تازہ ترین

GB News

قومی اسمبلی،کلبھوشن کی اپیل سے متعلق آرڈیننس پر اپوزیشن کا ہنگامہ

Share Button

عالمی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے کلبھوشن یادیو کی اپیل سے متعلق آرڈیننس وزارت قانون کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیشکرنے کے معاملے پر تو اپوزیشن کا پارہ ہائی ہو گیا اور اراکین نے قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی شروع کر دی اور شیم شیم کے نعرے لگائے۔تفصیلات کے مطابق جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومت کی جانب سے کلبھوشن یادیو کے معاملہ پر عالمی عدالت انصاف(نظرثانی)آرڈیننس 2020پیش کرنے سے قبل اپوزیشن کی جانب سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلم لیگ (ن)کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ کل تک کلبھوشن کی وجہ سے ہم پر مودی کے یار کے الزامات لگتے تھیکلبھوشن پاکستان میں دہشتگردی کرتا رہا ،اب کیوں کلبھوشن کو سہولت فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،وزیر اعظم بتائیں اب پاکستان کی غیرت کا سودا کیوں کیا جارہا ہے ،یہ قانون قبول نہیں ،عالمی دباو میں آکر یہ کیا ہورہا ہے حکومت کیوں ایک بھارتی جاسوس کی سہولت کار بنی ہوئی ہے،یہ قانون سازی قومی حمایت اور غیرت کے خلاف ہے، اس موقع پروفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ خدا کے واسطے میری بات تو سن لیں، وفاقی وزیرڈاکٹر شیریں مزاری نے کہاکہ پاکستان اگر آئی سی جے کے دائرہ اختیار اور کیس قبول نہ کرتا تو آئی سی جے کیس نہیں سن سکتا تھا،لیگی حکومت نے وزات خارجہ کا نچلی سطح کا افسر دفاع کیلئے بھیجا اور وکیل بھی صیح نہیں رکھا، اب ہم ان کی کوتاہیوں کی وجہ سے آئی سی جے کے فیصلہ میں پھنس گئے ،انہوں نے ملک پر مصیبت ڈالی ہے، اس پر سب سے پہلے ان کا احتساب ہونا چاہیے،شیریں مزاری کی تقریر کے دوران اپوزیشننے نعرے بازی کی،پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان نے کہا کسی کو این آر او نہیں دوں گا سب سے زیادہ این آر او اس وزیر اعظم نے دیئے کلبھوشن کو این آر او دیا گیا ،پارلیمان کا اجلاس چل رہا ہو تو آرڈیننس کو ایوان میں پیش کیا جاتا ہے ،حکومت نے عوام کو بتایا نہسیاسی جماعتوں کو بتایا گیا ،اس ہاؤسز کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا راتوں رات آرڈیننس جاری کر دیا ،ہمارے احتجاج پر اب معاملہ یہاں لایا گیا ہے ،اگر آپ آئی سی جے کے قانون کو نہیں مانتے تو پاکستان کے قانون سے این آر او نہ دیں ،کلبھوشن مانتا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشتگردی کرتا تھا،، حکومت کا موقف ہے کہ آئی سی جے کا دائرہ اختیار تسلیم نہیں کرنا چاہیے تھا،اگر آئی سی جے کا دائرہ اختیار نہیں ماننا تھا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کے قانون سے اس کو این آر او دے دیں۔ سپریم کورٹ نے حکومت اور نیب گٹھ جوڑ پر فیصلہ سنا دیا ہے،بلاول نے اپنی دھواں دھار تقریر کے ساتھ ہی کورم کی نشاندہی کر کے ایوان سے چلے گئے ۔اور کہا کہ میرا دل نہیں چاہتا کہ کلبھوشن کے معاملہ پر ایوان چلے۔ حکومتی اراکین نے مطالبہ کیا کہ جس نے کورم کی نشاندہی کی اسے بلائیں مگر پینل آف چیئر نے حکومتی مطالبہ مسترد کردیا اورگنتی کرانے پر کورم نامکمل نکلا،پینل آف چیئر امجد خان نیازی نے کورم مکمل ہونے تک اجلاس کی کاروائی موخرکردی،پینل آف چیئر کے رکن امجد علی خان نے بلاول بھٹو زرداری کو بلانے کے بجائے کورم کی تکمیل تک اجلاس ملتوی کر دیا، بعد ازاں حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام رہی تو قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

Facebook Comments
Share Button