تازہ ترین

GB News

اپوزیشن سے کوئی دشمنی نہیں، لیڈر شپ کا احتساب ہوگا، عمران خان

Share Button

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خارجہ پالیسی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہے آج کسی کی جنگ لڑ رہے ہیں نہ ہی کوئی پاکستان کو دوغلا کہتا ہے، ٹرمپ بھی افغانستان میں مدد کے لیے درخواست گزار ہیں بھارتی غرور خاک میں مل چکا ہے۔بھارت پاکستان میں عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے اورفاٹا میں عدم استحکام لانا چاہتا ہے ، کرونا وائرس سے متعلق ہمارے جو فیصلے تھے ان میں بالکل تضاد نہیں آیا، 13 مارچ سے اب تک کا ایک بیان دکھا دیں جس میں تضاد ہو۔ کرونا اور ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھائیں گے،ہم سے جواب مانگا جارہا ہے جواب ان سے مانگا جائے جو ملک کو اس حال میں چھوڑ کرگئے۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں ، خارجہ پالیسی کامیاب ہے ، ماضی میں اتحادی ہونے کے باوجود ایبٹ آپریشن ہوا، اسامہ بن لادن کو شہید کردیاگیا ،اس وقت ہمیں ذلت کا نشانہ بنایا گیا ، ہمارے اوپر ڈرون حملے کئے گئے جبکہ اس کے مقابلے میں ہماری پالیسیوں کے نتیجے میں آج امریکی صدر ٹرمپ عزت دیتا ہے ، افغانستان میں تعان کی درخواست کرتا ہے ، سعودی عرب اور ایران نے ہمیں صلح کرانے کیلئے کہا ، امریکہ کے ساتھ برابری کے تعلقات ہیں،انھوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان بہت مواقع ہیں ، 5اگست کو کشمیر کو غیر قانونی طریقہ سے بھارت کا حصہ قرار دینے کی کوشش کی ، اب بھارت آزاد کشمیر کو اپنا حصہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے ، اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا، ہم نے بھارت میں الیکشن ہونے کا انتظار کیا، کشمیری پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ گئے ہیں ، بندوق کے زور پر تحریک روکی نہیں جا سکتی ، کرونا وائرس ختم ہوگا تو تحریک تیز ہوگی،ملکی حالات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ ریاست مدینہ کا فلسفہ نوجوانوں کو پڑھانا ہے، اپوزیشن سے کوئی دشمنی نہیں نہ بدلہ لینا چاہتا ہوں لیکن لیڈر شپ کا احتساب ہوگا، نیب میں نے نہیں بنایا ، سیاسی انتقام نہیں ہو رہا ، تمام اداروں میں مافیاز بیٹھے ہیں ، اگر احتساب نہیں ہوگا تو ملک بنانا ری پبلک بن جائے گا،کرونا اور ٹڈی دل کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ 30جنوری سے ٹڈی دل کے حوالے سے ہنگامی حالت کا اعلان کررکھا ہے ، این ڈی ایم اے کو اس پر کنٹرول کرنے کیلئے تمام اخراجات کا اختیارات دیے ہوئے ہیں، یہ پاکستان کیلئے بہت خطرناک ہوسکتا ہے ، اس کیلئے ہم کوئی کوتاہی نہیں کر رہے،کرونا کے بعد لاک ڈائون پر کسی ملک کے فیصلوں میں کنفیوژن نہیں تھا تو وہ پاکستان تھا،پہلے دن سے لیکر اب تک یہی کہہ رہا ہوں کہ ہم نے کرونا کے ساتھ لوگوں کو بھوک سے بھی بچانا ہے نیوزی لینڈ کی مثال نہیں دی جاسکتی کیونکہ وہاں آبادی پھیلی ہوئی ہے،ہمیں ایس اوپیزکی پیروی کرنا ہوگی،احتیاط نہ کی گئی تو ہمارے صحت کے شعبے پر دبائومزید بڑھے گا،ہمیں اپنے بوڑھوں اور بیماروں کو بچانا ہے، اگر بے احتیاطی کی گئی تو ہم بہت مشکل میں پڑ جائیں گے انھوں نے کہا کہ ہمیں 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ ملا، قرضے اس لئے لینا پڑے، وزیر اعظم ملک کے باپ کی طرح ہوتاہے اور قوم اس کے بچے ہوتے ہیں،انھوں نے کہا کہ 30سال سب سے زیادہ فنڈ ریزنگ میں نے کی کبھی اسپتالوں اور یونیورسٹیوں کے لئے پیسے مانگے،کبھی شرم نہیں آئی کیونکہ میں نے اپنے لوگوں سے پیسے مانگے لیکن جب ملک کے لئے غیروں کے پاس گئے تو بہت زیادہ شرم محسوس ہوئی،انھوں نے کہا کہ مارچ 2021تک یکساں نظام تعلیم اور مدارس کو قومی دھارے میں لائیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چینی کی قیمت بڑھنے پر ہم نے انکوائری شروع کردی۔ پتہ چلا شوگر مل ایسوسی ایشن قیمتوں کا فیصلہ کرتی ہے۔ شوگر ملز نے 29 ارب روپے کی سبسڈی لی اور9ارب روپے کا ٹیکس دیا

Facebook Comments
Share Button