تازہ ترین

GB News

آمدہ انتخابات اورووٹ کی امانت

Share Button

گلگت بلتستان اسمبلی کی مدت ختم ہونے کے بعد اگلے انتخابات کے لیے تیاریاں عروج پر ہیں عوام جانتے ہیں کہ جنہیں وہ ووٹ دیتے ہیں انہیں پانچ سال کے لیے اپنی قسمت کے فیصلے سونپ دیتے ہیں اس لیے ووٹ کا استعمال سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے تاکہ یہ امانت صحیح امانت دار تک پہنچے ہمیں جان لینا چاہیے ووٹ قوم کی امانت ہے اسے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر استعمال نہ کیجئے پانی نہیں آرہا ، تنخواہ نہیں بڑھ رہی ، نوکری نہیں مل رہی ، بجلی نہیں ہے ، گھر سے باہر نکلتے ہیں تو سڑکیں ٹوٹی ہو ئی ہیں ، گٹر ابل رہے ہیں ، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر ہیں ، نہ تعلیم اچھی مل رہی ہے نہ ہی صحت کی بہتر سہولتیں موجود ہیں مگر پھر بھی ووٹ اپنے لیڈر کو ہی دینا ہے ‘اقتدار میں اپنی پارٹی کو ہی لانا ہے ‘یہ سب ٹھیک ہے مگر یہ تو بتائو ان سب نعروں کے ذریعے کیا تمھارے بچے اچھی تعلیم حاصل کر سکے ہیں کیا علاج کی بہتر سہولتیں مل رہی ہیں کیا تمھاری گلیاں صاف ہوگئی ہیں کیا نلکو ں میں پانی آرہا ہے’ کیا بجلی ہر وقت موجود ہے کیا معاشرے سے جرائم ختم ہو گئے ہیں کیا مظلوموں کو انصاف مل گیا ہے ‘اگر ان سوالوں کے جواب نفی میں ہیں تو پھر اپنی پارٹی اور اپنا لیڈر کیوں کرتے ہو انتخاب سے پہلے احتساب کیوں نہیں کرتے ۔ جن مکانوں کو خریدنے کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے ان کوٹھیوں اور بنگلوں کی قیمتیں یہ لوگ 120 گز کے مکان کی قیمت سے بھی کم بتا تے ہیں کیا تم جانتے ہو ان لوگوں کی اوطاقوں میں لوگوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے ،کھیتوں میں کام کرنے والے ہاریوں کو مکمل معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا ۔ گائوں دیہاتوں میں رہنے والے تمھارے جیسے سادہ لوح لوگوں کو پڑھنے بھی نہیں دیا جاتا ، ان کے ہاں سوال نہیں کیا جا سکتا ،صرف حکم کی تعمیل کی جاتی ہے ۔ کسی وڈیرے جاگیردار کے کھیتوں کی طرف جانے والے ندی نالوں سے پانی نکالنے والوں کو قتل کر دیا جاتا ہے ان لوگوں کو انصاف ملنا دیوانے کا خواب تو ہوسکتا ہے مگر کبھی پورا نہیں ہوسکتا ۔کیا کبھی تم نے سوچا کہ تمھارے ووٹوں سے اقتدار میں جانے والوں کے اثاثے کتنے ہیں کیا کبھی سوچا کہ ان سیاستدانوں کے بچے کہاں پڑھتے ہیں کیا کبھی سوچا کہ ان کے بچے چھٹیاں منانے کے لیے یورپ امریکا جاتے ہیں’ کیا کبھی سوچا کہ اگر یہ لوگ بیمار ہوجائیں تو علاج کے لیے لندن امریکا کیوں جاتے ہیں ‘اگر نہیں سوچا تو پھر اب سوچ لیجئے کہ ایسا کیوں ہے کیا ہم سب ذہنی غلام ہیں کیا ہم دور جاہلیت میں جی رہے ہیں ‘ کیا ہمارے بچوں کو جینے کا حق نہیں ہے کیا تم نہیں چاہتے کہ تمہاری سڑکیں بھی کشادہ ہوں اور تمھارے گھروں کے باہر صفائی کے انتظامات بھی بہتر ہوں کیا تم نہیں چاہتے کہ تمہارے بچے بھی اعلی اور معیاری تعلیم حاصل کرسکیں ۔کیا تم نہیں چاہتے کہ تمہارے علاقے میں بھی بہترین اسپتال ہوں ۔اگر یہ سب چاہتے ہو تو پھر اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کرنا سیکھو ۔انتخاب سے پہلے احتساب کرنا سیکھو ۔فیصلہ کرلو کہ کون ہمارے حق میں بہتر ہے اور کون نہیں ۔ کو ن ہے جو ہمارے لیے لڑنا چاہتا ہے کون ہے جو ہمارے لیے جینا چاہتا ہے ۔ کیا تم چا ہتے ہو کہ تم میں سے کوئی ایسا شخص تم پر حکومت کرے ، جو تمہارے جیسا ہو جس کے بچے بھی تمھارے بچوں کی طرح گلیوں میں کھیلتے کودتے ہوں جس کے بچے بھی تمہارے بچوں کے جیسے اسکولوں میں پڑھتے ہوں ‘جو اپنے علاج کے لیے لندن امریکا جانے کے بجائے اسی ملک میں علاج کرانے کو ترجیح دیتا ہو ۔اگر چاہتے ہو کہ نظام بدلے تو پھر اٹھو اپنے حق کے لیے اور جیو اپنے اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ۔اگر ووٹ کا استعمال صحیح نہیں کرتے تو پھر سوال کرو اور اس کا جواب خود تلاش کرو۔۔ کیا ہم دور جاہلیت میں جی رہے ہیں ؟خطے کی تعمیر وترقی کے لیے ہمیشہ دیانت دار قیادت کو ترجیح دیں تاکہ آئندہ آنے والی نسلوں کا مستقبل بہتر ہوسکے ۔