تازہ ترین

GB News

نجی سکولز’طلباء والدین اور فیسوں کا قضیہ

Share Button

 

نجی سکولوں کے طلبہ کے والدین نے پرائیویٹ ایجوکیشنل نیٹ ورک کی جانب سے یکم جون سے سکولز کھولنے اور فیسوں میں بیس فیصد رعایت دینے کے اعلان کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے اور کہاہے کہ جب سکولز تین ماہ کیلئے بند رہے ہیں اور بچوں نے سکولوں کا دروازہ ہی نہیں دیکھا ہے تو والدین کس بنیاد پر بچوں کی فیسیں ادا کریں سکولز کھولنے کا مقصد صرف اور صرف بچوں سے ٹیکنیکل طریقے سے فیسیں بٹورنا ہے نجی سکولز مالکان کو بچوں کی تعلیم کی نہیں اپنے کاروبار کی فکر لاحق ہے ہم پرائیوٹ ایجوکیشنل نیٹ ورک کی سازش ناکام بنائیں گے انتظامیہ معاملے کا نوٹس لے نجی سکولز اونرز ریاست کے اندر ریاست بنانا چاہتے ہیں تعلیم کے نام پر خانہ پری کرکے تین ماہ کی فیسیں بٹورنے کیلئے ڈرامے رچائے جارہے ہیں جو کسی بھی صورت میں مناسب فعل نہیں ہے والدین کے مطابق ہم 80فیصد فیسیں مفت میں دینے کیلئے ہرگز تیار نہیں ہیں کاروبار میں نفع نقصان ہوتا رہتا ہے سال بھر سکولز اونرز کروڑوں روپے کماتے ہیں کیا مالکان بچت والدین میں تقسیم کرتے ہیں آج اگر نقصان ہوا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی مالکان کو خود قبول کرنا ہوگی ہاں البتہ زیادہ ایشو ہے تو ہم تیس سے پچاس فیصدفیس امداد کے طورپر دیں گے ففٹی ففٹی پر بات بن سکتی ہے اس سے آگے ہم کوئی بات ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ سکولز مالکان باز نہ آئے تو عدالت کا دروازہ کھکھٹائیں گے جب سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے تومالکان سابقہ شیڈول کے تحت سکولوں کو کھولیں اور باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ شروع کریں ہم پھر معمول کے مطابق فیسیں ادا کریں گے اس سے قبل ہم کوئی فیس نہیں دیں گے۔کرونا کے اس المیے کے دوران نجی سکول مالکان اور طلباء کے والدین اپنا اپنا موقف رکھتے ہیں جن میں سے بعض نکات کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ بعض سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے’ اس حوالے سے تحفظات و خدشات کا ایک سلسلہ ہے جو غور طلب ہے ‘ یہ بات درست ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان عرصے سے کما ہی رہے ہیں اور کاروبار میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے ‘ سکول کی فیس تعلیم کی فراہمی کے عوض دی جاتی ہے جب تعلیم ہی فراہم نہیں کی جا رہی تو فیسوں کی وصولی کا کوئی جواز بظاہر دکھائی نہیں دیتا اب اگر نقصان ہو رہا ہے تو اسے برداشت کیا جائے اور اسے نجی کاروبار کے اصولوں ہی کے تحت تسلیم کیا جائے جو نفع نقصان کی بنیاد پر چلتا ہے’ ایک شے کے نرخ اگر دس روپے ہیں تو کیا وہ شے لاک ڈائون کے اس عرصے کے دوران ہونے والے نقصان کی بنیاد پر سو روپے کی فروخت کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔جب سروسز ہی فراہم نہیں کی گئیں تو فیسوں کا کیا جواز ہے’ نجی تعلیمی اداروں نے حکومت کو اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ تعلیمی اداروں کو یکم جون سے کھولا جائے بصورت دیگر وہ خود ہی کھول دیں گے ۔