تازہ ترین

GB News

شرح سود مزید کم، دو سال کی کم ترین سطح سات فیصد پر آگئی

Share Button

اسٹیٹ بینک نے شرح سود مزید ایک فیصد کم کرتے ہوئے 7 فیصد مقرر کردی ہے جس سے شرح سود دوسال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے،مارچ سے اب تک شرح سود میں 6.25 فیصد کی کمی کی گئی جبکہ شرح سود میں کمی سے حکومتی قرضوں میں 2100ارب روپے کی کمی ہوئی ہے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق مانیٹری پالیسی اجلاس میں مہنگائی کے منظر نامے اور معاشی سست رفتاری کو مدنظر رکھتے ہوئے شرح سود میں کمی کا فیصلہ کیا گیا، مارچ کے وسط سے اب تک شرح سود میں 625 بیسس پوائنٹس کی کمی آچکی ہے جب کہ شرح سود میں کمی کے فوائد گھرانوں اور کاروباری اداروں کو بروقت منتقل کیے جاسکیں گے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق کووڈ 19 کی عالمی وبا پاکستان سمیت بہت سی ابھرتی ہوئی منڈیوں میں پھیلتی جارہی ہے جب کہ کئی ممالک میں دوسری لہر آنے کے خطرات ہیں، ملک میں معاشی سست رفتاری برقرار ہے اور نمو میں کمی کے خطرات بڑھ گئے ہیں، جولائی 2020ء تک تقریباً 3.3 ٹریلین روپے کے قرضوں کے نرخ ازسرنو متعین کیے جانے ہیں جب کہ ملک کے اندر مضمر مہنگائی میں اعتدال آنے کا سلسلہ جاری ہے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عید کی تعطیلات کے دوران غذائی قیمتوں میں موسمی اضافے سے قطع نظر عمومی مہنگائی مئی میں مزید گھٹ کر 8.2 فیصد ہوگئی، مہنگائی میں کمی کا سبب ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ کمی ہے جب کہ اوسط مہنگائی اگلے مالی سال کے لیے پہلے اعلان کردہ حدود 7ـ9 فیصد سے کم رہ سکتی ہے۔اسٹیٹ بینک کے مطابق مرکزی بینک کو کثیر جہتی ایجنسیوں سے مزید رقوم ملی ہیں جن میں عالمی بینک سے 725 ملین ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 500 ملین ڈالر شامل ہیں جب کہ ایشیائی انفراسٹرکچر انوسٹمنٹ بینک سے مزید 500 ملین ڈالر جلد متوقع ہیں۔

Facebook Comments
Share Button