یاد رہے جمہوریت کے اسلامی اور غیر اسلامی ہونے کی اس اجتہادی اور علمی بحث میں آج تک جمہوریت مخالف سوچ اپنا کوئی متبادل نظام نہیں دے سکی۔ اسلام کا شورائی نظام جمہوریت کا ہی آئینہ دار ہے اور اسلام اپنے مزاج کے اعتبارسے عام کا مذہب ہے نہ کہ خواص کا۔موجودہ جمہوریت ارتقائی صورت میں آج ہمارے سامنے ہے ۔انفرادی حیثیت سے معاملات میں آمرانہ رویہ ہمیشہ سے ناپسندیدہ رہا ہے جبکہ اجتماعیت اور شورائیت کے نتیجے میں طے پانے والے امور ہمیشہ باعث برکت ٹھہرے۔جمہوریت اگرچہ مملکت کو چلانے کا ایک نظام ہے جس میں کمزوریاں اور نقائص بھی ہوسکتے ہیں تاہم ان کی اصلاح بھی ایک مسلسل انتخابی عمل سے ہی ممکن ہے ۔ان کمزوریوں کی بنیاد پر جمہوریت کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنانا کم علمی وکم عقلی ہے۔امر واقع یہ ہے کہ ہمارے ہاں ایک ایسا گروہ بھی پایا جاتا ہے جو جمہوریت دشمنی کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا مگرزمانے کی گردش اور حالات کے سبب انہیں بھی مجبوراجمہوریت کے سایہ عاطفت میں پناہ لینا پڑ رہی ہے۔ اگر عوام پاکستان میںاپنے ووٹ کی طاقت سے ان لوگوں کا انتخاب کرلیں جو عوام دوست ہیں تو فلاحی ریاست بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جاسکتا ہے۔پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک جہاں پر حکومت کا انتخاب کرنے کے لئے ووٹ ڈالے جاتے ہیں ان ممالک میں موجود تمام سیاسی اور مذہبی سیاسی جماعتیں یہ سمجھتے ہوئے کہ انتخابات کے ذریعے سے وہ اپنے نمائندوں کو چن سکتے ہیں اسی جذبے کے تحت انتخابات میں بھرپور حصہ لیتی ہیں۔ ایسے تمام اسلامی ممالک جہاں حکومتیں انتخابات کے نتیجہ میں بنتی ہیں اس طریقہ کار میں اب کوئی قباحب نظر نہیں آتی۔ میڈیا اور ذرائع رسل و رسائل نے لوگوں کی سوچ کی پہلے سے کہیں زیادہ بہتر بنا دیا ہے اور اب وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنے ووٹ کے ذریعے کن لوگوں کو اسمبلیوں میں پہنچانا ہے نیز یہ کہ لوگوں کو اس شعور کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے کہ ووٹ ایک شرعی امانت ہے اور گواہی کے زمرے میں لاتے ہوئے درست اور اہل امیدوار کو دیدیا جائے تو کوئی قباحت نہیں ہے۔ہرجمہوری ملک میں ووٹ ایک آئینی حق ہے اور یہ حق کسی مخصوص جماعت یاکسی قوم وقبیلہ یا کسی منفرد طبقہ ومذہب کا حق نہیں ہے بلکہ یہ حق ہر اس شہری کا ہے جو 18سال کی عمر کو عبور کرگیا ہو، گویا ہر بالغ مرد وعورت کا ووٹ یکساں حق ہے جمہوری نظام میں ووٹ ہی سب سے بڑی طاقت ہے اور یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ جمہوری نظام میں چاہے امیر ہو یا غریب پڑھا لکھا ڈگری یافتہ ہو یا پھر جاہل ان پڑھ گوار سب کے ووٹ کی حیثیت و قیمت برابر ہے’جمہوری نظام کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ الیکشن ، ووٹ اورووٹر ہی کسی لیڈر یاپارٹی کو شکست سے دوچار کرکے لمحوں میں عرش سے فرش پر پہنچا سکتے ہیں جمہوری نظام کسی پارٹی یا لیڈر کو سبق سکھانے کا، اپنی طاقت کا احساس دلانے ، اورجامع انقلاب برپا کرنے کا بہترین طریقہ اور درست راستہ ہے اسلئے ضرورت اس بات کی ہے اپنے ووٹ کی اہمیت سمجھتے ہوئے اس کا صحیح اور برمحل استعمال کی نہ صرف کوشش کریں بلکہ اس کے لئے بیداری اور غفلت ولاپرواہی سے بچنے کی تحریک چلانا اور کسی بھی طرح اس کو ضائع ہونے سے بچانا آپ کی ذمہ داری ہی نہیں؛ بلکہ آپ کا قومی فریضہ بھی ہے اس لئے اپنے ووٹ کا صحیح جگہ پر درست استعمال کریں، پوری ہوشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کریں، پارٹی یا لیڈر کے انتخاب میں معمولی چوک بھی آپ کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے یادرکھیں کہ یہ موقع پھر پانچ سال بعد ہی آپ کو میسر آسکتاہے تب حالات کیاہوں قبل از وقت کچھ نہیں کہاجاسکتا’ اس لیے یہ جائزہ لیجیے کہ کون آپ کے ووٹ کی اہمیت سمجھتا ہے کون حقیقی معنوں میں خطے اور عوام کی فلاح و بہبود چاہتا ہے’کون آپ کے زخموں کا مرہم بن سکتا ہے کسے آپ کے مسائل کے حل سے دلچسپی ہے ووٹ کی امانت اس کے سپرد کر دیجیے۔

Facebook Comments
Share Button