تازہ ترین

GB News

مزید تاخیر کی گنجائش نہیں

Share Button

 

دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے مین ڈیم کا کنٹریکٹ ایوارڈ ہونے کے پس منظر میں چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین ریٹائرڈ نے دیا مر بھاشا ڈیم پراجیکٹ سائٹ کا دورہ کیا۔ ان کے دورے کا مقصد سائٹ پر کئے جارہے انتظامات کاجائزہ لینا تھا تاکہ پراجیکٹ سائٹ پر کنٹریکٹر کی بروقت موبلائزیشن کو یقینی بنایا جاسکے۔چیئرمین واپڈا نے کہا کہ دیا مر بھاشا ڈیم پر تعمیراتی کام کا بروقت آغاز واپڈا کی پہلی ترجیح ہے۔یہ پراجیکٹ نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اِس کے مکمل ہونے پر ملک کی تقدیر بدل جائے گی۔قومی ترقی کے ساتھ ساتھ اِس منصوبے کی بدولت پراجیکٹ ایریا میں ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع ہوگا۔منصوبے کی بدولت پاکستان میں انسانی وسائل کو ترقی دینے میں مدد ملے گی۔ پراجیکٹ کی تعمیر سے انجینئرز اور دیگر سٹاف کے لئے ساڑھے سولہ ہزارملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔ دیا مر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لئے مقامی لوگوں کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا نے کہا کہ متاثرین کی آباد کاری اور مقامی لوگوں کی معاشی اور معاشرتی ترقی کے لئے اعتماد سازی کے اقدامات پر اٹھہترارب پچاس روڑ روپے خرچ کئے جائیں گے۔اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت آب نوشی، آبپاشی، تعلیم اور صحت کے موجودہ انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لئے چوالیسترقیاتی سکیمیں مکمل کی جاچکی ہیں۔دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے آغاز کی خوشخبری یقینا انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ ڈیم برسوں سے معرض التوا میں ہے حالانکہ پاکستان کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے افسوسناک امر یہ ہے کہ بھارت ایک بار پھر اس ڈیم کی تعمیر کے خلاف کھل کر سامنے آ چکا اور سازشوں میں مصروف ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ڈیم پر تیزی سے ترجیحی بنیادوں پہ کام کا آغاز کر دیا جانا چاہیے کیونکہ ہم مزید تاخیر برداشت نہیں کر سکتے’ چند روز قبل واپڈانے اعلان کیا تھا کہدیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے ٹھیکہ پاک فوج کے زیر انتظام چلنے والے ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن ایف ڈبلیو اواور چین کی حکومتی کمپنی پاور چائنا کے اشتراک کار کو دیا گیا ہے۔ ڈیم کی تعمیر کا تخمینہ تقریبا پندرہ ارب ہے۔ ڈیم کی تعمیر پر فی الفور کام شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ڈیم کی تعمیر2028میں مکمل ہو گی۔ دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کے ڈائی ورشن سسٹم، مین ڈیم، رسائی کے لیے پل اور اکیس میگاواٹ صلاحیت کے تانگیر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیر کیلئے دونوں کمپنیوں کے اشتراک کار کے ساتھ 442ارب روپے مالیت کے ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے تھے۔ دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کی تعمیر کے لیے کنسلٹنسی سروسز کا ٹھیکہ بھی دیا گیا۔ ستائیس ارب اٹھارہ کروڑ بیس لاکھ روپے مالیت کا یہ کنسلٹنسی سروسز ٹھیکہ دیامیر بھاشا کنسلٹنٹس گروپ نامی اشتراک کار کو دیا گیا۔ اس کنسلٹنٹ گروپ میں بارہ کمپنیاں شامل ہے جن کی مرکزی کمپنی نیسپاک ہے۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے اپنی ٹویٹ میں دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے آغاز کو بہت بڑی خوشخبری قرار دیا تھا۔دیامیر بھاشا ڈیم بجلی اور پانی کی ضرورت کے لیے ناگزیر ہے۔ساٹھ کی دہائی کے بعد اب تک پاکستان نے کوئی بھی بڑا ڈیم تعمیر نہیں کیا ۔یہ ڈیم دریائے سندھ پر تعمیر کیا جائے گا۔ یہ تعمیر تربیلا ڈیم سے 315کلومیٹر کی بلندی پر جبکہ گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت سے 165 کلومیٹر اور چلاس سے چالیس کلومیٹر دور دریائے سندھ کے نچلی طرف ہو گی۔ ڈیم کی بلندی 272 میٹر ہو گی۔ اس کے چودہ سپل وے گیٹ تعمیر کیے جائیں گے۔ اس میں ہمہ وقت 6.40ملین ایکٹر فٹ پانی موجود رہے گا۔اس پانی کو زراعت کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ واپڈا کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف صوبہ خیبر پختوںخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کا چھ لاکھ ایکڑ کا رقبہ قابل کاشت ہو جائے گا بلکہ مجموعی طور پر تین ملین ایکڑ زرعی رقبہ سیراب ہو سکے گا۔