف سیاسی قیادتوں پر الیکشن میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی گئی، گریجویشن کی شرط لگا کر مخالف امیدواروں کو الیکشن لڑنے سے محروم کر دیا گیا اور ایم ایم اے کو بوقت ضرورت استعمال کرنے کے لیے ان کی مدارس کی ڈگریوں کو عارضی طور پر گریجویشن کے برابر قرار دے دیا گیا۔ جب ایم ایم اے کے ارکان کی مدارس کی اسناد کے خلاف عدالت میں کیس ہوا تو پانچ سال تک اس کا فیصلہ نہیں ہونے دیا گیا۔ اس سب کے باوجود بھی اپنی مرضی کے نتائج حاصل نہ ہونے پر ہارس ٹریڈنگ کے قوانین میں تبدیلی کر کے پی پی پی سے ایک گروپ کو توڑ کر حکومت بنائی گئی۔1988، 2002 اور 2018 میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ یہ کہ تینوں دفعہ ایک ایسی پارٹی کو اقتدار دلوانے کی خواہش تھی اور ہے جو اس سے پہلے وفاق میں حکومت میں نہیں رہی۔جب بھی کسی نئی جماعت کو حکومت میں لانا ہوتا ہے تو اس کو اسی نوعیت اور شدت سے دھاندلی کرنا پڑتی ہے ۔بہرحال دھاندلی نہ تو پہلی دفعہ ہوئی اور نہ ہی آخری دفعہ بلکہ یہ سلسہ تب تک جاری و ساری رہے گا، جب تک سیاسی جماعتیں جمہوریت اور سویلین بالادستی کے ساتھ مخلص نہیں ہو جاتیں۔الیکشن کے حوالے سے الیکشن کمیشن پر بہت سی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں لیکن اعتراضات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ الیکشن کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے پارٹی امیدواروں کا انتخاب۔ کسی جمہوری نظام میں امیدواروں کے انتخاب کا نظام اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ پارٹی ممبروں کی رائے کا احترام کیا جائے یعنی ووٹ کو عزت دینے کا یہ پہلا مرحلہ ہوتا ہے۔پارٹی کے عہدے داروں اور الیکشن کمیشن کی یہ ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ امیدوار آئین کی شقوں پر پورا اترے، پارٹی کے نظریہ سے اتفاق کرتا ہو اور اچھی شہرت رکھتا ہو۔ لیکن حقیقت میں امیدواروں کے چنائو میں پارٹی ممبران کو کوئی اختیار نہیں دیا جاتا بلکہ پارٹی کا سربراہ ہی منتخب کرتا ہے۔آج تک نہ کسی الیکشن کمیشن نے پارٹیوں سے پوچھا کہ کس طریقہ کار کے تحت امیدوار چنے گئے اور کیا پارٹی آئین کے تحت یہ عمل کیا گیا۔ آج تک ان لوگوں کو سزا نہیں دی گئی جو کرپٹ لوگوں کو پارٹی ٹکٹ کے لیے نامزد کرتے ہیں اور نہ الیکشن کمیشن کو سزا دی گئی کے انہوں نے اس بات کو یقینی کیوں نہیں بنایا۔الیکشن کمیشن جو ضابطہ اخلاق مقرر کرتا ہے کوئی بھی امیدوار اس پر عمل نہیں کرتا۔ الیکشن کے دن کو ہی لے لیں۔ پولنگ ایجنٹ مفت نہیں ملتے بلکہ انہیں اس کام کا معاوضہ دیا جاتا ہے۔ وہ پارٹیاں جو انتہائی منظم ہیں انہیں بھی بمشکل 50 فیصد پولنگ ایجنٹ اپنے کارکنوں میں ملتے ہیں۔ ایک فعال اور ایماندار الیکشن کمیشن کی موجودگی میں جب ووٹ بیلٹ بکس میں ڈال دیا جائے تو ان کی امانت بن جاتا ہے اور گنتی کے لیے کسی ایجنٹ کی موجودگی نہیں ہونی چاہیے۔ مثلا بھارت اور ترکی دونوں ملک میں الیکشن کمیشن گنتی کرتا ہے اور نتائج کا اعلان کرتا ہے۔ دیگر جمہوری ممالک میں بھی یہی نظام ہے۔ پاکستان میں اصل دھاندلی کے الزام میں کمیشن کے کسی اہلکار کو سزا نہیں دی گئی۔ الیکشن کمیشن پر کسی کو بھروسہ نہیں ہے کہ بیلٹ باکس میں موجود ووٹ ان کے حوالے کیا جا سکے اور وہ امانت میں خیانت نہ کریں۔ الیکشن میں دھاندلی اور بے ضابتگی پر درخواستیں الیکشن ٹریبونل میں دی جاتی ہیں۔ تقریبا تمام درخواستیں امیدوار ایک دوسرے کے خلاف دیتے ہیں اور آج تک کسی الیکشن عہدیدار کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ جو حقیقت میں دھاندلی اور ووٹ چرانے کے ذمہ دار ہیں وہ صاف نکل جاتے ہیں اور انہیں کٹہرے میں لانے والا کوئی نہیں۔موجودہ جمہوریہ ناکارہ اور بوسیدہ ہے اور ایک نئی انتظام تشکیل دینا ہوگا جس میں ووٹ اور اس کی گنتی کو یقینی بنانا ہوگا۔ گلگت بلتستان میں الیکشن کمیشن کے فیصلے مثبت ہیں اس طرح کسی پر سرکاری ذرائع اور اختیارات کے غلط استعمال کا الزام نہیں لگایا جا سکے گا۔

Facebook Comments
Share Button