تازہ ترین

GB News

پاکستان سٹاک ایکسچینج: دہشتگردوں کے حملے کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت 4افراد شہید

Share Button

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان سٹاک ایکسچینج پر دہشتگردوں کے حملے کے نتیجے میں پولیس اہلکار سمیت 4افراد شہید ہوگئے جب کہ فورسز کی جوابی کارروائی میں چاروں دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کے مطابق پیر کی صبح 10 بجے کے قریب 4 دہشتگردکار میں سٹاک ایکسچینج پہنچے دہشت گردوں نے پہلے اسٹاک ایکسچینج کے گیٹ پر دستی بم حملہ کیا اور پھر اندھا دھند فائرنگ کردی ، گارڈز نے حملہ ہوتے ہی فوری ایکشن لیتے ہوئے جوابی فائرنگ کی اور انھیں اندرداخل ہونے سے روکا ، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور آپریشن شروع کردیاجس سے دہشت گردوں کا سٹاک ایکس چینج میں لوگوں کو یرغمال بنانے کا منصوبہ ناکام ہوگیا، چاروں دہشتگردوں نے ٹی شرٹ ، جینز اور ٹراؤزر پہنے ہوئے تھے، دہشتگردوں کی جیبوں سے شناخت کی کوئی چیز نہیں نکلی ، حملہ آوروں کی عمریں 22 سال سے 28 برس کے درمیان ہیں۔دوسری جانب پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ 2 سے 3 مشتبہ افراد کو پولیس نے جائے وقوعہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق پولیس ترجمان نے بتایا کہ دہشتگردوں کے حملے میں ایک پولیس سب انسپکٹر اور اسٹاک ایکسچینج کے 3سیکیورٹی گارڈ شہید ہوگئے، اس کے علاوہ پولیس اہلکار سمیت 7 افراد زخمی ہوئے ہیں۔حملے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے قریبی علاقوں کا مکمل محاصرہ کرلیا جب کہ آئی آئی چندریگر روڈ کو میری ویدرٹاور اور شاہین کمپلیکس سے ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ دہشتگرد جدید اسلحہ سے لیس تھے اور ان کے پاس ہینڈ گرینیڈ بھی موجود تھے۔کراچی پولیس کے سربراہ غلام نبی میمن نے حملے کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ 4 دہشتگردوں نے اسٹاک ایکسچینج پر حملے کی کوشش کی لیکن فورسز نے بھرپور جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں چاروں دہشتگرد مارے گئے۔غلام نبی میمن نے بتایا کہ دہشتگرد پارکنگ ایریا سے سلور رنگ کی کار میں آئے تھے ان کے پاس اسلحہ اور گولہ بارود بھی تھا جو فورسز نے قبضے میں لے لیا ہے۔ایڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے،ترجمان سندھ رینجرز نے بھی آپریشن میں تمام دہشتگردوں کے مارے جانے کی تصدیق کی۔پولیس کے مطابق کلیئرنس آپریشن کے لیے عمارت کو مکمل طور پر خالی کرالیا اور عمارت کو بند کرکے آپریشن کیا گیا، سرچ آپریشن کے بعد عمارت کو کلیئر کردیا گیا جس کے بعد اسٹاک ایکسچینج میں معمول کیمطابق کاروبار شروع ہوگیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے پاس موجود جدید اسلحہ،دستی بم اوردیگر اشیاء کو بھی قبضے میں لے لیا گیا جب کہ دہشتگردوں کی زیراستعمال گاڑی کی رجسٹریشن کی معلومات حاصل کی جارہی ہیں اور گاڑی کے مالک کا پتہ چلنے کے بعد تحقیقات مزید آگے بڑھائی جائیں گی۔محکمہ انسداد دہشتگردی کے انچارج راجہ عمر خطاب کا کہنا تھا کہ ایک دہشتگرد کی شناخت سلمان کے نام سے ہوئی ہے جو بلوچستان کا رہائشی تھا۔راجہ عمر خطاب کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد ہونے والی کار ریکارڈ میں کلیئر ہے لیکن برآمد ہونے والی کار نمبر بی اے بی 629 ہلاک دہشتگرد کے نام پر ہے۔راجہ عمر خطاب کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے طویل دورانیے تک لڑنے کا سامان جمع کر رکھا تھا، دہشتگردوں کی زندہ واپسی مشن میں شامل نہیں تھی، ان کے قبضے سے پانی کی بوتلیں اوربھنے ہوئے چنے بھی ملے ہیں جب کہ خودکش جیکٹ نہیں ملی۔ڈائریکٹر پاکستان اسٹاک ایکسچینج عابد علی حبیب نے نجی ٹی وی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگرد پارکنگ ایریا میں آئے اور اندھا دھند فائرنگ کی، ہمارے گارڈز نے دہشتگردوں سے مزاحمت کی۔عابد علی حبیب نے بتایا کہ دہشتگردوں کی فائرنگ سے بھگدڑ مچ گئی اور لوگ آس پاس کی عمارتوں میں گھس گئے۔عابد علی حبیب کا کہنا تھا کہ تقریباً 200 میں سے 150 ممبران کے پرائمری دفاتر اسٹاک ایکسچینج میں موجود ہیں، ہم نے واقعے کے بعد خود کو دفاتر میں بند کردیا،ایم ڈی پی ایس ایکس فرخ خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حملے کے وقت ہماری اپنی سیکیورٹی نے بہت اچھا رد عمل دیا جب کہ پولیس اور رینجرز نے فوری کارروائی کرکے صورتحال کو قابو کرلیا۔انہوں نے بتایا کہ کرونا کی وجہ سے لوگوں کی تعداد کم تھی ورنہ عام حالات میں 5 سے 6 ہزار افراد موجود ہوتے ہیں۔فرخ خان کا کہنا تھا کہ صورتحال مکمل کنٹرول میں ہے اور حملے کی وجہ سے ٹریڈنگ ایک منٹ کے لیے بھی نہیں رکی۔

Facebook Comments
Share Button