تازہ ترین

GB News

دہشت گردی کا تسلسل

Share Button

 

وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران بھارت پرسٹاک ایکسچینج حملے کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شک نہیں ہے حملے کی منصوبہ بندی انڈیا میں ہوئی ۔ان کا کہنا تھا کہ انڈیا نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے اس کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی یہ بہت بڑا سانحہ جو کہ پڑی پلاننگ سے ہوا ہمارا پڑوسی ملک ہندوستان نے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بڑا پلان بنایا ہوا تھا۔ یہ بہت زیادہ اسلحہ لے کر آئے تھے۔ ان کا صرف ایک مقصد یہ تھا کہ سٹاک ایکسچینج میں جا کر ان کو یرغمال بنالیتے اور جو ایک دفعہ ممبئی میں بہت بڑی دہشتگردی ہوئی تھی، بالکل اسی طرح کا پلان تھا کہ سٹاک ایکسچینج میں بھی وہی کرتے، اسی طرح بے قصور لوگوں کو قتل کرتے اور ایک ملک میں ایک فضا بناتے غیر استحکام کی اور غیر یقینی کی۔ پیر کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں واقع بازارِ حصص، پاکستان سٹاک ایکسچینج کی عمارت پر شدت پسندوں کے حملے میں چاروں حملہ آوروں سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔کالعدم شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور کہا کہ ان کی مجید بریگیڈ کے ارکان نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔ یہ واقعہ صبح دس بجے کے قریب پیش آیا اور ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور پارکنگ کے راستے عمارت کے احاطے میں داخل ہوئے اور انہوں نے دستی بم پھینک کر رسائی حاصل کی۔تقریبا دس بجے کے قریب حملہ آور ایک کرولا گاڑی میں سٹاک ایکسچینج کے بیرونی گیٹ پر رکے جہاں پولیس والوں سے ان کی مسلح جھڑپ ہوئی وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہوں نے بڑے خطرات سے متعلق پچھلے دو ماہ سے اپنی کابینہ اور وزرا کو بتایا ہوا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی جتنی بھی ایجنسیز تھیں وہ ہائی الرٹ پر تھیں۔ ہم نے کم از کم چار بڑے دہشتگردی کی کوششوں کی ناکام بنایا۔عمران خان نے انٹیلیجنس ایجنسیوں کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایسی کارروائیوں کے بارے میں پہلے ہی معلومات حاصل کرلیں اور ہماری اس کے لیے پہلے سے ہی تیاری تھی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ سب سے پہلے پاکستان کے ہیروز کو سلام پیش کرنا چاہتے ہیں۔میں سلام پیش کرتا ہوں کہ ہمارے سکیورٹی اہلکاروں نے اس بڑے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ وہ ہلاک ہونے والوں کے علاوہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کو بھی خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں۔شدت پسندوں کی جانب سے مارچ 1993 میں ہونے والے ممبئی حملوں کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھا گیا تھا کہ شہر میں موجود دیگر بہت سے اہداف کے ساتھ ساتھ ممبئی سٹاک ایکسچینج کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا جائے۔11 ستمبرکو امریکہ میں ہونے والے حملوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کے محور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو تہہ و بالا کرنا ہی شدت پسندوں کا بنیادی مقصد تھا۔ پاکستان سٹاک ایکسچیج پرہونے والے ناکام حملے کا مقصد بھی ملک کی معیشت پر ضرب لگانا تھا۔ماضی میں مختلف ممالک میں ہونے والے بہت سے دہشت گردانہ حملوں میں بھی حملہ آوروں کا ٹارگٹ معاشی سرگرمیوں کے مختلف بڑے مراکز رہے ہیں۔ بہت سے لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ آخر شدت پسند بعض اوقات اپنے روایتی اہداف کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے معاشی مراکز پر حملہ آور کیوں ہوتے ہیں، ان کے پس پردہ مقاصد کیا ہوتے ہیں ؟کسی بھی ملک میں معاشی سرگرمیوں کے مراکز انتہائی مرکزی حیثیت کے حامل ہوتے ہیں اور ایسی جگہوں کو ٹارگٹ کرنے کا سب سے بنیادی مقصد کسی بھی گروہ کی جانب سے اپنے مقاصد اور نصب العین کی وسیع اور بین الاقوامی سطح پر تشہیر کرنا ہوتا ہے۔ بڑے شہروں میں ہائی ویلیو ٹارگٹس کو نشانہ بنا کر بڑے پیمانے پر پبلیسٹی حاصل کی جاتی ہے۔ جب بڑے ٹارگٹس کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو خبر بڑی بنتی ہے۔ اس قسم کی کارروائیوں میں بڑے اہداف کا چنائو دراصل اپنے پروپیگنڈا کو دور تک پھیلانے کی کوشش ہوتی ہے۔پاکستان سٹاک ایکسچینج پاکستانی معیشت کی علامت ہے اور یہاں حملہ کرنے کا مقصد سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کرنا اور پاکستان کا تاثر دنیا بھر میں غیر محفوظ ملک کے طور پر پیش کرنا شامل تھا۔