تازہ ترین

GB News

شفاف انتخابات کی یقین دہانی

Share Button

نگران وزیراعلی حاجی میر افضل خان نے علامہ سید راحت حسین الحسینی سے ملاقات میں کہا ہے کہ ان کی اولین ترجیح علاقے میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنا’ بروقت صاف وشفاف انتخابات کرانا اور معاشرے میں انصاف قائم کرنا ہے۔ علامہ سید راحت حسین الحسینی نے اس موقع پر نگران وزیراعلی میر افضل خان کو یقین دہانی کرائی کہ وہ علاقے میں امن کو برقرار رکھنے، میرٹ کی بحالی اور معاشرے میں عدل وانصاف کو یقینی بنانے کیلئے نگران وزیراعلی اور نگران حکومت سے مکمل تعاون کریں گے۔ نگران وزیراعلی کی جانب سے شفاف انتخابات کی یقین دہانی خوش کن ہے ہمارا المیہ ہی یہ ہے کہ ہر انتخابات پر دھاندلی کی مہر چسپاں کر دی جاتی ہے یا پھر ہمارے سیاستدانوں کا یہ مزاج بن چکا ہے کہ اگر جیت جائیں تو شفافیت کا راگ الاپتے ہیں ہار جائیں تو دھاندلی کا شور مچاتے ہیں۔پاکستان میں ہونے والے وہ کون سے الیکشن ہیں جو شفاف نہیں ہوتے۔ اتنے شفاف ہوتے ہیں کہ ان کے آرپار دیکھا جاسکتا ہے۔اکثر فوک کو الیکشن کے لیے بلایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ الیکشن فوج نے اپنی نگرانی میں کرائے ہیں تو پھر الیکشن کمیشن کہاں ہوتا ہے ۔ قانونی طور پر الیکشن کرانے یا نہ کرانے کاکام صرف اور صرف الیکشن کمیشن ہی کا ہوتا ہے جس کی ذمہ داری بہر صورت الیکشن کمیشن ہی نے ادا کرنا ہوتی ہے دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک میں امن و امان کی ذمے داریاں اداکرنے کیلئے بلائے جانے والی کسی بھی ایجنسی کو الیکشن کمیشن بنتے ہوئے نہیںدیکھا جاتا’کوئی الیکشن ایسا نہیں جس کی نگرانی اور امن و امان کی ذمہ داری لا انفورسمنٹ ایجنسیوں کے حوالے نہ کی گئی ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے دوسرے جمہوری ملکوں میں اس بڑے پیمانے پر امن و امان کی صورت پیدا نہ ہوتی ہو لیکن دوران الیکشن ہر ملک میں امن و امان کی صورت حال کو ایجنسیاں ہی دیکھا کرتی ہیں ۔کہا جاتا ہے کہ کچھ غیر جمہوری قوتیں انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔آزادنہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کی طرف سے کیے جانے والے یہ اقدامات اور انتظامات ہی موثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں وقت کے ساتھ ہی ان کا اندازہ ہوتا ہے ۔ تاہم انتظامات اور اقدامات ماضی میں بھی ہر الیکشن کے موقع پر کیے جاتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود انتخابی نتائج جب بھی سامنے آئے تو انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کر سکنے والی جماعتیں ، سیاسی رہنما اور ناکام امیدوار انتخابات کے منصفانہ اور شفاف نہ ہونے کے بارے میں اعتراضات کرتے رہے ہیں۔تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ پولنگ سٹیشنز پر انتخابات میں دھاندلی کرنے یا انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے یا ریٹرنگ آفیسرز کے دفاتر میں پولنگ سٹیشنزسے موصول انتخابی نتائج کو کاریگری یا ہوشیاری سے کسی امیدوار کے حق میں تبدیل کرنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ پچھلی صدی کی ستر اور اسی کی دہائیوں میں ووٹرز کے لیے شناختی کارڈ کی پابندی لازمی نہیں تھی تو جعلی ووٹ پڑنے کے امکانات موجود تھے۔ بعد میں نوے کی دہائی میں اور اس کے بعد ہونے والے انتخابات میں شناختی کارڈ کی پابندی لازمی کر دی گئی تو خواتین کے شناختی کارڈز پران کی تصاویر نہیں ہوتی تھیں۔ اسی طرح الیکشن کمیشن کی طرف سے پولنگ سٹیشنز پر جو ووٹر لسٹ مہیا کی جاتی تھی ان پر ووٹرز کے شناختی کارڈز کے نمبر اور دیگر کوائف عام طور پر درج نہیں ہوتے تھے تو اس وقت بھی کچھ خرابیاں ہو سکتی تھیں۔ اب تو ووٹر لسٹ پر ہر ووٹر کا شناختی کارڈ نمبر، اس کے انگوٹھے کا نشان اور دیگر معلومات پوری تصریح کے ساتھ درج ہوتی ہیں ۔ اس صورت میں بغیر شناخت کے کسی فرد کا ووٹ پول کرنا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ البتہ پولنگ سٹیشنز پر انتخابی عملے کی کچھ نادانستہ غلطیاں یا بے ضابطگیاں یا مستعدی سے اپنے فرائض سرانجام دینے کی عدم اہلیت کی وجہ سے کچھ مسائل ضرور پید ا ہوتے ہیں جیسے مئی 2013 کے انتخابات میں سامنے آئے تھے۔ لیکن بحیثیت مجموعی ان کوتاہیوں اور بے ضابطگیوں کا پولنگ سٹیشنز کے انتخابی نتائج پر کوئی فیصلہ کن اثر مرتب نہیں ہوتا۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے الیکشن کے دوران سکیورٹی کے فرائض سرانجام دینے کے لیے فوج کی خدمات طلب کی جاتی ہیں فوجی جوانوں کو الیکشن ڈیوٹی کے دوران اپنے فرائض سرانجام دینے کے لیے ایک مفصل ہدایت نامہ بھی جاری کیا جاتا ہے جس کے تحت پولنگ سٹیشن میں ڈیوٹی پر موجود فوجی جوان ووٹ ڈالنے کے عمل کی نگرانی یا مانیٹرنگ بھی کرتے ہیں ۔اس کے باوجود بھی اگر کچھ حلقوں کے تحفظات موجود ہوں تو الیکشن کمیشن کا فرض بنتا ہے کہ وہ ان تحفظات کا ازالہ کرے اور ایسے انتظامات اور اقدامات کو یقینی بنائے جن سے آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کا عمل خوبصورتی اور خوش اسلوبی سے مکمل ہو سکے۔انتخبات کو شفاف ہی ہونا چاہیے پاکستان بننے کے فورا بعد 1947، 1948،1949 میں سرحد’سندھ اور بلوچستان میں منتخب حکومتیں ختم کی گئیں۔ 1947 سے 1951 کے درمیان سندھ میں غلام حسین ہدایت اللہ، ایوب کھڑو دو مرتبہ پیر الہی بخش، یوسف ہارون، قاضی فضل اللہ، یعنی چھ وزرائے اعلی آئے۔ اسمبلی نے اپنی آئینی مدت پانچ سال میں مکمل کرنی تھی، لیکن اس پانچ سال کی مدت میں چھ وزرائے اعلی لائے گئے۔ مجموعی طور پر ایک وزیر اعلی ایک سال سے بھی کم مدت مکمل کر سکا۔ اس کے بعد 1951 میں سندھ میں گورنر راج نافذ کر دیا گیا۔ 1953 میں جھرلو الیکشن کروائے گئے اور پھر اس اسمبلی سے متنازع ون یونٹ کے حق میں قراداد پاس کروائی گئی۔سندھ کی قومی اور صوبائی حیثیت کو ختم کر دیا گیا۔ اس طرح جس آئین ساز اسمبلی میں دیگر صوبوں نے شمولیت اختیار کرنی تھی، وہ آئین ساز اسمبلی جس نے فیڈریشن بنانا تھی، اسی اسمبلی کے ذریعے فیڈریشن بنانے میں تاخیر کی گئی کہ کہیں آئین کے تحت ہوئے انتخابات صاف و شفاف نہ ہو جائیں۔ اس کے نتیجے میں آئین ساز اسمبلی، جس میں صوبے شامل ہوئے تھے، کو اکتوبر 1954 میں توڑ دیا گیا، اور ملک پر ون یونٹ مسلط کیا گیا اور اور پھر 1956 میں ایک آئین مسلط کر دیا گیا۔ بنگال سمیت پاکستان کے پانچ صوبے تھے، لیکن اس آئین کے تحت صرف دو صوبے یعنی مغربی اور مشرقی پاکستان بنا دیے گئے۔ انتہائی اہم بات یہ ہے کہ اس مسلط شدہ آئین کے تحت انتخابات فروری 1959 میں کرانے کا اعلان کر دیا گیا، پر اس سے پہلے ہی آئین کو سبوتاژ کرتے ہوئے 1958 میں مارشل لا لگا دیا گیا۔ایوب، غلام محمد اور اسکندر مرزا کی آپسی گیم تو 1955 میں ہی شروع ہو گئی تھی۔ اسکندر مرزا 1955 میں علاج کی غرض سے لندن گئے اور گورنر جنرل غلام محمد کو ہٹا کر خود ہی گورنر جنرل بن گئے تھے۔ پھر 1958 میں ایوب خان نے اپنے محسن اسکندر مرزا جس نے جونئیر ہونے کے باوجود اسے چیف آف آرمی سٹاف بنایا تھاکو ہٹا دیا تھا۔ ان سب نے سازش کرتے ہوئے نہ صرف فیڈریشن نہیں بننے دی بلکہ اقتدار کی ہوس کی وجہ سے کسی حکومت کو چلنے نہیں دیا۔ 1951 سے 1958 تک سات وزرائے اعظم تبدیل ہوئے، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ کسی طرح صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد نہ ہو اور ملک میں متفقہ آئین نہ لایا جا سکے۔ ایوب خان نے اپنے اقتدار کو وسعت دینے کے لئے جنگ بھی کی۔ مطلب الیکشن نہ کرانے کی خاطر جنگ میں کود پڑے۔ اسی طرح جنرل یحیی نے ایل ایف او کے تحت الیکشن کرائے۔ دسمبر 1970 میں کرائے گئے انتخابات کے بعد حکومت عوامی نمائندوں کو منتقل کرنے کے بجائے الیکشن نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا اور پھر جنگ شروع ہو گئی جس کے بعد ملک دو لخت ہو گیا۔اب اندازہ ہوگیا ہوگا کہ صاف و شفاف الیکشن کے خوف سے اور اپنے اقتدار کو طول بخشنے کے لئے جنگیں کی گئیں، اس کے باجود آج تک ملک میں صاف و شفاف انتخابات کو بنیادی مسئلہ قرار نہیں دیا جا سکا، حالانکہ اسی وجہ سے ملک دو لخت ہوا تھا۔اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابات کے جمہوری عمل کو خواہ وہ کسی بھی سطح پر ہو شفاف بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

Facebook Comments
Share Button