تازہ ترین

GB News

چینی بحران پر تحقیقاتی کمیشن کی فرانزک رپورٹ عام،جہانگیر ترین،شہبازشریف فیملی،مونس الٰہی،عمرشہریاراور اومنی گروپ کے حوالے سے اہم انکشافات

Share Button

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی،آن لائن)وفاقی حکومت نے چینی بحران پر تحقیقاتی کمیشن کی فرانزک رپورٹ عام کردی ہے رپورٹ میں جہانگیر ترین،شہبازشریف فیملی،مونس الٰہی،عمرشہریاراور اومنی گروپ کے حوالے سے اہم انکشافات کئے گئے ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان لوگوں نے مختلف غیرقانونی اقدامات اور ہیر پھیر سے پیسے بنائے جس سے عوام اور کاشت کاروں کو نقصان ہوا، بحران اور فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف کیسز نیب اور ایف آئی اے کو بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،وزیراعظم عمران خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ کوئی چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، جرم کی معافی نہیں ملے گی۔ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا، وزیراعظم عمران خان نے شوگر کمیشن کے سربراہ واجد ضیا کو شاباش دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ نے تحقیقات کے دوران بہترین کام کیا۔ وزیراعظم اور کابینہ اراکین نے کہا کہ پوری تحقیقاتی رپورٹ میں کوئی ابہام نہیں ہے۔وزیراعظم نے ایک بار پھر اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ مافیا کے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔ ان مافیاز کے خلاف لمبی جدوجہد کی ہے، اس سے کسی صورت موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم کی زیر صدارت ہوا اجلاس میں چینی تحقیقاتی کمیشن کی فرانزک رپورٹ پیش کی گئی ،کابینہ نے رپورٹ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ،اجلاس کے بعد وفاقی وزیراطلاعات شبلی فرازاور شہباز گل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ آج پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم دن ہے کیونکہ اس سے پہلے کسی حکومت میں ہمت نہیں تھی کہ اس حوالے سے تحقیقات کرے اور اسے پبلک کرے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ شوگر ملز کا آڈٹ کیا گیا جن میں سے 6 بڑے گروہ جو پاکستان کی چینی کی 51 فیصد پیداوار کو کنٹرول کرتے ہیں اور ان کے پیداواری حجم کی بنیاد پر آڈٹ کیا گیا۔شہزاد اکبر نے کہا کہ سب سے بڑا گروپ جے ڈی ڈبلیو ہے جن کا چینی کی پیداوار میں 20 فیصد کے قریب حصہ، آر وائے کے کا 12فیصد، المعیذ گروپ کا 6.8 فیصد، تاندیا والا کا 5 فیصد، شریف گروپ کا 4.5 فیصد اور اومنی گروپ کا 1.6 فیصد حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ قائد (پی ایم ایلـکیو) کے رہنما مونس الٰہی اور عمر شہریار کی جزوی ملکیت میں موجود الائنس مل کا بھی آڈٹ کیا گیا جس سے ظاہر ہوا کہ 2014 سے 2018 تک کسانوں کو رقم کی ادائیگی میں 11ـ 14 فیصد کٹوتی کی گئی اور 97 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔شہزاد اکبر نے کہاکہ جے ڈی ڈبلیو شوگر مل میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے رہنما جہانگیر ترین کے 21 فیصد حصص ہیں، انہوں نے کہا کہ جے ڈی ڈبلیو نے 2 کھاتے رکھے تھے۔ گروپ اوورانوائسنگ میں بھی ملوث ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حمزہ مل کی اونرشپ طیب گروپ آف انڈسٹریز کی ہے۔ کچی پرچی کا رواج العربیہ مل نے ڈالا۔ العربیہ نے 78 کروڑ روپے شوگر کین کم شو کیا۔ العربیہ کے 75 فیصد شہباز شریف فیملی کے شیئر ہیں جبکہ اومنی گروپ کو فائدہ دینے کے لئے مراد علی شاہ نے سبسڈی دی۔ معاون خصوصی نے کہا کہ شوگر کمیشن نے فرانزک آڈٹ کے بعد پچھلے سالوں کا جو تخمینہ لگایا ہے تو اس کے مطابق 2019 تک 140 روپے سے کم قیمت میں گنا خریدا گیا اور 2019 کے بعد کمیشن بننے کے بعد گنے کی خریداری مہنگی ہوئی تو اس کی زیادہ قیمت کے اثرات کا اطلاق چینی کی قیمت میں اضافے پر نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں کٹوتی کے نام پر کسانوں کے ساتھ زیادتی کی نشاندہی کی گئی، تقریباً تمام شوگر ملز گنے کے وزن میں 15سے لے کر 30 فیصد تک کٹوتی کرتی ہیں جس کا نقصان کسانوں کو ہوتا ہے اور مل مالکان کو فائدہ ہوتا ہے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ کچھ ملز میں کچی پرچی کا نظام ہے، گنے کی خریداری کے لیے سی پی آر کے بجائے کچی پرچی پر ادائیگیاں کی جاتی ہیں جہاں قیمت 140 روپے سے بھی کم ہے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ عوام کو کس طرح لْوٹا گیا اور وہ پیداواری لاگت میں ہیرا پھیری ہے،شہزاد اکبر نے انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں شامل 3 سالوں کے اعداد و شمار بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان قیمتوں میں پیداواری لاگت میں ٹیکس شامل نہیں ہے، شوگر ملز نے 18ـ2017 کی جو پیداواری لاگت دی وہ 51 روپے فی کلو جبکہ فرانزک آڈٹ نے اس کی قیمت 38 روپے متعین کی ہے جو تقریباً 13 روپے کا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ 19ـ2018 میں شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی کی فی کلو قیمت 52 روپے 6 پیسے متعین کی جبکہ کمیشن کی متعین کردہ قیمت 40 روپے 6 پیسے ہے جو ساڑھے 12 روپے کا فرق ہے۔انہوں نے کہا کہ 20ـ2019 میں چینی کی متعین کردہ قیمت 62 روپے فی کلو ہے جسے کمیشن نے 46 روپے 4 پیسے متعین کیا ہے اور یہ واضح فرق ہے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گنا کم قیمت پر خرید کر زیادہ قیمت ظاہر ی جاتی ہے اور اس اضافی قیمت کو پیداواری لاگت میں شامل کیا جاتا ہے ۔معاون خصوصی نے کہا کہ جس قیمت پر گنا خریدا جارہا ہے اگر ایمانداری سے چینی کی وہی قیمت مختص کی جائے تو ایک واضح فرق آئے گا۔ شوگر ملز اپنے خسارے کو بھی پیداواری لاگت میں شامل کرتی ہیں تو ان وجوہات کی وجہ سے چینی کی قیمت زیادہ دکھائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوگر انکوائری کمیشن کا ماننا ہے یہ سب مل مالکان کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ سٹہ کیسے ہوتا ہے جس کے ذریعے قیمتوں میں اضافہ کیا جاتا ہے۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمیشن نے اکاؤنٹنگ کی مد میں فراڈ ہوا ہے اور گنے کی خریداری میں انڈر رپورٹنگ کی جارہی ہے، پاکستان میں جتنا گنا پیدا ہوتا ہے اور جتنی چینی پیدا ہوتی ہے اور جتنی فروخت ہوتی ہے اس میں 25 سے 30فیصد زائد کا فرق آرہا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ کمیشن کے مطابق اگر 4 یا 5 فیصد گنا، گڑ کے لیے بھی رکھ دیں تو بھی صرف اس سال کا جو گنا رپورٹ نہیں ہورہا ہے اس کا تخمینہ 1.7 میٹرک ٹن چینی ہے جو کرش ہوئی لیکن رپورٹ نہیں ہوئی اور اس پر کوئی ٹیکس بھی ادا نہیں کیا گیا۔