تازہ ترین

GB News

شگر ٹڈی دل کے نرغے میں

Share Button

ملک کے مختلف حصوں میں تباہی مچانے کے بعد ٹڈی دل گلگت بلتستان کے ضلع شگر پہنچ گیا ۔شگر کے بالائی علاقہ باشہ میں ٹڈی دل کے حملے کی اطلاعات پر محکمہ زراعت کی ٹیموں نے متاثرہ علاقے باشہ پہنچ کر سپرے مہم شروع کردی ۔سپرے شروع کرنے کے بعد ٹڈی دل کی تعداد میں واضح کمی دکھائی دے رہی ہے۔محکمہ زراعت کے بروقت اقدامات پرعلاقہ مکینوں نے اطمینان کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ زراعت نے اس سے قبل بھی جب درختوں پرکیٹروں کاحملہ ہواتو اس وقت بھی بروقت اقدامات کرتے ہوئے قابوپالیاتھا اب بھی امیدہے ٹڈی دل کے حملوں سے بھی علاقے کو بچالیا جائے گا۔ٹڈی دل کا گلگت بلتستان کے علاقے شگر میں داخل ہونا تشویشناک ہے کیونکہ یہ عفریت لمحوں میں سب کچھ اجاڑ کر رکھ دیتا ہے’ ٹڈی دل ایک صحرائی کیڑا ہے جو چند صدیوں پہلے تک تو تقریبا پورے دنیا کے صحرائوں میں پایا جاتا تھا مگر اب ان کی آماجگاہیں صرف ایشیا اور افریقہ کے صحرائوں تک محدود ہیں۔ٹڈی بنیادی طور پر گراس ہاپر کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ گراس ہاپر اڑ نہیں سکتا اس کے پر اور ٹانگیں چھوٹی ہوتی ہیں جبکہ ٹڈی کے پر اور ٹانگیں بڑی ہوتی ہیں جس وجہ سے یہ اڑ سکتا ہے۔ ٹڈیوں کے جھنڈ یا لشکر کو ٹڈی دل کہا جاتا ہے۔جب یہ کیڑا چھوٹا ہوتا ہے تو یہ گراس ہاپر کی مانند ہوتا ہے مگر بڑا ہونے پر یہ ٹڈی کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ٹڈی کی پسندیدہ جگہیں وہ ہیں جہاں ریت، نمی اور پانی دستیاب ہو۔ مادہ ٹڈی ریت میں انڈے دیتی ہے اور یہ ایک وقت میں سو کے لگ بھگ انڈے دے سکتی ہے۔اگر مادہ ٹڈی کو موافق موسم دستیاب ہو جائے تو یہ کئی سو تک انڈے بھی دے سکتی ہے جس سے اس کی نسل تیزی سے بڑھتی ہے۔ ایک ٹڈی کی طبعی عمر تین سے پانچ ماہ کے درمیان ہوتی ہے۔ ٹڈیاں عموما جھنڈ کی صورت میں پرواز کرتی ہیں اور جہاں پر سبزہ نظر آئے یہ جھنڈ اس کو اپنی خوراک بنا لیتا ہے۔ پاکستان میں صوبہ پنجاب، بلوچستان اور سندھ کے صحرائوں میں اس کی آماجگاہیں موجود ہیں۔ صحرائے چولستان میں پاکستان اور انڈیا کی سرحد کے اطراف اس کی آماجگاہیں ہیں جبکہ یہ زیادہ بڑی تعداد میں بلوچستان میں پائی جاتی ہے۔اس وقت پاکستان میں موجود ٹڈی دل وہ ہیں جن کی افزائش نسل پاکستان کے علاوہ ایران میں ہوئی ہے۔ پاکستان سے یہ ٹڈیاں انڈیا کے علاقوں میں بھی حملہ آور ہوئی ہیں۔ پاکستان میں موجود ٹڈی دل وہ ہیں جن کی افزائش نسل موسم بہار میں ہوئی جب ٹڈیوں کا لشکر بڑا ہوتا ہے تو ان کا رویہ تبدیل ہو جاتا ہے اور یہ زیادہ مشتعل نظر آتا ہے۔ اس دوران ٹڈیاں اپنا رنگ بھی تبدیل کرتی ہیں اور اپنے جھنڈ میں اپنے لیڈر کا انتخاب خود کرتی ہیں۔ لیڈر کو ٹڈی دل کی ملکہ کہا جاتا ہے۔ ٹڈی دل پر کوئی ایک ملک قابو نہیں پا سکتا۔ بین الاقوامی سطح پر اس کی نگرانی کا نظام موجود ہے جس میں تقریبا تمام ممالک اپنے اپنے ملک میں اس کی افزائش اور دیگر تفصیلات کی معلومات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرتے رہتے ہیں جس کے بعد اس سے بچائو کے اقدامات مشترکہ طور پر اٹھائے جاتے ہیں۔ ٹڈی دل کے حالیہ حملوں کے تانے بانے2018میں سعودی عرب اور مشرقی وسطی میں آنے والے سمندری طوفان اور صحرائوں میں ہونے والی غیر متوقع بارشوں سے جا ملتے ہیں۔ مشرقی وسطی اور سعودی عرب کے صحرائوں میں ہونے والی بارشوں سے ٹڈیوں کی بہت زیادہ افزائش نسل ہوئی جس کو مانیٹر نہیں کیا جا سکا اور جب اس کو مانیٹر نہیں کیا گیا تو پھر اس کے تدارک کے اقدامات بھی نہیں ہوئے۔اس کے بڑے حملے جنگ زدہ ملک یمن میں ہوئے اور اس کے بعد یہ وہاں سے ہوتے ہوئے ایران، پاکستان، انڈیا اور ایشیاء کے دیگ ممالک تک پہنچ گئے۔ پاکستان میں بھی ٹڈی دل کے بڑھتے حملوں کی وجوہات عالمی ہیں یعنی ان کو بروقت مانیٹر کر کے ان کا تدارک نہیں کیا گیااور ٹڈیوں کے بڑے جھنڈ مختلف ممالک کا سفر طے کر کے پاکستان پہنچ گئے۔مشرقی وسطی کے صحرائوں کی طرح پاکستان کے صحرائوں میں بھی غیر متوقع بارشیں ہوئیں جس سے ٹڈیوں کو افزائش نسل کا بھرپور موقع ملا۔ صحرائوں میں موجود سانپوں سمیت دیگر حشرت الارض بھی ان ٹڈیوں اور ان کے انڈوں کو بطور خوراک استعمال کرتے ہیں۔ اب ان کی کمی بھی ان کے اضافے کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ مختلف وجوہات کی بنا پر ٹڈیوں کی افزائش نسل بہت زیادہ ہوئی ہے تو ان کی اپنی آماجگاہوں میں ان کے لیے خوراک اور انڈے دینے کی جگہیں کم پڑ گئی ہیں۔ جس کے بعد ٹڈیاں خوراک اور انڈے دینے کے لیے مناسب مقام کی تلاش میں غول در غول باہر نکلتی ہیں۔ ٹڈی دل سبزہ اور نمی والے مقام کو اپنی افزائش نسل کے لیے منتخب کرتا ہے اور جب صحرا میں ان کو سبزہ اور نمی نہ ملے تو پھر یہ سبزہ اور نمی والے علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔موجودہ موسمیاتی تبدیلی کے دور میں ان کی تعداد کو کنٹرول کرنا عالمی طور پر ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کا پہلا حملہ گذشتہ برس جون اور جولائی میں ہوا۔ سندھ اور چولستان کے کاشتکار، ان کا چارہ، کپاس کی فصل اور ان کے باغات سب برباد ہو گئے۔لیکن نہ حکومت اور نہ ہی اپوزیشن کے کان پر جوں تک رینگی۔اس وقت ان ٹڈیوں کو تل کر کھانے اور ان کی بریانی دم کرنے کی تجاویز دی گئی تھیں۔ ٹڈیاں اس دوران ساون سے نم صحرائی ریت میں انڈے دے کر اپنا جھنڈ بڑھاتی رہیں۔ٹڈی نے اس دوران اگلی نسل تیار کر لی تھی اور یہ نسل جو گلابی رنگ کی کم عمر ٹڈیاں ہیں، جنوبی پنجاب پر حملہ آور ہیں۔فی الوقت یہ دل کی شکل میں نہیں، ٹکڑیوں کی شکل میں ہیں۔ مگر ان کی ایک ٹکڑی بھی بہت بڑی ہوتی ہے۔