تازہ ترین

GB News

بھارت کے غیر قانونی اقدامات کا تسلسل

Share Button

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر کے آبادیاتی تناسب میں تبدیلی کی سازشوں میں مصروف ہے، 25 ہزار غیرقانونی ڈومیسائل کے اجرا کو مسترد کرتے ہیں۔دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ہندو آباد کاری کے لیے پچیس ہزار غیر قانونی ڈومیسائل دے رہی ہے، پاکستان بھارتی سرکار کے اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔پاکستان نے کہا ہے کہ حالیہ بھارتی اقدامات پانچ اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کا تسلسل ہیں، یہ اقدامات بی جے پی، آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ ہیں، بھارت مقبوضہ کشمیر کی آبادیاتی تناسب میں تبدیلی کی سازشوں میں مصروف ہے، بھارت ایسا کرکے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبانے کی سازش کر رہا ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی ڈومیسائل دینے کا عمل مسترد کردیا ہے، کشمیریوں نے بھی ان بوگس ڈومیسائل کومسترد کردیا، ڈومیسائل بھارتی سرکاری حکام سمیت غیر کشمیریوں کو دیئے گئے، ڈومیسائل کا اجرا سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے۔کون نہیں جانتا کہ مودی حکومت نے اگست 2019 میں اسی قانون کے ذریعے مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو دو حصوں لداخ اور جموں و کشمیرمیں تقسیم کردیا۔جس کے مطابق بھارت کا جو غیر کشمیری شہری پندرہ برس سے جموں و کشمیر یا لداخ میں مقیم ہے وہ اب دونوں وفاقی علاقوں کا مستقل شہری بن سکے گا۔جن غیر کشمیری بھارتیوں نے سات برس جموں و کشمیر یا لداخ میں تعلیم پائی ہے، وہ بھی ان وفاقی علاقوں کے مستقل شہری بن جائیں گے۔جو غیر کشمیری بھارتی جموں و کشمیر یا لداخ میں میٹرک یا انٹر کے امتحانات میں شریک ہوئے، وہ بھی دونوں وفاقی علاقوں کے مستقل شہری بن سکیں گے۔جن غیر کشمیری بھارتیوں کو جموں و کشمیر یا لداخ کا مستقل شہری بنایاگیا ان کے بچے بھی یہی سہولت پا سکیں گے۔بھارت کی مسلح افواج نیم عسکری دستوں افسر شاہی نیم سرکاری اداروں سرکاری تعلیمی اداروں کے جو ارکان دس برس تک جموں و کشمیر یالداخ میں مقیم رہے ہیں وہ چاہیں تو ان وفاقی علاقوں کے مستقل شہری بن سکتے ہیں۔ یہی نہیں ان کے بچے بھی مستقل شہری بن جائیں گے۔حالیہ تبدیلیوں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ مودی سرکار قانون کا سہارا لے کر جموں و کشمیر اور لداخ میں زیادہ سے زیادہ ہندو آباد کر کے ان علاقوں میں مسلمانوں کی آبادی کم سے کم کرنا چاہتی ہے۔ مقصد یہ کہ مستقبل میں مسلمان اپنی اکثریت کے بل بوتے پر جموں و کشمیر یا لداخ کو پاکستان میں شامل کرانے یا انہیں آزاد و خود مختار بنانے کا مطالبہ نہ کر سکیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر بھارت کے قبضے میں رکھنے کی خاطر یہ ہندو قوم پرست تنظیم آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں کی بنیادی چال ہے۔