تازہ ترین

GB News

سیاحت کی بندش:ناقابل تلافی نقصان

Share Button

 

ایک خبر کے مطابق کرونا کے باعث سیاحت پر پابندی سے گلگت بلتستان کی معیشت کو آٹھ ارب روپے کا نقصان ہوا ہے’ساٹھ ہزار افراد براہ راست متاثر ہوئے ہیں’ تین سو سے زائد ٹور آپریٹر بیروزگار ہوئے’ساڑھے چار سو سے زائد غیر ملکی گروپ پاکستان نہیں آسکے’ہوٹل اور گیسٹ ہائوسز ویران ہو چکے ہیں’غیر ملکی سیاحوں سے ہونے والی ایک ارب تیس کروڑ روپے کی انکم بند ہو گئی ہے’ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ کرونا وائرس نے ہر شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا ہے تاہم بہت سے کاروبار کھل چکے ہیں لیکن سیاحت ہنوز بند ہے جس سے لاکھوں لوگوں کو مشکل کا سامنا ہے حالانکہ لوگ سیاحت کے لیے بے چین ہیں گھروں میں بند رہنے کے باعث وہ باہر نکلنا چاہتے ہیں’ لاک ڈائون کی پابندیوں کے باوجود لاکھوں سیاح گزشتہ عید الفطر کے موقع پر سیاحتی مقامات کے انٹری پوائنٹس تک پہنچے لیکن وہاں موجود چیک پوسٹوں پر سیکیورٹی فورسز نے انہیں واپس لوٹنے پر مجبور کیا۔عید کے موقعے پر اتنی بڑی تعداد میں سیاحوں کا نکلنا یہ واضح کرتا ہے کہ ملک کے عوام اس وقت لاک ڈائون، بچوں کی تعلیمی سرگرمیوں کے تعطل اور کورونا کے خوف سے تنگ آچکے ہیں اور وہ شدید ذہنی دبائو کا شکار ہیں اور سیرو تفریح کرنا چاہتے ہیں۔ وزیرِاعظم پاکستان عمران خان نے ملک بھر میں سیاحتی مقامات کو ایس او پیز کے ساتھ کھولنے کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان سے جہاں پاکستانی سیاحوں کو قدرے سکون ملا وہیں سیاحت سے وابستہ افراد کو بھی امید کی کرن نظر آنے لگی لیکن اس پر عمل نہ ہو سکا۔یہ کہ گیا تھا کہ سیاحتی مقامات کے تمام داخلی پوائنٹس پر سیاحوں کی اسکریننگ کروائی جائے گی۔فیس ماسک، دستانے، ہینڈ سینیٹائزرزلازمی ہوں گے۔سیاحوں کے لیے یہ لازمی ہوگا کہ وہ کورونا وائرس سے بچائو سے متعلق بنائی گئی ایس او پیز پر عمل کرنے کے لیے بیان حلفی پر دستخط کریں اور جو سیاح ایس او پیز کی خلاف ورزی کرے گا اس کو ضرورت پڑنے پر قرنطینہ کیا جائے گا اور قید و جرمانے کی صورت میں سزا دی جائے گی۔ گروپ ٹورگائیڈ اپنے پاس تمام شرکا کے کوائف پر مبنی پرفارما مرتب کرے گا۔ اس پروفارما میں سیاحوں کو پاسپورٹ’شناختی کارڈ نمبر، گزشتہ تین ماہ کی سفری تفصیلات، ایمرجنسی فون نمبر، ٹور کی مکمل تفصیلات روزانہ کا شیڈول درج کرنا ہو گا۔گاڑی کو روانگی سے قبل اور بعد میں کلورین اسپرے سے صاف کیا جائے اور اس عمل کو بار بار دہرایا جائے ٹور آپریٹر اور ڈرائیور کو اپنے صحت مند ہونے کی تصدیق محمکہ صحت یا کسی مجاز افسر سے کروانی ہوگی۔گاڑی کے ڈیش بورڈ پر ہینڈ سینیٹائزرز کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے گا۔ٹرانسپورٹر حضرات اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ گاڑی میں ڈرائیور والے حصے کو کسی طریقے سے الگ کردیا جائے تاکہ ڈرائیور اور مسافر حضرات کا میل جول ممکن نہ ہو اور بہتر انداز میں سفر مکمل کیا جائے۔سیاحوں کے درمیان دورانِ سفر محتاط فاصلہ یقینی بنایا جائے گا۔فیس ماسک اور دستانے لازمی پہننا ہوں گے دوران سفر اگر اڑسٹھ انتیس فارن ہائٹ سے جسم کا درجہ حرارت زیادہ ہوجائے یا کورونا کی علامات نمایاں ہونے لگیں تو کسی بھی قریبی ہسپتال یا مرکز سے چیک اپ کروالیں۔سفر سے پہلے تمام سیاح تھرمل ڈیوائس سے خود کو اسکین کروائیں، اگر درجہ حرارت زیادہ ہو تو قریب ترین صحت کے مرکز سے رجوع کریں ۔دورانِ سفر کسی بھی جگہ سیاحوں کا ہجوم اکھٹا نہ ہونے دیا جائے۔گاڑی میں ایک یا دونشستیں خالی رکھی جائیں تاکہ دورانِ سفر اگر کسی سیاح میں وائرس کے آثار نمایاں ہوں تو اسے دوسرے سیاحوں سے الگ رکھا جاسکے۔تصدیق شدہ ہوٹل کی فہرست محکمہ سیاحت فراہم کرے گا’دورانِ سفر کھانے پینے اور آرام کے وقفے کے لیے رکنا ہو تو پہلے سے طے شدہ اور تصدیق شدہ ہوٹلوں یا ریسٹورنٹ میں ہی رکا جائے گا۔سفر جاری رکھنے سے پہلے سیاحوں کے سامان کو دوبارہ صاف کیا جائے گا۔