تازہ ترین

GB News

عملی اقدامات ہی مسائل کا حل ہیں

Share Button

وزیراعظم نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا ہے کہ سو سال میں پہلی بار ایسا معاشی بحران آیا ہے، دنیا کی معیشت کو بارہ کھرب ڈالر کا نقصان ہوچکا، برطانیہ کی معیشت بیس فیصد نیچے چلی گئی، کہا جاتا ہے کہ ہم کرونا کے پیچھے چھپ رہے ہیں، ہم کورونا کے پیچھے نہیں چھپ رہے ہیں، جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو ہمیں کوئی سوئٹزرلینڈ کی معیشت نہیں ملی تھی،بیس ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ تھا، ایکسپورٹ اور امپورٹ میں بڑا فرق تھا، اس وقت ڈالر 104سے 122پر ملا اور اس کے بعد جب ہم نے اقدام اٹھایا تو روپیہ مزید غیر مستحکم ہوا، اس وجہ سے غربت اور مہنگائی میں اضافہ ہونا تھا۔عمران خان نے کہا کہ ہمیں حکومت ملی تو ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا تھا، گیس، بجلی اور دیگر معاہدے ہم نہیں ہم سے پہلے حکومتیں کرکے گئیں، ہمیں بڑے بوجھ کا سامنا کرنا پڑا، یہ ہماری وجہ سے نہیں تھا بلکہ اس ملک کی سابقہ قیادت کی وجہ سے تھا، ہم مجبور ہو کر دنیا کے پاس پیسے مانگنے گئے، میں نے تیس سال سے سب سے زیادہ فنڈ ریزنگ کی، کبھی اسپتالوں، یونیورسٹیز کے لئے پیسے مانگنے لیکن کبھی شرم نہیں آئی، جب ہم ملک کے لئے غیروں کے آگے گئے تو بہت زیادہ شرم محسوس ہوئی، اس کے باوجود ملک کو دیوالیہ سے بچانے کے لئے دنیا کے ملکوں میں پیسے مانگنے گئے تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج کرنٹ اکاونٹ خسارہ بیس سے تیس ارب ڈالرز تک پہنچ چکا ہے، براہ راست سرمایہ کاری ایک ارب ڈالر سے دگنی ہوکر2.1ڈالرہوگئی، زرمبادلہ کے ذخائر میں تین فیصد اضافہ ہوا، ہماری ریٹنگ بی تھری میں چلی گئی ہے، وزیراعظم ہائوس کے اخراجات کم کیے، وزیراعظم ہائوس کا اسٹاف534سے کم کر کے آدھا کردیا، خرچے کم کرنے سے پرائمری خسارہ ختم ہوگیا ہے، اسٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا، چھ ہزار ارب روپے قرض تھا وہ بھی ختم کردیا،اب تک ہم پانچ ہزار ارب روپے قرض واپس کرچکے ہیں جو پچھلی حکومتوں نے لئے تھے’ حیرت انگیز وافسوسناک بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت کو آئے دو سال سے زائد ہو چکے ہیں لیکن ہنوز اوپر سے لے کر نیچے تک حکومت کے تمام بزرجمہر سابقہ حکومت کو مورد الزام ٹھہرانے کے علاوہ کچھ نہیں کر سکے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے حالانکہ اب حکومت کو اپنی کارکردگی کے بارے میں بتانا چاہیے دو برس قبل سترہ اگست کو عمران خان نے جب وزیر اعظم کا منصب سنبھالا تھا تو کچھ حلقوں نے انہیں بہترین متبادل قرار دیا تو کچھ نے انہیں مسیحا بھی سمجھ لیا تھا، جس کو پاکستان کے تمام مسائل کا حل تلاش کرنا ہی تھا۔عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جیت دراصل خود کو درست سمجھنے والوں اور اپنے مفادات کے لیے سرگرم متمول شہری مڈل کلاس طبقے کی کامیابی تھی۔ انہیں سمندر پار آباد سادہ لوح پاکستانی برادری کے علاوہ ملک میں سیاسی طاقت پر قابض حلقوں کی بھی حمایت حاصل تھی۔عمران خان کے حامی متفق تھے کہ بطور وزیر اعظم وہ تمام داخلی مسائل کا حل ڈھونڈ نکالیں گے۔ تاہم ایک برس گزر جانے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ وہ غلط سوچ رہے تھے۔ عمران خان نے عام شہریوں کو راحت پہنچانے کا جو وعدہ کیا تھا، وہ وفا ہوا ہی نہیں بلکہ غریب عوام مزید غربت میں دھنستے جا رہے ہیں۔عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان کا انتظام منصفانہ اور ایماندارانہ طریقے سے چلایا جائے گا اور مالی بدعنوانی ختم ہو جائے گی۔ عمران خان کی حکومت نے آرام سے اقتدار سنبھالا’ملک کے تمام طاقت ور ادارے بشمول میڈیا عمران خان کے ساتھ تھے۔عمران خان کی حکومت کے دو سال مکمل ہونے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس پارٹی نے ملکی معیشت کی بہتری کے حوالے سے جتنے بھی وعدے کیے تھے، وہ پورے نہیں ہو سکے۔ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام ایک خاص طریقے سے کام کرتا ہے اور پاکستان تحریک انصاف ملکی اقتصادی نظام کو ٹھیک کرنے کی بات تو کرتی ہے لیکن اس سسٹم سے ہی نابلد ہے۔عمران خان کی حکومت کی طرف سے بدعنوانی کے خاتمے اور ریاستی قرضے چکانے کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ اقتصادی ترقی کی بہت خراب صورت حال کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا اور بے روزگاری کی شرح بھی بڑھی ہے۔ عمران خان پاکستان کے مفاد میں امریکا اور چین کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ پاک چائنہ اقتصادی راہداری کے تحت ہونے والی سرمایہ کاری بھی بے یقینی کا شکار ہے جبکہ دوسری طرف امریکا بھی اس وقت پاکستان کی مدد کو تیار نظر نہیں آتا جب تک کہ اسلام آباد حکومت افغان امن عمل میں واشنگٹن کی خواہشات پورا نہیں کرتی۔سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ لابنگ کے نتیجے میں بھی پاکستان کو محدود فائدہ ہوا ہے۔ بھارت کی طرف سے نئی دہلی کے زیر انتظام جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بعد ان مسلم ممالک کی طرف سے پاکستان کو کوئی گرمجوشی سے عبارت جواب بھی نہیں ملا۔ اس عرصے میں عمران خان کی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے جو کام کامیابی سے کیا ہے، وہ سیاسی منحرفین کے خلاف کریک ڈائون ہے۔ ساتھ ہی آزادی اظہار پر بھی قدغنیں لگانے میں اور میڈیا پر پابندیاں عائد کرنے میں یہ حکومت کامیاب ہی نظر آتی ہے۔ عمران خان کی حکومت کو اپنی کارکردگی کا بغور مشاہدہ کرنا چاہیے۔ اسے دیکھنا ہو گا کہ عوامی بہبود اور ترقی کے لیے اقتصادی پالیسیوں کو کس طرح تبدیل کرنا ہے۔ غربت کے خاتمے اور پیداوار کو بڑھانے کے نئے طریقوں پر غور کرنا بھی ضروری ہے۔عمران خان کی حکومت کو اپنی خارجہ پالیسی کا جائزہ بھی لینا ہو گا۔ پرکھنا ہو گا کہ ایسے کسی طویل المدتی وژن کو کیسے ترتیب دیا جا سکتا ہے، جس میں پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم ملک بن کر ابھرے۔موجودہ حکومت کا سب سے بڑا المیہ جو اس کے سر پر تلوار بن کر لٹکتا رہے گا، وہ اس پارٹی کے دعوے ہیں جو وہ پچھلے دس سالوں سے کررہے تھے۔ قرضے اتار دیں گے، لوٹی ہوئی دولت بیرون ملک سے واپس لائیں گے، کرپشن کو کچل کر رکھ دیں گے، دہشت گردی ختم کر دیں گے، ایک نیا پاکستان بنا دیں گے۔ عمران خان صاحب نے جو خواب عوام کے دماغوں میں پیدا کیے ہیں، وہی خواب ان کی حکومت کے لیے مسائل کے انبار کھڑے کر رہے ہیں ایسے لوگوں کی حکومت جو سیاسی جدوجہد کے دوران کایاپلٹ کر ایک شان دار پاکستان کھڑا کرسکتی ہے۔ مگر افسوس اس قیادت میں ان دعوئوں کو حقیقت میں بدلنے کی صلاحیت بہت محدود ہے۔ قرضوں کی کشکول توڑنے والی یہ سیاسی قیادت پچھلے تین ماہ سے قرضوں کا کشکول ہی لیے پھر رہی ہے۔ ہماری تقریبا تمام سیاسی قوتیں اپنی سیاسی جدوجہد میں دعوے تو بہت کرتی ہیں مگر ان دعوئوں کی تکمیل کے لیے عملا تیاری نہیںکرتیں کیونکہ انہیں عوام سے کوئی سروکار نہیں انہیں بس ان کے ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی تقریر میں ریاست مدینہ کو ماڈل کے طورپر پیش کیا لیکن کچھ نہ کر سکے ‘پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے لیے عوام سے وعدے کرنا اور ملک کے بارے میں ایک تابناک تصویر پیش کرنا ہمیشہ سے ایک آسان نسخہ رہا ہے جس میں معاشی خود انحصاری شاید ہمیشہ سرفہرست رہتی ہے۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقتدار میں آنے سے پہلے ماضی کی حکومتوں کے عالمی مالیاتی اداروں بالخصوص آئی ایم ایف کے پاس جانے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور جوش خطابت میں یہ تک کہہ ڈالا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر وہ خودکشی کرنے کو ترجیح دیں گے۔لیکن حکومت میں آنے سے ترجیحات بدل جاتی ہیںآہستہ آہستہ ملک کی پتلی معاشی صورتحال کے بارے میں میڈیا کو بتایا جانے لگا۔ اس دوران بھی عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے پاس جانے کے سوالات کو ٹالا گیا اور توجہ وزیراعظم ہائوس میں کھڑی گاڑیوں اور وہاں بھینسوں کی نیلامی پر مرکوز رکھی لیکن چند کروڑ میں گاڑیوں اور چند لاکھ میں نیلام ہونے والی بھینسیں ملک کے اوپر منڈلاتے معاشی بحران کو ٹال نہیں سکیں تو حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا اعلان کردیا گیا۔پھر وزیراعظم کو کہنا پڑا کہ قرضوں کی قسطیں ادا کرنے کا بوجھ آتے ہی ہمیں ملا اور اگر فوری طور پر قرضہ نہ لیتے تو ملک ڈیفالٹ کر جاتا تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑنا تھا۔اس سب کے باوجود ضرورت اب اس بات کی ہے کہ حکومت ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے کی بجائے اپنے وعدوں کی تکمیل کا سامان کرے تاکہ لوگوں کو ریلیف میسر آئے۔

Facebook Comments
Share Button