اسے اپنانے کے لیے ہی بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کیا گیا جس نے ریاست جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ عطا کر رکھا تھا اور غیر کشمیری وہاں آباد نہ ہو پاتے ۔قوانین کی آڑ میں کشمیری مسلمانوں پر ظلم وستم ڈھانا نئی ریت نہیں۔مسلمانانِ کشمیر پچھلے دو سو برس سے غیر مسلم حکمرانوں کے جبر و زیادتی سے بھرے ادوار برداشت کر رہے ہیں۔ رنجیت سنگھ نے 1820 میں ریاست جموں و کشمیر پر قبضہ کیا تھا۔ غیر مسلم حکمرانوں نے پھر ریاست میں مسلم مخالف قوانین متعارف کرائے۔گائے کے ذبیح پر سزائے موت متعارف کرائی۔مسلمانوں پر بھاری ٹیکس عائد کیے اور اسلامی عبادات ادا کرنے پر پابندی لگا دی۔1846 میں ریاست پر ہندو ڈوگرا راجا گلاب سنگھ نے قبضہ کر لیا۔ گلاب سنگھ اور اس کا باپ کشور سنگھ رنجیت سنگھ کی فوج سے بطور جرنیل وابستہ تھے۔ان کا جموں کے شاہی خاندان سے تعلق تھا۔ باپ بیٹے کی خدمت سے متاثر ہو کر رنجیت سنگھ نے انہیں جموں کا حاکم بنا دیا۔ گلاب سنگھ نے مگر اس احسان کے بدلے نہ صرف سکھ حکمرانوں سے غداری کی بلکہ ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا۔رنجیت سنگھ کی موت کے بعد تخت لاہور پر قبضے کی خاطر اس کے ورثا میں خانہ جنگی شروع ہو ئی۔ اس خانہ جنگی سے فائدہ اٹھا کر انگریزوں نے پنجاب پر حملہ کر دیا۔ سکھ چاہتے تھے کہ گلاب سنگھ اپنی فوج لا کر ان کے ساتھ انگریزوں سے مقابلہ کرے۔ مگر گلاب سنگھ حیلے بہانوں سے کام لیتا رہا اور پنجاب نہ گیا۔ چنانچہ انگریز فوج نے مختلف لڑائیوں میں سکھوں کو شکست دی اور پنجاب پر قبضہ کر لیا۔سکھوں سے غداری کرنے پر انگریزوں نے گلاب سنگھ کو بطور انعام کشمیر کا علاقہ 1846 میں صرف پچھتر لاکھ روپے کے عوض سونپ دیا ۔ یوں گلاب سنگھ ریاست جموں و کشمیر کا مہاراجا بن بیٹھا۔ مگر اسے یہ مقام اپنی ذہانت یا بہادری کے بل بوتے پر نہیں بلکہ اپنے محسنوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے ملا ۔ اسی لیے آج بھی سکھ گلاب سنگھ کو ناپسند کرتے اور اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔صوفیا کرام کی تبلیغ اور چار سو سالہ مسلم دور اقتدار کے باعث ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی کثرت ہو چکی تھی۔یہ کشمیری اپنی آزادی اور خود مختاری کے سلسلے میں حساس تھے۔ یہی وجہ ہے، جب مغلوں نے کشمیر پر قبضے کی کوششیںکیں، تو ان کا مقابلہ کیا۔ کئی سال بعد اکبر کے دور میں ہی مغل فوج کشمیر پر قبضہ کرسکی۔ تاہم عام کشمیری مغل حکمرانوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔ 1748 میں افغانوں نے کشمیر پر اپنی حکومت قائم کرلی۔ کشمیری ان سے بھی نبرد آزما رہے۔رفتہ رفتہ باہمی لڑائیوں اور خانہ جنگی نے ہندوستانی مسلمانوںکو کمزور کردیا۔ان کا اتحاد انتشار میں بدل گیا۔ اس صورت حال سے ہندوستان کی غیر مسلم قوتوں نے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے مسلمانوں کے کئی علاقوں پر قبضہ کرلیا جن میں کشمیر بھی شامل تھا۔ہندوستان کے دیگر علاقوں میں تو پھر مقامی سطح پر اثر و رسوخ والی مسلم اشرافیہ موجود تھی۔اسی لیے ان علاقوں میں انگریز حکمران مسلمانوں پر زیادہ ظلم نہیں کر سکے۔ جموں و کشمیر میں مگر ہندو ڈوگرا حکمرانوںنے مسلمان رعایا کو اپنا غلام بنا لیا۔ ان کی فوج اور افسر شاہی سو فیصد غیر مسلموں پر مشتمل تھی۔ اسی واسطے ڈوگرا حکومت نے مختلف مسلم دشمن قوانین اور طور طریقوں سے مسلمانان جموں و کشمیر کا جینا عذاب بنا دیا۔ انگریز کے لیے جموں و کشمیر کا علاقہ بنجر، ویران اور دور دراز واقع تھا۔ اسی واسطے وہ وہاں حکومت کرنے کے خواہشمند نہیں تھے۔ انہوں نے اسے گلاب سنگھ کو کوڑیوں کے مول دے دیا۔ حتی کہ معاہدے میں یہ بھی لکھا کہ ریاست پر گلاب سنگھ اور اس کے ورثا تا عمر حکومت کرسکتے ہیں۔اس شق سے عیاں ہے کہ انگریز خطہ ِکشمیر اپنے قبضے میں لینے کی تمنا نہیں رکھتے تھے۔رفتہ رفتہ مگر انہیں اس خطے کی اسٹریٹجک اہمیت کا احساس ہوا۔ جب روسی ہندوستان کے دروازے پر آپہنچے اور چین میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو انگریز چوکنا ہوئے۔ پڑوسی مہا طاقتوں کا مقابہ کرنے کی خاطر فیصلہ ہوا کہ خطہ ِکشمیر میں اپنا اثرورسوخ بڑھایا جائے۔ انگریز خصوصا خطے میں سڑکیں تعمیر کرنا چاہتے تھے تاکہ وہاں فوجی چوکیاں قائم کرنے میں آسانی رہے۔ یہی وجہ ہے، انگریز جموں میں پر پھیلانے لگے۔ریاست میں 1851 سے انگریزوں کا نمائندہ، آفیسرآن اسپیشل ڈیوٹی کام کررہا تھا مگر اس کا اثرورسوخ بہت محدود تھا۔ وجہ یہ کہ گلاب سنگھ کا بیٹا، رنبیر سنگھ اپنی ریاست میں بلاشرکت غیرے حکمرانی کرنا چاہتا تھا۔ وہ ایک طاقتور حکمران تھا، اسی لیے انگریز اس سے خائف رہے۔ تاہم انہوں نے 1877 میں گلگت میں پولیٹکل ایجنٹ تعینات کرنے میں کامیابی پالی۔اپریل1884 سے رنبیر سنگھ کی صحت بگڑنے لگی اور یہ آشکار ہو گیا کہ اگلے چند ماہ میں وہ مر جائے گا۔ رنبیر کے تین بیٹے تھے۔ وہ اپنے سب سے چھوٹے بیٹے امر سنگھ کو ذہین سمجھتا اور اسے اگلا حکمران بنوانا چاہتا تھا مگر انگریزوں کی خواہش تھی کہ اس کا بڑا بیٹا پرتاب سنگھ نیا مہاراج بن جائے کیونکہ وہ کمزورشخصیت کا مالک تھا۔اس سے اپنی خواہشات پر عمل کرانا آسان ثابت ہوتا۔انگریز پھر دونوں بیٹوں سے سودے بازی کرنے لگے۔یوں ریاست کے معاملات میں ان کا عمل دخل پہلے سے بڑھ گیا۔ اب مسلمانان کشمیر کو ایک نہیں دو غیر مسلم حکمرانوں کی چیرہ دستیوں کا نشانہ بننا پڑا۔ مسلمانان کشمیر آج بھی ان کے اقدامات کی سزا بھگت رہے ہیں اور دنیا مکمل خاموش ہے اس پس منظر میں عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ اس صورتحال کا نوٹس لیں کشمیروں کو ان کا ازلی حق دلانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

Facebook Comments
Share Button