سیاحتی مقامات پر ہوٹلوں میں داخلے سے پہلے تمام مہمانوں کا بخار چیک کیا جائے گا اور اگر کسی مہمان کا درجہ حرارت زیادہ ہو تو متاثرہ مہمان کو شائستگی سے واپس جانے کو کہا جائے گا اور قریبی ہسپتال یا طبی سہولت سینٹر سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی جائے گی’ہوٹل کے مرکزی دروازے پر مہمانوں کے استعمال کے لیے سینیٹائزر رکھے جائیں گے۔مہمانوں کے سامنے ان کے سامان پر کلورین اسپرے کیا جائے گا۔اگر کسی مہمان نے ماسک نہیں پہنا ہوا تو اسے ماسک فراہم کیا جائے گا۔اگر مہمان کسی متاثرہ ملک سے آرہا ہے تو اس کی آمد سے قبل ریزرویشن کے وقت کورونا وائرس سے متعلق تمام ضروری معلومات لی جائیں گی۔جن مہمانوں کی بکنگ کنفرم ہوجائے تو ان کی آمد سے متعلق تمام اہم امور کو آن لائن طے کرلیں اور غیر ضروری بالمشافہ رابطے سے ہر ممکن بچا جائے گا۔آمد کے وقت سماجی دوری برقرار رکھنے کے لیے استقبالیہ اور گیلری میں فرش پر مارکنگ کی جائے۔اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہوٹل قیام گاہ پر عملے کے تمام ممبران ہر وقت ماسک اور دستانے پہنے ہوئے ہوں گے۔ سماجی دوری کے اصولوں کی وجہ سے سیاحوں کو متبادل کمرے مختص کیے جائیں گے ۔ یا درمیان میں ایک کمرہ چھوڑ دیا جائے گا ۔ہوٹلوں میں چیک اِن سے پہلے مہمانوں کو یہ ہدایت جاری کی جائیں گی کہ کمرے کو کس طرح وقتا فوقتا صاف کیا جائے۔ صفائی کے حوالے سے ہدایات ہر کمرے میں موجود ہوں گی ۔ صفائی کے عملے کو حفاظتی کٹ فیس ماسک اور دستانے وغیرہ پہننے کا پابند بنایا جائے گا۔کمروں میں موجود بیڈ شیٹ، پردے اور دیگر فیبرک کو دودن میں ایک بار یا پھر مہمان کی درخواست پر تبدیل کیا جائے گا ۔ہوٹل میں واپسی کا راستہ الگ بنایا جائے گا یا پھر آن لائن نظام کے تحت رقوم و دیگر معاملات کو نمٹایا جائے گا تاکہ لوگوں کا آپس میں رابطہ کم سے کم ہو۔مہمانوں کی واپسی کا پلان پہلے سے ہی طے کیا جائے گا تاکہ واپسی کے جملہ معاملات کو آسانی سے سر انجام دیا جاسکے۔لاکھوں افراد کا روزگار اسی صنعت سے وابستہ ہیں اور لوگوں نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے آخر حکومت کب اس جانب توجہ دے گی؟ حکومت ایک طرف لاک ڈائون کی بات کررہی ہے جبکہ دوسری جانب بے ربط کاروبارِ زندگی چل رہا ہے اور ایس او پیز محض نوٹیفیکیشن کی صورت میں کاغذ کے ٹکڑوں کی حد تک نظر آرہے ہیں۔اس بارے میں حکومتی انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ چونکہ سیاحتی مقامات پر موجود ہوٹل مالکان اس وقت ایک بڑے بحران سے گزر رہے ہیں سیاحت کو کھولنے کے حوالے سے وزیرِاعظم کے اعلان کے باوجود صوبائی حکومتوں کی طرف سے سیاحت سے جڑے اقدامات کے معاملے پر خاموشی اور داخلی پوائنٹس پر انتظامات مزید سخت کرنے سے سیاحت سے وابستہ افراد اور سیاح شدید مایوسی اور تذبذب کا شکار ہوچکے ہیں۔اس صورتحال سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ حکومتیں مرکزی حکومت کے فیصلے پر عمل نہیں کر رہیں ۔ اس ہم آہنگی کے فقدان کے باعث ملک بھر میں کورونا کا موذی مرض کنٹرول میں آنے کے بجائے مزید پھیلتا جا رہا ہے۔ حکومتوں کو شاید یہ خدشہ ہے کہ کہیں عید الفطر کی طرح اس بار بھی سیاحوں کی بڑی تعداد سیاحتی مقامات پر مقامی افراد میں کورونا وائرس کا موجب نہ بن جائے۔ کہا جا رہا ہے کہ چونکہ حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں کہ سیاحت کے شعبے میں ہونے والے نقصان کا ازالہ کرسکے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ ضابطہ کار پر حکومتی ادارے، ٹور آپریٹر، ہوٹل و ریسٹورنٹ مالکان متفقہ لائحہ عمل طے کریں اور پھر سیاحوں کو اس ضابطہ کار پر من و عن عمل کرنے کا پابند بنایا جائے تب جاکر سیاحت کے شعبے سے وابستہ لاکھوں افراد کو فاقہ کشی سے بچایا جاسکتا ہے۔ یہ درست بھی ہے کہ لاک ڈائون اور مستقل لاک ڈائون مسئلے کا حل نہیں ہے پوری دنیا میں اب کاروبار کھل رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں سیاحت سمیت متعدد کاروبا تاحال بندش کا شکار ہیں جن سے ان سے وابستہ افراد کی مشکلات بڑھ رہی ہیں جن پر توجہ دینا ازحد ضروری ہے۔

Facebook Comments
Share Button