شہزاد اکبر نے کہا انکوائری کمیشن کو مل مالکان کی جانب سے 2، 2 کھاتے رکھنے کے شواہد ملے ہیں، ایک کھاتہ سرکاری اداروں جیسا کہ ایس ای سی پی، ایف بی آر کو دکھایا جاتا ہے اور دوسرا سیٹھ کو دکھایا جاتا ہے جس میں اصل منافع موجود ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چینی کی بے نامی فروخت دکھا کر ٹیکس چوری کی گئی، کوئی ٹرک ڈرائیور نکل رہا ہے تو کوئی کچھ اور یہ بے نامی ایکٹ کی خلاف ورزی ہے، جس میں سیلز ٹیکس ادا نہیں ہورہا اور چینی اسمگل ہورہی ہے تو اس پر ڈیوٹی ادا نہیں کی جارہی۔معاون خصوصی نے کہا کہ مل مالکان نے کرشنگ کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا ہے جو قانون کے خلاف ہے، جس کے لیے لائسنس حاصل کیا جاتا ہے۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن پیداواری لاگت میں سیلز ٹیکس بھی شامل کررہی ہے، چینی کی قیمت میں اگر صرف ایک روپیہ اضافہ کرکے بھی 5 ارب 20 کروڑ روپے منافع کمایا جاتا ہے۔شہزاد اکبر نے کہا کہ پچھلے 5 سالوں میں چینی کی برآمد پر 29 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی،انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیشن نے لکھا ہے کہ سندھ کی جانب سے صرف اومنی گروپ کو فائدہ پہنچانے کے لیے سبسڈی دی گئی، جب وفاق کی جانب سے سبسڈی مل رہی ہے تو اس میں 9.3 روپے کی سبسڈی دی جارہی ہے اور سندھ میں سب سے زیادہ شیئر اومنی گروپ کا تھا۔معاون خصوصی نے کہا کہ 20ـ2019 میں وفاق نے چینی کی برآمد پر کوئی سبسڈی نہیں دی، اس میں پنجاب 3 ارب سے زائد روپے کی سبسڈی دی جس میں سے 2 ارب 40 کروڑ روپے کی سبسڈی واپس لی گئی۔شہزاد اکبر نے کہا کہ 2018 میں دی جانے والی سبسڈی میں چینی کی پیداواری لاگت کا آزادانہ تعین نہیں کیا گیا، برآمد کے حوالے سے سب سے حیران کن بات سامنے آئی کہ ملک میں 88 شوگر ملز، 29 ارب کی سبسڈی لیتی ہیں، 22 ارب روپے کا انکم ٹیکس ہے جس میں سے 12 ارب روپے کا ریفنڈ ہے ، اس طرح صرف 10 ارب روپے انکم ٹیکس دیا گیا اور یہ کاروبار عوام کے دیے ہوئے پیسے سے چل رہا ہے۔ معاون خصوصی برائے احتساب نے کہا کہ پاکستان سے 68 فیصد چینی افغانستان برآمد کی جاتی ہے جس میں کافی مسائل پائے گئے، پاکستان کی برآمد اور افغانستان کے درآمدی ڈیٹا میں فرق پایا گیا جس سے اربوں روپے کا فرق آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ٹرک 15 سے 20 ٹن وزن لے کرجاسکتا ہے ، لیکن ظاہر یہ کیا گیا کہ ایک ایک ٹرک پر 70 سے 80 ٹن چینی افغانستان لے جائی گئی یہ ایسا مذاق ہے جو آج تک کسی نے نوٹ نہیں کیا۔شہزاد اکبر نے کہا کہ افغانستان میں چینی کی برآمد مشکوک ہے اور اس حوالے سے ٹی ٹی موجود ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ انکوائری کمیشن کے مطابق اس وقت ملک میں شوگر ملز ایک کارٹیل کے طور پر کام کررہی ہیں اور کارٹیلائزیشن کو روکنے والا ریگولیٹر ادارہ مسابقتی کمیشن پاکستان اس کو روک نہیں پارہا، 2009میں مسابقتی کمیشن نے کارٹیلائزیشن سے متعلق رپورٹ کیا تھا جس کے خلاف تمام ملز مالکان میدان میں آگئے تھے۔انہوں نے کہا کہ کارٹیلائزیشن یہ ہے کہ ملز مالکان بلیک میل کرتے ہیں، یکدم ہڑتال کی جاتی ہے، یوٹیلیٹی اسٹورز کو چینی نہیں دینی وغیرہ یہ سب شامل ہے۔ان سے قبل وزیر اطلاعات نے کہا کہ چینی بحران کی تہہ تک جانے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے اس کے فرانزک آڈٹ کا حکم دیا تھا، جس سے سب سے زیادہ متاثر غریب انسان ہوا۔

Facebook Comments
Share Button