تازہ ترین

GB News

ائرچیف مارشل مجاہد انور خان کا دورہ سکردو

Share Button

 

سکردو میں سربراہ پاک فضائیہ کے ائیر چیف مارشل مجاہد انور خان نے عملے کی آپریشنل تیاریوں اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور تیزی سے جاری تعمیراتی کاموں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فضائیہ خطے کی جیو اسٹریٹیجک صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے۔ ہم دشمن کی جانب سے اسلحہ اور فوجی سازو سامان کے حصول کی دوڑ سے غافل نہیں’ روایتی جنگ میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کیلئے ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ائیر چیف نے قوم کو یقین دہانی کراتے ہو ئے کہا کہ دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں، پاک فضائیہ بری اور بحری افواج کے ہمراہ بھر پور اندازمیں جواب دینے کے لئے ہمہ وقت تیار ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور اس کی افواج کے جبرو استبدادپر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ائیر چیف نے پاکستانی قوم کی کشمیری جدو جہدِ آزادی کی غیر متزلزل حمایت کا ذکر کیا اور مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق فوری حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ۔بلاشبہ پاک فضائیہ نے آزمائش کی ہر گھڑی میں دشمن کے دانت کھٹے کیے حال ہی میں 27 فروری کو جس طرح بھارتی فضائیہ کو ناکوں چنے چبوائے وہ ناقابل فراموش ہیں بھارتی پائلٹ ابھی نندن تاعمر پاکستنی چائے کے ذائقے کو بھلا نہیں پائے گا’ پاکستان کی فضائی قوت کو افواج میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فضائیہ کا کردار انتہائی اہم رہا اور ملک میں جاری آپریشن ضرب عضب میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ملک دشمن عناصر کو بھاری نقصان پہنچایا۔پاک فضائیہ کے لیے ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ فخرِ پاکستان جے ایف سترہ تھنڈر کا نیا ماڈل سال 2017 میں تکمیل کو پہنچا، پاک فضائیہ نے چین کے تعاون سے اس طیارے کا جدید ماڈل جے ایف سترہ تھنڈر بی پروٹو ٹائپ تیار کیا۔اس طیارے میں دوپائلٹس کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ طیارے کے ڈیزائن میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں جبکہ ایندھن کی گنجائش میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔پاک فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر چیف مارشل سہیل امان کو ترکی نے دونوں ممالک کی فضائیہ کے درمیان دفاعی تعلقات میں بہتری پر ترکش آرمڈ فورسز کا لیجن آف میرٹ ایوارڈ دیا گیا۔چین میں شاہین سکس مشقوں میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنی فضائی حربی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔چین کے کورلا ایئر بیس پر جاری رہنے والی تین ہفتوں کی مشق میں پاک فضائیہ اور پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس نے اپنے جدید لڑاکا طیاروں اور معاون آلات حرب کے ساتھ شرکت کی۔2017میں پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے پاکستان اور چین کی فصائیہ نے مشترکہ ایئر شو منعقد کیا، جس کا انعقاد پی اے ایف بیس سمنگلی پر کیا گیا۔ایئر شو کے دوران پاک فضائیہ کے ایف سیون پی جی اور چینی ایئرفورس کے جے ایف دس طیاروں نے شاندار مہارت کا مظاہرہ کیا۔پاکستان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ رائل ایئر فورس کی ریڈ ایروز ٹیم نے اسکوارڈن لیڈر ڈیوڈ کی قیادت میں کراچی کی فضائوں میں اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔پاک فضائیہ کے شاہینوں اور جدید طیاروں نے دبئی ایئر شو میں دنیا کی خصوصی توجہ حاصل کی۔نیا تعمیر ہونے والا پاکستان ایئربیس بھولاری، پاک فضائیہ کے زمینی اور سمندری حدود کی دفاعی حکمت عملی اور استعداد کار میں اضافے کے سلسلے میں اہم پروجیکٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس بیس کے قیام سے پاک فضائیہ اب بہتر طور پر زمینی آپریشنز میں پاک آرمی کا ساتھ دے سکتی ہے۔ پاک بحریہ کے سمندری آپریشنز کے دوران پی اے ایف بیس بھولاری بلاواسطہ مدد بھی فراہم کرے گا۔27 فروری کا دن پاک فضائیہ اور پاکستان کی تاریخ میں ایک درخشاں باب کی مانند ہے۔ پاک فضائیہ نے دن کی روشنی میں دشمن پر کامیاب جوابی حملہ کیا۔ اس حملے میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کے دو لڑاکا طیاروں کو بھی تباہ کیا۔پاک فضائیہ کی کارکردگی نے بھارتی فضائیہ کے اندر موجود خامیوں کو دنیا کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔ بھارتی مسلح افواج بحری اور بری میدان میں مار کھانے کے بعد اب فضائی جنگ سے بھی باہر ہوتی نظر آرہی ہے اور بھارتی دفاعی حلقوں میں پاکستان کی صلاحتیوں نے سنسنی پھیلا رکھی ہے۔ بھارتی وزیرِاعظم بھی دبے لفظوں میں شکست کا اعتراف کرتے نظر آئے وہ کہتے رہے کہ اگر بھارت کے پاس رافیل طیارے ہوتے تو نتائج کچھ اور ہوتے۔ اس اعترافِ شکست کی بڑی وجہ بھارتی فضائیہ کے پرانے اور غیر معیاری لڑاکا طیاروں پر مشتمل فضائی بیڑا ہے۔بھارتی فضائیہ کو اپنے لڑاکا طیاروں کے لحاظ سے دنیا کی چوتھی بڑی فضائیہ مانا جاتا ہے۔ امریکی فضائیہ کے پاس پانچ ہزار سے زائد، روس کے پاس 2244، چین کے پاس 2656 طیارے ہیں، جبکہ بھارت کے پاس 1600 کے لگ بھگ طیارے موجود ہیں۔اس وقت بھارتی فضائیہ کے پاس 473 لڑاکا طیارے اور 135 اٹیک ایئر کرافٹ جبکہ نگرانی کے لیے مختلف نوعیت کے 13 طیارے ہیں۔ فضا میں ایندھن کی فراہمی کے لیے چھ فیول ٹینکر، 251 ٹرانسپورٹرز، 429 ہیلی کاپٹرز اور 429 تربیتی طیارے ہیں۔ اس پوری فضائیہ کو سنبھالنے کے لیے بھارتی فضائیہ نے بڑی افرادی قوت کو بھرتی کیا ہے۔ بھارت کی سات ایئر کمانڈز اور ساٹھ ایئر بیس آپریشن ہیں۔ اس کے علاوہ بھارتی بحریہ نے اپنے ایئر کرافٹ کیریئر کے لیے بھی الگ سے فارمیشن قائم کیے ہوئے ہیں۔اسے فرانس سے کچھ رافیل بھی مل چکے ہیں’بھارت نے اپنے قیام سے اب تک پاکستان اور چین کے ساتھ مختلف جنگیں لڑی ہیں اور ہر لڑائی کے بعد وار ریویو کمیٹی قائم کی جاتی ہے جو جنگ میں ہونے والے تجربات کی روشنی میں مسلح افواج کے حوالے سے اپنی سفارشات حکومت کو پیش کرتی ہے۔ بھارت کی وار ریویو کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں حکومت کو تجویز کیا گیا ہے کہ غربت اور افلاس کے باوجود بھارت اپنے جی ڈی پی کا تقریبا پانچ فیصد دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کرے۔بھارت نے اپنی فوجی حکمت عملی دو طرفہ لڑائی کے اعتبار سے مرتب کی ہے، یعنی پاکستان اور چین کے اعتبار سے۔ کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ بھارت فضائی برتری کے لیے چین کے ایک طیارے کے مقابلے میں تین اور پاکستان کے ایک طیارے کے مقابلے میں دولڑاکا طیاروں کا بیڑہ تیار کرے، اور اس مقصد کے لیے بھارت کے پاس کم از کم لڑاکا طیاروں کے پنتالیس اسکورڈن ہونے چاہئیں مگر بھارتی حکومت نے اب تک 42 اسکورڈن کی منظوری دی ۔ بھارت میں فیصلہ سازی میں سست روی، کرپشن اور بدعنوانی کی وجہ سے بھارتی فضائیہ اپ گریڈ ہونے کے بجائے دن بہ دن سکڑتی جارہی ہے۔ بھارت کے پاس اس وقت بتیس اسکورڈن موجود ہیں۔ جس میں سے صرف اکتیس اسکورڈن موثر ہیں۔ بھارتی فضائیہ کے عمر رسیدہ طیارے بھی زیادہ تیزی سے ختم ہورہے ہیں۔2022 تک مگ 21 بائسن کے چھ اسکورڈن اور2025 تک مزید دو اسکوارڈن ریٹائر ہوجائیں گے جبکہ 2027 تک جیگوار طیارے بھی ریٹائر ہونا شروع ہوجائیں گے۔ اس طرح طیاروں کی تعداد میں اضافے کے باوجود 2027 تک بھارتی فضائیہ کے پاس موثر اسکوارڈن کی تعداد محض انتیس رہ جائے گی۔ بھارتی حکومت میں فیصلہ سازی بہت ہی سست، ناقص اور غیر معیاری ہے۔ بھارتی بحریہ کے سابق سربراہ ڈی کے جوشی کا کہنا ہے کہ بھارتی وزارتِ دفاع میں اتنی صلاحیت بھی نہیں کہ ایک بیٹری ہی خرید لے۔ فیصلہ سازی میں سقم اور صلاحیت کے علاوہ بدعنوانی اور کرپشن بھی ہر دفاعی ڈیل میں سامنے آتی ہے۔کانگریس کے دور میں بوفرز توپوں میں رشوت، کارگل جنگ میں غیر معیاری کفن باکس کی خریداری اور افواج کو دیے جانے والے غیر معیاری کھانے کے اسکینڈل تو سامنے آچکے ہیں۔بھارت میں ایئر فورس کے پرانے ہوتے طیاروں کی وجہ سے تشویش پائی جاتی ہے۔ بھارت کو فوری طور پر اپنی کم از کم فضائی دفاعی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر طیاروں کی ضرورت ہے اور وہ دھڑا دھڑ اسلحہ خرید رہا ہے لیکن چین نے اس کی نام نہاد برتری کا غرور خاک میں ملا دیا ہے ‘بھارت سخوئی اور مگ طیاروں کو تبدیل کرنا چاہتا تھا اور امریکی ایف 18لڑاکا طیارے، فرانسیسی رافیل ، یورو فائٹر ٹائیفون ، روسی مگ 25، ساب کے گرپین طیارے خریدنا چاہتا ہے’بھارت خواہ کچھ بھی کر لے پاک فضائیہ کے جانبازوں کے جذبے’ہمت اور جرات کے آگے اسے منہ کی کھانا پڑے گی۔

Facebook Comments
Share Button