یہ مطالبہ بھی پیش کیا گیا کہ طلبہ کے والدین سے کہا جائے کہ وہ تمام فیسیں اداکریں ورنہ وہ اساتذہ کو فارغ کر دیں گے ۔ ان تعلیمی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے ۔ ہر گلی محلے میں بعض اوقات ایک دو یا تین نجی تعلیمی ادارے بھر پور طور پر فنکشنل دکھائی دیتے ہیں کچھ سکولوں میں تعداد کم ہے لیکن بہت سارے ایسے ہیں جن کی تعداد سینکڑوں سے تجاوز کر چکی ہے ۔ طلبہ کی یہ کثیر تعداد ادارے کے کھلنے اور بند ہونے کے وقت جس طرح نکلتی ہے وہ دیکھنے کے قابل ہوتا ہے ان اداروں میں بچوں کے پینے کیلئے پانی کی جو سہولیات مہیا کی گئی ہیں بہت بری ہیں ۔ جونہی تدریسی اوقات میں وقفہ ہوتا ہے ، بچوں کا جم غفیر پانی کی ٹنکی کے ساتھ موجود ہوتا ہے ۔ کم و بیش یہی حال ٹوائلٹس کا ہے ۔ کچھ ایسے بھی ادارے ہیں جو اپنی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اپنی فیس کی وصولی کیلئے بھی بہت مشہور ہیں۔اگر انہیں فائدہ نہیں ہو رہا تو بعض سکولز کی چینز ملک بھر میں کیسے پھیل گئیں ۔ ظاہر ہے کہ بغیر منافع کے کوئی ادارہ کام نہیں کر سکتا۔ اپنے پاس سے کوئی سٹاف کی تنخواہیں ادا نہیں کر سکتا، عمارت کا کرایہ نہیں دے سکتا، بجلی،گیس ، پانی اور ٹیلیفون کے بل نہیں دئیے جا سکتے ۔ کئی ایک ادارے ایسے ہیں جن کی روزانہ کی آمدنی لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں ہے ۔ کیا یہ اپنا سارا منافع اپنے اساتذہ میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ ان کا رویہ اپنے اساتذہ کے ساتھ بعض اوقات بہت ہی برا ہوتا ہے ۔ یہ ان کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھتے ہیں کہ وہ بیچارے اگر حرف شکایت زبان پر لائیں تو انہیں ملازمت سے نکال دیا جائے گا ۔ مالی مشکلات کا شکار یہ اساتذہ مجبورا نوکریاں کرتے ہیں اور بیگار کیمپ میں کام کرتے ہیں ۔ یہ مالکان دراصل کاروباری لوگ ہیں ۔ ان کا تعلیم ، متعلم اور معلم سے واسطہ نہیں بلکہ یہ پیسے کمانا چاہتے ہیں۔ یہ کاروباری لوگ تعلیم کو ایک منافع بخش تجارت سمجھتے ہیں ۔ اگر ایسا نہ ہو تو ایک ایک ادارے کی کئی کئی شاخیں کیسے وجود میں آجاتی ہیں۔یہ نجی تعلیمی ادارے اتنے ہی مشکل میں ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ حکومت سے درخواست کریں کہ وہ ان اداروں کو سنبھال لے کیونکہ وہ اساتذہ کی تنخواہیں نہیں دے سکتے اور اداروں کے اخراجات کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔ ان کا مطالبہ یہ نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ والدین سے کہا جائے کہ وہ فیسیں دیں ورنہ وہ اساتذہ کو فارغ کر دیں گے۔ یہ ادارے جس طریقے سے پیسے بناتے ہیں، اسے دیکھ کر تو یہ لگتا ہے کہ ان کو انسانوں سے محبت ہے نہ انسانیت سے ۔ بہت سارے ادارے ایسے ہیں جہاں کمرہ جماعت میں استاد کے بیٹھنے کیلئے کرسی تک نہیں ۔ ان اداروں میں استاد کو کرسی پر بیٹھنا منع ہے ۔ امتحان کے دنوں میں انہیں نہ صرف طلبہ کی نگرانی کرنا پڑتی ہے بلکہ اضافی وقت میں جوابی کاپیوں کی جانچ پڑتال بھی کرنا ہوتی ہے ۔ اگر خدانخواستہ کہیں کوئی غلطی سر زد ہو جائے تو ڈانٹ ڈپٹ کے علاوہ ان کی تنخواہ سے کٹوتی بھی کی جاتی ہے ۔ حقیقت میں ان اساتذہ کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ قسمت کے مارے یہ لوگ سرکاری ملازمت حاصل کرنے میں ناکام رہے ، اب ان کا مقدر یہی ہے کہ وہ ان ہی اداروں سے وابستہ رہیں۔ اگر ایسا نہ کریں تو کیسے کمائیں اور گھر کے اخراجات پورے کریں۔ بھٹو کے دور میں ان اداروں کو قومیا لیا گیا تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ اساتذہ سے محنت مشقت زیادہ لی جاتی تھی جب کہ اس کے برعکس ان کا معاوضہ انتہائی شرمناک تھا۔ ان اساتذہ کو تنخواہ تو بہت کم دی جاتی تھی جبکہ ان سے دستخط زیادہ تنخواہ پر کروائے جاتے تھے ۔اس وقت مشکل یہ ہے کہ حکومت خود گونا گوں مسائل میں الجھی ہوئی ہے ۔ سب سے بڑا انسانی مسئلہ کرونا ہے ۔ انسانی جان کا متبادل کچھ بھی نہیں ہے ۔بچوں کو ایسی جگہ تو قطعی طورپر نہیں بھیجنا چاہئے جہاں ہجوم ہو، بھیڑ ہو اور بچے ان بچوں سے رابطے میں آئیں جو خدانخواستہ کسی طور بھی وبائی مرض سے متاثر ہو رہے ہوں۔ یہ بھی درست ہے کہ ہر اسکول جو فیس بھی لیتا ہے وہ بچوں کو پڑھانے کے عوض ہی لیتا ہے لیکن اس حقیقت کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ ہر اسکول کے ساتھ بہت سارے افراد کی روزی منسلک ہوتی ہے۔ ہر اسکول کی ایک انتظامیہ ہوتی ہے، اس کے اساتذہ ہوتے ہیں، اسکول کو مینٹین رکھنے والے افراد ہوتے ہیں جن کی تنخواہیں ادارے ادا کرتے ہیں۔علاوہ ازیں، اسکولوں میں بجلی کا، پانی کا اور کمیونیکیشن کا نظام ہوتا ہے جن کے بل ماہانہ کی بنیاد پر ادا کیے جاتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ سارے نجی اسکول اپنی اپنی عمارتوں کا کرایہ بھی ادا کرتے ہیں جو ہزاروں میں اور کچھ کا لاکھوں میں ہوتا ہے۔ گویا نجی ادارے جو فیس بھی وصول کرتے ہیں اس میں جہاں ادارے اپنا منافع رکھتے ہیں وہیں دیگر اخراجات بھی وہ ان ہی فیسوں سے ادا کرتے ہیں۔ ان حقائق کو سامنے رکھا جائے تو ان اداروں کا فیس لینا ناجائز نہیں جائز دکھائی دیتا ہے البتہ فیسوں میں کمی کیے جانے والی بات کسی حد تک اس لئے درست لگتی ہے کہ کئی کئی مہینے اسکول بند رہنے کی وجہ سے بجلی، پانی اور کمیونی کیشن کے بلوں کی ادائیگی میں کافی حد تک فرق پڑا ہے جس کو والدین سے شیئر کیا جانا چاہیے۔اس لیے ضروری ہے کہ وہ اس عرصے میں منافع نہ کمائیں بلکہ والدین کی یہ بات درست ہے کہ وہ ففٹی ففٹی کی بنیاد پر فیسیں لیں تاکہ معاملات دونوں جانب سے متوازن ہوں اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو ۔

Facebook Comments
Share Button