اس وقت یہ ٹڈیاں صحرا سے نکل کر جنوبی پنجاب سے ہوتی ہوئی انڈین پنجاب فاضلکہ، فیروز پور اور بیکانیر وغیرہ کی طرف جا رہی ہیں۔ٹڈی دل معمولی شے نہیں، تاریخ کے بڑے بڑے قحط اس معمولی ٹڈی کی وجہ سے پڑے۔ٹڈی دل کئی دہائیوں کے بعد دوبارہ آیا ہے اور اسے قابو کرنا نہ تو کسانوں کے بس کی بات ہے اور نہ ہی ایک اکیلا ملک اسے قابو کر سکتا ہے ۔ اس کے لیے پڑوسی ملکوں کے ساتھ ہنگامی بنیادوں پر بات چیت کرنے اور اس کے اگلے حملے سے پہلے اسے تلف کرنے کی ضرورت ہے۔ٹڈی دل کو کیمیائی طریقوں سے ختم کرنا بھی خطرناک ہے کیونکہ اس طرح جو کیمیکل استعمال کیا جائے گا وہ ماحول، انسانی اور دیگر جانوروں کی صحت پر برا اثر ڈالے گا۔کیڑوں کی یہ فوج کسی بھی انسانی فوج سے کچھ کم خطرناک نہیں’ ریگستانی ٹڈیوں کے بڑے بڑے غول مغربی اور وسطی انڈیا میں فصلوں کو تباہ کرتے رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ گذشتہ تین دہائیوں میں یہ ٹڈیوں کا سب سے بڑا حملہ ہے۔ڈرون، ٹریکٹروں اور گاڑیوں کی مدد سے ان ٹڈیوں کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے اور کیڑے مار دوائوں کے چھڑکائو سے انھیں ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لیکن ان ٹڈیوں نے اب تک 50 ہزار ہیکٹر زرعی اراضی کو تباہ کر دیا ہے۔ریاست راجستھان اور مدھیہ پردیش کے کچھ حصوں میں آٹھ سے دس ٹڈی جھنڈ سرگرم ہیں۔دونوں ریاستوں میں موسمی فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت سے کسان تباہ ہو گئے ہیں۔ٹڈیوں کا یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک پہلے ہی کورونا وائرس کے وبا کی لپیٹ میں ہے۔اقوام متحدہ کی تنظیم برائے خوراک اور زراعت کے مطابق چالیس لاکھ ٹڈیوں کا ایک جھنڈ پینتیس ہزار افراد کی خوراک تباہ کر سکتا ہے۔ ٹڈیوں کو بھگانے کے لیے لوگوں نے مختلف طریقے استعمال کیے۔ کچھ نے سپرٹ، کیڑے مار ادویات اور کچھ نے برتن بجا کر ٹڈیوں کو بھگانے کی کوشش کی۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ گذشتہ سال کے اوائل میں ہونے والی بارشوں اور طوفانوں نے ٹڈیوں کی پیداوار میں تیزی سے اضافہ کیا تھا۔ہوا میں اڑنے والی ان ٹڈیوں کے جھنڈ میں دس ارب تک ٹڈیاں تک ہو سکتی ہیں جو سینکڑوں کلومیٹر کے رقبے میں پھیل سکتی ہیں۔یہ ٹڈی دل ایک دن میں دوسوکلومیٹر سفر کر سکتے ہیں۔ ایک ہی دن میں ٹڈیوں کا یہ جھنڈ اپنے کھانے اور افزائش کے لیے اتنے بڑے علاقے کی فصل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اوسطا ایک ٹڈی دل ڈھائی ہزار افراد کے لیے مختص اناج کو تباہ کر سکتا ہے۔ماضی میں کچھ ٹڈی دل بہت خطرناک تھے اور بہت سے علاقوں میں پھیل گئے تھے ان کی تعداد کی وجہ سے ان کے حملے کو طاعون کہا جاتا تھا۔ اس لیے ضروری ہے کہ پہلے ہیسے احتیاطی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ یہ زیادہ نقصان کا موجب نہ بن سکیں۔

Facebook Comments
Share Button