ایسے حملوں کے بعد عموما سرمایہ کار کچھ عرصے کے لیے بہت محتاط ہو جاتے ہیں جس کا اثر یقینی طور پر معیشت پر پڑتا ہے۔ سرمایہ کاروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سکیورٹی کے حوالے سے بہت حساس ہوتے ہیں اور پرندوں کی طرح ہوتے ہیں اور اگر انھیں تھوڑا سا بھی شبہہ ہو جائے کہ وہ سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں۔پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں ایک ہزار سے زائد افراد کا عملہ ہوتا ہے، دہشت گرد قتل و غارت اوریرغمال بنانے کے منصوبے کے تحت آئے تھے ، وہ عمارت میں موجود شہریوں کو یرغمال بنانا چاہتے تھے، وہ جدید اسلحے سے لیس تھے، ان کے پاس کھانے پینے کی اشیا بھی تھیں۔اسٹاک ایکسچینج کی عمارت کے دومرکزی دروازے ہیں، پہلا دروازہ آئی آئی چندریگر روڈ اور اسٹیٹ بینک سے متصل ہے، پہلے دروازے سے بیرئیر سے گزرنے کے بعد صرف خصوصی گاڑیوں کو داخلے کی اجازت ہوتی ہے، دوسرا دروازہ پاکستان ریلوے کارگو سے ملا ہوا ہے، عام افراد کو ریلوے کارگو دروازے سے داخل ہونے کی اجازت ہوتی ہے۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا اپنا نجی سیکیورٹی نظام ہے، داخلی دروازوں پر واک تھرو گیٹس اور چیکنگ کی جاتی ہے، عام طور پر بکتر بند گاڑی اسٹاک ایکسچینج کے احاطے میں مسلسل گشت کرتی ہے، احاطے پر پانچ مسلح سیکیورٹی اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ اعجازشاہ نے کہا ہے کہ چند دہشت گردوں نے اسٹاک ایکس چینج پر حملہ کیا اور تمام چار دہشت گرد مارے جاچکے ہیں۔ یہ واقعہ ملکی سلامتی اور معیشت پر حملے کے مترادف ہے، وبائی صورتحال کے پیش نظر ملک دشمن عناصر ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، حملہ آوروں کے پاس بھاری اسلحہ تھا۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ رینجرز اور پولیس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے مختصر وقت میں آپریشن مکمل کیا اور دہشت گردوں کو منطقی انجام تک پہنچا کر بڑے نقصان سے بچالیا۔وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ وزیرستان کے حملے کے بعد میں نے بیان دیا تھا کہ بھارت نے سلیپر سیل متحرک کئے، ہمارے جوانوں پر حملے میں بھارت کا ہاتھ تھا، آج کے حملے کے تانے بانے اٹھا کر دیکھ لئے جائیں تو انھیں سلیپر سیل سے ملیں گے۔ ہمارے خفیہ ادارے مکمل الرٹ ہیں، ہم بھارت کے تمام حربوں کا ناکام بنائیں گے۔ بھارت پاکستان میں امن نہیں دیکھ سکتا، ایک طرف ہم کرتارپورراہداری کھول رہے ہیں اور دوسری طرف بھارت سے امن برداشت نہیں ہورہا، بھارت دنیا کے سامنے بے نقاب ہورہا ہے، کشمیر میں بھارت کے مظالم دنیا کے سامنے ہیں، چین کے ساتھ لداخ کا معاملہ بھی عیاں ہوگیا، ہم بھارت کو دنیا کے سامنے مزید بے نقاب کریں گے۔ جی رینجرزسندھ میجر جنرل عمر بخاری کا کہنا ہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر چینی قونصل خانے پر حملے سے مماثلت رکھتا ہے۔ کراچی میں ڈیڑھ سال سے کوئی دہشت گردانہ کارروائی نہیں ہوئی، دہشت گرد کراچی کی رونقیں خراب کرنا چاہتے ہیں، یہ حملہ دس اور انیس جون کے حملوں کی کڑی ہے، دہشت گردوں کو اپنے مقاصد میں کامیاب ہونے کے لئے جگہ نہیں مل رہی، دہشت گرد تنظیموں اور سلیپرزسیلز کا نیکسز بن رہا ہے، یہ حملہ کسی خفیہ ایجنسی کے بغیر نہیں ہوسکتا، سلیپنگ سیلز کے بغیر ایسا حملہ کرنا ناممکن ہے،بھارتی خفیہ ایجنسی را کی فرسٹیشن آپ کے سامنے ہے۔ غیرملکی ایجنسیز کی کوشش ہے کہ بچے کچے سلیپرز سیل کو یکجا کیا جائے۔بہتر رسپانس کی وجہ سے دہشت گرد اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے، دہشت گردوں نے دلبرداشتہ ہوکر کارروائی کی، دہشت گرد نیٹ ورک کے کچھ لوگوں کو پہلے پکڑا جاچکا تھا۔ ایسے کئی حملوں کو وقت سے پہلے ہی انٹیلی جنس انفارمیشن کی بنیاد پر ناکام بنایا گیا۔23 نومبر 2018 کو کراچی میں چینی قونصل خانے پر ہوا تھا ، دہشت گردی کی اس واردات میں تینوں حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے ، اس کے علاوہ دوعام شہری اور دوپولیس اہلکار جاں بحق ہوئے تھے۔ بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔خوش آئند بات یہ ہے کہ اسٹاک ایکسچینج میں دہشت گردوں کے حملے کے باوجود مثبت رجحان رہا اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 242 پوائنٹس کے اضافے پر بند ہوا۔بہرحال یہ طے ہے کہ ایک بار پھر ملک دشمن قوتیں سرگرم عمل ہو گئی ہیں بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے وہ چین سے ہر محاذ پر خفت اٹھانے کے بعد مزید بھی ایسی کارروائیاں کر سکتا ہے اس لیے ہمہ وقت ریڈ الرٹ رہنا بہت ضروری ہے۔

Facebook Comments
Share Button