تازہ ترین

GB News

وفاقی کابینہ نے پیٹرول کی قلت کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن کے قیام کی منظوری دے دی

Share Button

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی کابینہ نے پیٹرول کی قلت کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیشن کے قیام کی منظوری دے دی۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں مختلف امور زیرغورآئے اور اہم فیصلے کئے گئے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عوام کو مافیا کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑسکتے،مافیاز کو ختم کرکے رہیں گے،کرونا کی صورتحال کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوام ماسک کا استعمال ضرور کریں ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور حالات بہتر ہونے پر مزید کاروبار کھول دیے جائیں گے۔ وزیراعظم نے عوام سے آن لائن قربانی کو ترجیح دینے کی اپیل کی۔ عمران خان نے کہا کہ عیدالاضحیٰ اور محرم الحرام میں احتیاط نہ کی تو صورتحال خراب ہونے کا اندیشہ ہے، وفاقی کابینہ اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور کابینہ کو معاشی اعشاریوں سے متعلق آگاہ کیا گیا۔کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیراطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ گزشتہ ماہ پیٹرول کی قلت کے معاملے پر تحقیقاتی کمیشن بنایا گیا ہے جو اس تمام تر معاملے کی تفتیش کرے گا تاکہ دوبارہ یہ بحران جنم نہ لے سکے اور ذمے داران کے خلاف کارروائی کی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کمیشن میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ابوبکر خدابخش بطور چیئرمین شامل ہوں گے جبکہ اس کے علاوہ اٹارنی جنرل کے نمائندے، آئی بی اور ایف آئی اے کے نمائندے، ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب، سابق ڈی جی آئل اور پیٹرولیم ڈویژن راشد فاروق اور سی ای او پیٹرولیم انسٹیٹوٹ آف پاکستان عاصم مرتضیٰ پر مشتمل ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ گندم اور چینی کے ذخائر کی کوئی کمی نہیں، ہمیں جو گندم درکار تھی اس میں 15لاکھ ٹن کا خلا تھا لیکن اسے پورا کرنے کے لیے ہر صوبے کے پاس ذخائر موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت اسمگلنگ نہیں ہو رہی کیونکہ طورخم کی سرحد پر پہلے ہی افغان تجارت اس حد تک پھنسی ہوئی ہے وہاں سے اسمگلنگ نہیں ہو سکتی اور پنجاب حکومت قیمتیں برقرار رکھنے کے لیے 6ارب روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی حکمت عملی کووڈ 19 کے لیے کارگر ثابت ہو رہی ہے لیکن ساتھ ساتھ یہ بڑا خطرہ موجود ہے کہ کئی ملکوں میں یہ وبا کم ہونے کے بعد بداحتیاطی کے نتیجے میں پھر اوپر گئی۔انہوں نے عوام کے نام پیغام میں کہا کہ وہ عیدالاضحیٰ کے دوران سختی کے ساتھ ایس او پیز پر عملدرآمد کریں کیونکہ یہ وبا ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، اگر ہم نے پچھلی عید کی طرح بداحتیاطی کرتے ہوئے غیرذمے داری کا ثبوت دیا تو یہ ہمیں بہت بڑا نقصان پہنچا سکتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں شبلی فراز نے کہا کہ کووڈ کے سلسلے میں اپوزیشن خصوصاً سندھ حکومت نے جس طرح سے کنفیوڑن پھیلانے کی کوشش کی اور انہوں نے کورونا پر بھی سیاست کی، میں امسجھتا ہوں کہ انہیں اس چیز کا احساس ہو گیا ہو گا اور اب انہیں چاہیے کہ وہ اس بات کا برملا اظہار کریں کہ ان کی حکمت عملی غلط اور پائیدار نہیں تھی اور حکومت کی اس کامیابی سے تسلیم کریں۔بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف کے درمیان ممکنہ ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے شبلی فراز نے کہا کہ ان دونوں کے بغل میں چھری ہے اور منہ پر رام رام ہے، اس لیے اس ملاقات کا کچھ بننا نہیں ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کراچی میں بارشوں کے بعد بدترین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی صورتحال دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہاں کوئی حکومت ہی نہیں ہے۔ کراچی کی صورتحال انتہائی پریشان کن ہے، کراچی میں ہمارے بھائیوں کی زندگی بہت تکلیف میں ہے اور وہاں موجود نکاسی کے نظام کی قلعی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ کراچی کی صورتحال دیکھ کر لگتا ہے کہ وہاں کوئی حکومت ہی نہیں ہے اور سندھ حکومت کی یہ غفلت اور اتنے عرصے سے ان کی حکومت کا وہاں ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے سندھ بالخصوص کراچی کی ترقی کے لیے کام نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کی صورتحال کسی بھی مہذب ملک میں دیکھی جائے تو یہ کافی تکلیف دہ ہے کیونکہ اس سے کئی لوگوں کا نقصان ہوا، انہیں تکالیف سے گزرنا پڑا اور اس سے کتنی بیماریاں پھیلیں گی اور ہورا نظام درہم برہم ہو گیا۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اپنے تئیں جو بھی ہو سکے گا وہ کرے گی کیونکہ ہم نے کراچی کے عوام کو سندھ حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا بلکہ تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ولوگوں سے رابطے میں ہیں اور سیوریج کے نظام کے لیے کام کریں۔شبلی فراز نے کہا کہ اداروں اور انفراسٹرکچر پر کوئی کام نہیں کیا گیا لہٰذا ماضی کی حکومتوں اور موجودہ حکومتوں سے یہ سوال پوچھنا تو بنتا ہے کہ انہوں نے اربوں کھربوں کے منصوبے کدھر گئے، وہ فنڈز کہاں گئے۔انہوں نے کہا کہ لگتا یہ ہے کہ کراچی میں سیوریج کا نظام ہے ہی نہیں، سندھ حکومت نے اپنی نااہلی کو منہ بولتا ثبوت دیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے شہری اور کراچی کے عوام سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ہم سندھ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ایسے اقدامات کرے جس سے لوگوں کو ہونے والی تکالیف کا ازالہ ہو سکے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم پر اطمینان کا اظہار کیا کیونکہ اسے بہت پذیرائی مل رہی ہے، تعمیراتی شعبے میں سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں اور یہ کافی قابل اطمینان اور تسلی بخش بات ہے کیونکہ تعمیرات کی صنعت پوری معیشت کو آگے لے جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے میڈیا میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ وزارتوں کو حکم دیا کہ پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کو جو رقم ادا کرنی ہے وہ جلد از جلد کریں لیکن کچھ وجوہات کے سبب یہ معاملہ التوا کا شکار ہے اور اس پر بھی وزیر اعظم نے برہمی کا اظہار کیا۔

Facebook Comments
Share Button