ڈیم سے بجلی پیدا کرنے کے لیے بارہ ٹربائن لگائی جائیں گی اور ہر ایک ٹربائن سے متوقع طور پر 375میگا واٹ بجلی جبکہ مجموعی طور پر 4500 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔ڈیم دریائے سندھ کے پانی کا قدرتی بہا استعمال کرتے ہوئے اس پانی کا 15 فیصد استعمال کرے گا جبکہ اس مقام پر دریائے سندھ کا سالانہ اخراج پانچ کروڑ ایکڑ فیٹ ہے۔ ڈیم مجموعی طور پر ایک سو دس مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہو گا جبکہ سوکلومیٹر مزید رقبے پر ڈیم کے انفراسٹرکچر کی تعمیر ہو گی۔ ڈیم کی تعمیر سے تیس دیہات اور مجموعی طور پر 2200 گھرانے جن کی آبادی کا تخمینہ بائیس ہزار لگایا گیا ہے متاثر ہوں گے جبکہ پانچ سوایکڑ زرعی زمین اور شاہراہ قراقرم کا سو کلومیٹر کا علاقہ زیرِ آب آئے گا۔ان نقصانات کی تلافی اور متاثرہ آبادی کی آباد کاری کے لیے نو مختلف منصوبے شروع کیے جائیں گے۔دیامیر بھاشا ڈیم کا منصوبہ کافی عرصے سے التوا میں ہے ۔ پہلی مرتبہ اس منصوبے کی تجویز 1980 کی دہائی کے آغاز میں زیر غور آئی تھی۔ ڈیم کی فزیبلٹی رپورٹ پہلی مرتبہ 2004 میں تیار کی گئی جبکہ 2005 سے 2008 کے عرصے میں دوبارہ اس کی فزیبلٹی اور ڈیزائن پر کام ہوا تھا۔ 2008 میں ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامکس کونسل جس میں چاروں صوبوں اور وفاق کے نمائندے موجود ہوتے ہیں نے ڈیم کی تعمیر کی باقاعدہ اجازت دے دی تھی۔ اس کو ایسا منصوبہ قرار دیا گیا جس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔دیامیر بھاشا ڈیم منصوبے کی ایک سے زائد مرتبہ باقاعدہ سرکاری سطح پر افتتاحی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن میں مختلف ادوار کے سربراہان مملکت نے شرکت کی تھی۔منصوبے کا سب سے پہلے افتتاح 1998 میں اس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کیا تھا۔2006 میں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے ڈیم کی تعمیر کا دوبارہ اعلان کیااس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے ایک بار پھر ڈیم کا افتتاح کیا جبکہ بھاشا دیا میر ڈیم کا ایک اور افتتاح 2011 میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی کیا تھا۔2008 میں اس ڈیم کی لاگت تقریبا بارہ ارب ڈالر تھی۔ اس خطیر رقم کو پاکستان اپنے وسائل سے فراہم نہیں کر سکتا تھا اس لیے توقع تھی کہ عالمی ادارے ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور آغا خان نیٹ ورک سرمایہ فراہم کریں گے مگر ڈیم منصوبے کے آغاز کے ساتھ ہی انڈیا نے منصوبے پر اعتراضات اٹھا دیے تھے۔انڈیا کے اعتراضات پر عالمی اداروں کی جانب سے ڈیم کی تعمیر کے لیے سرمایہ کاری عارضی طور پر روک دی گئی مگر2013میں اس وقت کی حکومت کی کوشش کے باوجود عالمی اداروں نے سرمایہ کی فراہمی انڈیا کی طرف سے این او سی سے مشروط کر دی تھی۔2014 میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دعوی کیا تھا کہ عالمی ادارے ڈیم منصوبے کے لیے سرمایہ فراہم کرنے کو تیار ہیں مگر عملا ایسا نہ ہو سکا۔ 2015 ہی میں حکومت نے دعوی کیا کہ اس نے اپنے وسائل سے ساڑھے پانچ ارب روپے کی رقم سے زمین حاصل کرنی شروع کر دی ہے تاہم مقامی متاثرین نے رقوم ملنے کی تصدیق نہیں کی تھی۔پھر وزیر اعظم نواز شریف نے باقاعدہ طور پر منصوبے کے لیے معاشی منصوبے کو منظور کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ2017 کے اختتام سے قبل اس منصوبے پر کام شروع کیا جائے۔2017 میں چین کے ساتھ اس منصوبے کو سی پیک میں شامل کرنے پر بات ہوئی تھی۔ اس کے لیے باقاعدہ ٹینڈر بھی جاری کر دیئے گئے تھے مگر بعد میں اس ٹینڈر کو منسوخ کر دیا گیا تھا کیونکہ اس منصوبے پر چین کی سخت شرائط قابل قبول نہیں تھیں۔جولائی 2018 میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے اس وقت کے چیف جسٹس، جسٹس ثاقب نثار نے حکومت پاکستان کو حکم دیا تھا کہ ملک میں پانی اور بجلی کی کمی کو ختم کرنے کے لیے فی الفور دیامیر بھاشا ڈیم سمیت دیگر منصوبے شروع کیے جائیں۔اس موقع پر انھوں نے عدالت میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیم منصوبوں کے لیے کام کریں گے۔ڈیم منصوبوں کے لیے سپریم کورٹ اور حکومت پاکستان نے الگ الگ چندہ مہم کی اپیل کی تھی۔ دیامیر بھاشا ڈیم پر اب بڑی رقم چین ہی فراہم کرے گا۔ دیامیر بھاشا ڈیم تعمیر کے منصوبے کے اعلان کے ساتھ ہی گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا حکومتوں کے درمیان ڈیم میں آنے والے آٹھ کلومیٹر رقبے کی حدود کا تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔ بہر حال امید ہے اب یہ منصوبہ مزید تاخیر سے دوچار نہیں ہو گا کیونکہ تاخیر کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

Facebook Comments
Share Button