تازہ ترین

GB News

توانائی کے منصوبوں میں تعاون کی یقین دہانی

Share Button

 

وفاقی وزیر توانائی عمرایوب خان نے نگران وزیراعلی گلگت بلتستان میرافضل خان سے ملاقات میں کہا ہے کہ جی بی میں توانائی کے منصوبوں کیلئے مکمل تعاون کریں گے اور توانائی منصوبوں میں تاخیر نہیں ہونے دیںگے’ توانائی گلگت بلتستان سمیت پاکستان کی اہم ضرورت ہے گلگت بلتستان سے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے لیکن اس جانب توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی جا رہی’ماضی میں یہ کہا گیا تھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں گلگت بلتستان کے بھی کئی منصوبے شامل کرلئے گئے ہیں جن کے تحت چینی کمپنیاں سومیگاواٹ کے آئی یو او 80میگاواٹ پھنڈر پروجیکٹس تعمیر کریں گی۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے گلگت بلتستان کو قلیل عرصے میں بجلی میسر آئے گی جس سے سیاحت کے فروغ، تعمیر وترقی کی رفتار کو بڑھانے سمیت اسپیشل اکنامک اور انڈسٹریل زونز، کینسر اسپتال، میڈیکل کالج و کارڈیک اسپتال، وومن یونیورسٹی اور سی پیک کے انفراسٹرکچر کے لیے توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی جبکہ ریجنل گرڈ سٹیشن کے قیام اور فنڈز کی منظوری پر بھی مکمل اتفاق رائے ہو گیا تھا ریجنل گرڈ سٹیشن کے قیام کیلئے وفاقی حکومت 25ارب روپے فراہم کرے گی۔گلگت بلتستان میں سی پیک منصوبے کے تحت فائبر آپٹیکل کیبل بچھائی جا رہی ہے جس پر 36ملین روپے کی لاگت آئے گی گلگت بلتستان میں سی پیک منصوبے کا سب سے بڑا اور اہم تحفہ سپیشل اکنامک زون ہے 250ایکڑ پر بننے والے اکنامک زون میں زراعت ، لائیو سٹاک ، منرلز اور لکڑی سے بننے والی اشیا کی صنعتیں قائم ہوں گی ۔ گلگت بلتستان اس منصوبے کا گیٹ وے ہے اگر گلگت بلتستان میں سہولیات نہیں ہوں گی توانائی کا بحران ختم نہیں ہو گا اور یہ منصوبہ مشکلات کا شکار ہو گا لہذا گلگت بلتستان کو کسی سطح پر بھی نظرانداز نہ کیا جانا چاہیے۔توانائی کا بحران اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ہے اکنامک کوریڈور کے تحت بننے والے اکنامک زونز توانائی کی موجودگی ہی سے پروان چڑھ سکیں گے توانائی کی دستیابی کے حوالے سے گذشتہ دو دہائیاں خاصی پریشان کن رہی ہیں لیکن یہ اطمینان بخش بات ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے صورت حال بتدریج بہتر ہورہی ہے، ملک میں توانائی کی پیداوار کے نئے منصوبے لگ رہے ہیں جو مکمل ہو کر پیداوار شروع کردیں گے۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام ممکن وسائل کے ذریعے زیادہ سے زیادہ توانائی حاصل کرنے کے مزید منصوبے شروع کیے جائیں کیونکہ مقامی وسائل سے اس قدر بجلی پیدا کی جاسکتی ہے کہ نہ صرف مقامی ضروریات پوری کی جا سکیں بلکہ اسے دیگر ممالک کو برآمد بھی کیا جا سکے چونکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ توانائی کی طلب بھی بڑھتی جارہی ہے، لہذا ہمیں اس تناسب سے نہیں بلکہ ضروریات سے زیادہ بجلی پیدا کرنا ہوگی تاکہ ویسے بحران سے بچا جاسکے، جس نے ماضی میں مینو فیکچر نگ سیکٹر کو بری طرح متاثر کیا۔ دنیا بھر میں توانائی کی پیداوار کے لئے روایتی ذرائع پر انحصار اب کم ہو تا جارہا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں واضح کمی کی بڑی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مغربی دنیا نے تیل سے بجلی پیدا کرنا قریب قریب بند کردیا ہے ،جبکہ پاکستان شاید وہ واحد ملک ہے جو وافر تیل پیدا کرنے والے ممالک کی صف میں شامل نہ ہونے کے باوجود تیل سے بجلی بنارہا ہے۔ ہم مزید ایسی شاہ خرچیوں کے متحمل نہیں ہوسکتے، لہذا ہمیں تمام ترتوجہ ہائیڈل اورتوانائی کے متبادل ذرائع پر مرکوز کرنا ہوگی۔پاکستان ان خوش نصیب ممالک میں شامل ہے جہاں کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان میں کوئلے سے صرف ایک فیصد بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ دنیا بھر میں زیادہ تر ایندھن کوئلے سے بن رہا ہے۔ عالمی سطح پر ابتدائی توانائی کی پیداوار میں اس کا حصہ چھبیس فی صد اوربجلی کی پیداوارمیں حصہ چالیس فی صد ہے۔ پاکستان کے بڑے ذخائر سندھ، خاص طور پر تھر کے علاقے میں موجود ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں175.5ارب ٹن کوئلے کے ذخائرموجود ہیں۔ اس کے علاوہ سونڈا اورلاکھڑا کے مقامات پر تقریبا سات ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں۔ ان ذخائر میںتین سوسال کے لئے ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لہذا اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکلنے کے لئے چین کی ہائیڈرو پاور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ چین چھوٹے اوردرمیانے درجے کے ہائیڈرو پاور پلانٹس کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کی ٹیکنالوجی رکھتا ہے ، جس سے پاکستان کو بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اس جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے چالیس میڑ گہری سرنگ کھودی جاتی ہے اور اس سرنگ کے ذریعے ٹربائن پر پانی انڈیلنے کے عمل سے دومیگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں ہوا اورسورج کے ذریعے بھی وافر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ہمیں دیامر بھاشا سمیت بہت سے بڑے ڈیموں کی بہت شدت سے ضرورت ہے اس لیے بڑے آبی ذخائر تعمیر کئے جائیں کیونکہ قومی مفادات کے منصوبوں پر کام موخر ہونا کسی طوربھی درست نہیں۔ڈیم بننے سے وافر بجلی پیدا ہوگی، جس سے توانائی کے روایتی نظام پر بوجھ کم ہوگا، سیلابوں کی روک تھام کی جاسکے گی اورتمام موسموں میں زرعی شعبے کے لئے وافر پانی میسر آئے گا۔ معاشی معاملات، بالخصوص توانائی کے شعبے کی بہتری کے لئے حکومت جس سنجیدگی سے کام کر رہی ہے، اس کے پیش نظر ہم سب امید کر سکتے ہیں کہ پائپ لائن میں موجودہ منصوبے جلد از جلد مکمل ہو کرقوم کا کونہ کونہ جگمائیں گے ۔غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت طلب سے تقریبا دو گنا ہے، اس کے باوجود قوم گزشتہ ایک دہائی سے بدترین لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہی ہے، عام صارف یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ جب ہم ضرورت سے زائد بجلی پیدا کر سکتے ہیں تو پھر طویل لوڈشیڈنگ کا عذاب قوم پر کیوں مسلط ہے۔ اگر تھرمل ذرائع کے ساتھ ساتھ نئے ڈیموں کی تعمیر اور متبادل ذرائع پر تحقیق جاری رکھی جاتی تو حالات بہت حد تک مختلف ہوتے۔قیمتوں میں استحکام کیلئے ملکی ضرورت کی نصف سے زائد بجلی پانی سے پیدا کرنا ضروری ہے یہ طلب صرف گلگت بلتستان سے پوری کی جا سکتی ہے لیکن ایسا نہیں ہو پارہاتاہم رواں دہائی کے اختتام تک مزید دس ہزار میگا واٹ ہائیڈرو الیکٹرک کی نیشنل گرڈ میں متوقع شمولیت سے یہ تناسب پچاس فیصد سے بھی زائد ہونے کا امکان ہے، جس سے یقینا بجلی کی قیمتوں میں کمی ممکن ہو سکے گی۔ آج کے اس جدید دور میں بھی عوام توانائی کے حصول کے قدیم روایتی طریقوں یعنی لکڑیاںجلانا، کیروسین لیمپ، گھریلو ضروریات کے لئے کیروسین اور ڈیزل کی مدد لینے پر مجبور ہیں ۔ بہت سے دیہات میں موجود آبادی بہت حد تک بکھری ہوئی ہے اور وہ اتنے دورافتادہ علاقوں میں مقیم ہیں کہ وہاں تک بجلی پہنچانے کے لئے ٹرانسمیشن لائنز بچھانا مالیاتی اعتبار سے ناممکن ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بجلی تک رسائی رکھنے والے علاقوں کی شرح نوے فیصد کے لگ بھگ ہے۔ قدرتی گیس کی صورتحال اس سے بھی خراب ہے صرف بیس فیصد گھروں کو گیس کے کنکشن دئیے جا سکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ گیس کی پائپ لائنیں بچھانے کے اخراجات اور موسمی حالات کے پیش نظر گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے سو فیصد علاقے گیس سے محروم ہیں اور ان علاقوں میں ایل پی جی استعمال کی جا رہی ہے جو بہت سے لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان علاقوں کے باسی ایل پی جی کے مہنگی ہونے کی وجہ سے لکڑیاں جلا کر گھریلو کام کاج جن میں کھانا پکانا شامل ہے کرنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نہ صرف صحت کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں بلکہ ان علاقوں میں شدید موسمیاتی مسائل کا بھی سبب بن رہے ہیں۔ لکڑیوں کے حصول کیلئے درختوں کو کاٹنا یا ٹمبر مافیا پر موثر کنٹرول نہ ہونے کے سبب ہمارے ملک کے جنگلات کا گنجان پن تیزی سے کم ہو رہا ہے جو موسمیاتی اعتبار سے درست نہیں۔اس کے علاوہ جن علاقوں تک بجلی پہنچائی جا چکی ہے وہاں کے گرڈ بھی بجلی کی مسلسل فراہمی سے قاصر ہیں۔ بہت سے دیہات جہاں سرکاری طور بجلی فراہم کی جا چکی ہے بارہ سے سولہ گھنٹوں تک بجلی سے محروم رہتے ہیں اس کا مطلب ہے وہ آدھا دن بجلی سے محروم رہنے پر مجبور ہیں۔توانائی کے جن منصوبوں کو سی پیک میں شامل کیا گیا ہے ان پر تیزی سے کام کی ضرورت ہے’حکومت کو ساری توجہ تیزی سے ہنگامی اور ترجیحی بنیادوں پر دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر پر مرکوز کر دینی چاہیے۔

Facebook Comments
Share Button