تازہ ترین

GB News

معیشت بیٹھ چکی، کرونا نے لوگوں کو ارب پتی بنادیا، چیف جسٹس

Share Button

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے پائلٹس کے جعلی لائسنسوں کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی سول ایوی ایشن سے 2 ہفتے میں جواب طلب کرلیا۔مقدمات ک سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا سول ایوی ایشن پیسے لے کر پائلٹ کو لائسنس جاری کرتی ہے، ایسے لگتا ہے جیسے پائلٹ چلتا ہوا میزائل اڑا رہے ہوں، وہ میزائل جو کہیں بھی جا کر مرضی سے پھٹ جائے۔ کرونا وائرس نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیا اور اس میں کافی سارے لوگ شامل ہیں۔حکومت کوئی کام نہیں کر رہی، صرف بیان بازی کر رہی ہے۔ لاتعداد گریجویٹس بے روز گار ہیں، انہیں کھپانے کیلئے حکومت کے پاس کوئی معاشی منصوبہ ہے تو سامنے لائے،ملک کی معیشت بیٹھ چکی ہے۔ عوام کو روٹی، پٹرول، تعلیم، صحت اور روزگار کی ضروررت ہے، عوام کو صحت، گندم اور چینی سمیت بنیادی ضروریات نہیں مل رہیں۔ جمعرات کو جعلی پائلٹس کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں پر چیف جسٹس نے نوٹس لے لیا ،چیف جسٹس نے ڈی جی سول ایوی ایشن سے جواب طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بتایا گیا 15 سال پرانے جہاز میں نقص نہیں، ملبہ پائلٹ اور سول ایوی ایشن پر ڈالا گیا، لگتا ہے ڈی جی سول ای ایشن کو بلانا پڑے گا۔دریں اثنا چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے کرونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ این ڈی ایم اے اربوں روپے ادھر ادھر خرچ کررہا ہے، نہیں معلوم این ڈی ایم اے کیسے کام کررہا ہے، این ڈی ایم اے کے اخراجات پر کوئی نگرانی ہے یا نہیں؟ این ڈی ایم اے باہر سے ادویات منگوا رہا ہے، نہیں معلوم یہ ادویات کس مقصد کے لئے منگوائی جارہی ہیں،دستاویز کے مطابق این ڈی ایم اے نے اپنے جہاز پر نجی کمپنی کے لئے مشینری منگوائی، کیا مشینری کی کسٹم ڈیوٹی ادا کی گئی۔جسٹس اعجازلاحسن نے استفسار کیا کہ باہر سے منگوائی جانے والی ادویات کس کو دی جاتی ہیں، ڈرگ ریگیولیٹری اتھارٹی نے کہا ہے کہ یہ درآمد کی گئی ادویات جس مریض کو دی جائیں ان کا ریکارڈ رکھا جائے۔ یہ دوا تشویشناک حالت کے مریضوں کے لئے ہے۔ بہتر ہوتا کہ کوائف اکٹھے کرنے کی ذمہ داری سرکاری اسپتالوں کو دی جاتی۔ اگر مریض کے کوائف اکٹھے کرنے شروع کردیں گے تو اتنی دیر میں مریض دنیا سے چلا جائے گا۔ مشینری منگوانے میں این ڈی ایم اے نے نجی کمپنی کو سہولت فراہم کی۔ مشینری پر کسٹم یا ٹیکس نجی کمپنی نے خود جمع کروائی۔ممبر این ڈی ایم اے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ 28 کمپنیوں نے مشینری باہر سے منگوانے کے لئے این ڈی ایم اے سے رابطہ کیا، یہ نجی کمپنیاں این 95 ماسک نہیں بنا رہی تھیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس طرح تو یہ نجی کمپنی این 95 ماسک بنانے والی واحد کمپنی بن گئی ہے۔ نجی کمپنی کا مالک دو دن میں ارب پتی بن گیا ہوگا، نہیں معلوم اس کمپنی کے پارٹنرز کون ہیں، ایسی مہربانی سرکار نے کسی کمپنی کے ساتھ نہیں کی، اس کے مالک کا گھر بیٹھے کام ہوگیا، نہیں معلوم کہ باقی لوگوں اور کمپنیوں کے ساتھ کیا ہوا، کرونا وائرس نے لوگوں کو راتوں رات ارب پتی بنا دیا۔ا س میں کافی سارے لوگ شامل ہیں۔ این ڈی ایم اے نے صرف ایک نجی کمپنی کو سہولت فراہم کی، کیا ایسی سہولت فراہم کرنے کے لئے این ڈی ایم اے نے کوئی اشتہار دیا؟ ہم چاہتے ہیں ہر چیز میں شفافیت ہو۔ این ڈی ایم اے کے کام میں شفافیت نظر نہیں آرہی، ایسی سہولت فراہم کریں تو ملک کی تقدیر بدل جائے، بیروزگاری اسی وجہ سے ہے کہ حکومتی اداروں سے سہولت نہیں ملتی۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ مزدور مشرق وسطی سے واپس آرہا ہے، یہ لوگ 3 ماہ جمع شدہ رقم سے نکال لیں گے۔ اس کے بعد مزدور کیا کریں گے، کیا حکومت کا کوئی پلان ہے۔ مشرق وسطی سے آنے والے پاکستانیوں کو کہاں کھپایا جائے گا، تعلیمی اداروں سے لوگ فارغ التحصیل ہو رہے ہیں ان کو کھپانے کا کیا طریقہ ہے،ہماری صحت اور تعلیم بیٹھی ہوئی ہے کوئی ادارہ بظاہر کام نہیں کررہا۔ ہر ادارے میں این ڈی ایم اے جیسا حال ہے، حکومت کی معاشی پالیسی کیا ہے وہ نہیں معلوم، اگر حکومت کی کوئی معاشی پالسی ہے تو بتائیں۔؟ حکومت عوام کے مسائل کیسے حل کرے گی۔ کیا عوامی مسائل پر پارلیمنٹ میں اتفاق رائے ہے۔جسٹس قاضی محمد امین نے کہا کہ آکسیجن سلنڈر کی قیمت 5 ہزار سے کئی گنا بڑھ گئی ہے، حکومت کہاں ہے؟ عوام کو روٹی، پیٹرول، تعلیم، صحت اور روزگار کی ضرورت ہے،سیاسی لوگ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے پر آگئے ہیں، ٹی وی پر بیان بازی سے عوام کا پیٹ نہیں بھرے گا۔

Facebook Comments
Share Button