تازہ ترین

GB News

سکردو، ترقیوں میں ایک بار پھر ہیرا پھیری، سینئر اساتذہ نظرانداز

Share Button

سکردو (چیف رپورٹر) محکمہ تعلیم کی محکمانہ ترقیوں میں سینئر اساتذہ کو ایک مرتبہ پھر نظر انداز کردیاگیاہے اور ترقیوں میں پھر ہیرا پھیری کی شکایات سامنے آگئی ہیں ترقیوں سے محروم اساتذہ کے معاملے پر سابق ڈائریکٹر تعلیم بلتستان ڈویڑن مجید خان کی ہدایت پر 16جون 2014میں باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی کمیٹی نے طویل عرصہ تحقیقات کے بعد رپورٹ پیش کی رپورٹ میں سینئر اساتذہ کے ساتھ زیادتی ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے انہیں ترقیاں دینے کی سفارش کی گئی تھی کمیٹی کی سفارش کی روشنی میں بارہ فروری 2016کو نئی سنیارٹی لسٹ میں ترقیوں سے محروم رہ جانے والے سینئر اساتذہ کے نام شامل کرکے کیس ڈائریکٹر ایجوکیشن گلگت کو ارسال کیاگیا ڈائریکٹر ایجوکیشن گلگت نے مذکورہ کیس کو گلگت بلتستان کی سطح پر بننے والی سینیارٹی لسٹ میں شامل کرکے تیس مئی 2016کو پچھلی تاریخوں میں سینئر اساتذہ کو ترقیاں دینے کی سفارش کرتے ہوئے کیس کو ڈپارٹمنٹل پروموشن کیلئے سکریٹری تعلیم کو بھیجا 2016سے 2019تک”کیس” التو میں رکھنے کے بعد 6مئی 2019کو ڈائریکٹر جنرل آف سکولز گلگت بلتستان کی طرف سے ”پرسنل ہیرنگ”کا لیٹر جاری کیاگیا مگر ترقیوں سے محروم سینئر اساتذہ ڈی جی تعلیم کی عدالت میں پیش ہونے کے منتظر ہی تھے کہ ڈپارٹمنٹل پروموشن میں جونیئر اساتذہ کو ترقیاں دی گئیں اور 1990اور 1992میں بھرتی ہونے والے سینئر ترین بزرگ اساتذہ کو ترقیوں سے ایک مرتبہ پھر محروم کردیاگیا ترقیوں سے محروم رہ جانے والے اساتذہ نے زیادتیوں کے خلاف سپریم اپیلیٹ کورٹ اور نیب کا دروازہ کھکھٹانے کا اشارہ دیا ہے اور کہاہیکہ سینئر ترین اساتذہ کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک روا رکھاگیا ڈی جی تعلیم کی بیجا مداخلت سے ہمارا کیس ایک دفعہ پھر لٹک گیا ہے ترقیاں سیاسی بنیادوں پر دی جارہی ہیں جس کی وجہ سیجہاں ادارے کاوقار مجروح ہوا ہے وہیں سینئر ترین اساتذہ بھی ذہنی اذیت میں مبتلا ہوگئے ہیں۔

Facebook Comments
Share Button