تازہ ترین

GB News

چلاس کاالمناک و افسوسناک سانحہ

Share Button

چلاس میں ڈی سی ہائوس سے متصل کالونی میں رات گئے سی ٹی ڈی پولیس کی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں پانچ اہلکار شہید اورپانچ اہلکار زخمی ہوگئے،واقعہ میںطالب علم سمیت گھر میں موجود دوافراد بھی مارے گئے،نگران وزیراعلی میرافضل خان نے واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے اور ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے ،کہا جا رہا ہے کہ سی ٹی ڈی پولیس گلگت کے اکیس جوانوں پر مشتمل ٹیم نے مخبر کی اطلاع پر چلاس نئی کالونی میں پولیس کو مطلوب ملزمان کی گرفتاری کیلئے رات گئے اعلاج نامی شخص کے گھرپر چھاپہ مارا، اس دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں سی ٹی ڈی پولیس کے پانچ جوان موقع پر شہید ہوگئے جبکہ گھر میں موجود نمل یونیورسٹی کے طالب علم اظہار اللہ سمیت ان کے رشتہ دار بشارت بھی موقع پر مارے گئے،زخمی افراد کو چلاس ہسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ میتوں کو بھی شواہد اکھٹے کرنے کے بعد چلاس ہسپتال اوربعد ازاں زخمیوں کو گلگت منتقل کر دیا گیا ‘ایس پی دیامر شیر خان نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سی ٹی ڈی پولیس نے کارروائی سے متعلق دیامر پولیس کو لا علم رکھا ۔دیامر پولیس واقعے کی حقائق جاننے کیلئے تفتیش اور تحقیقات کررہی ہے اور کچھ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے جلد اصل حقائق تک پہنچ جائیں گے۔ نگران وزیر اعلی میر افضل خان نے کہا ہے کہ انسانی جانوں کے ضیاع کو اس طرح جانے نہیں دیا جائے گا۔ وزیر اعلی نے آئی جی گلگت بلتستان کو ہدایت جاری کی کہ وہ ایک قابل افسر کی سربراہی میں تفتیشی کمیٹی قائم کریں اور ایک ہفتہ کے اندر رپورٹ پیش کی جائے، حالیہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے جس میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا لیکن یہ بہت سے سوالات کو اجاگر کرتا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سی ٹی ڈی نے مقامی پولیس کو کن وجوہات کی بنا پر اعتماد میں لینے کی بجائے لاعلم رکھا’ کیا آپریشن کے بغیر مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے تھے؟ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آپریشن میں مارا گیا بشارت پولیس کا مخبر تھا اور وہی سی ٹی ڈی اہلکاروں کو اس مقام تک لایا تھا، مخبر بشارت نے سی ٹی ڈی کو اطلاع دی کہ چلاس کی رنئی کالونی کے مکان میں بڑی تعداد میں اسلحہ چھپایا گیا ہے اور مکان میں سماج دشمن عناصر بھی موجود ہیں اس اطلاع پر سی ٹی ڈی اہلکاروں پر مشتمل ٹیم چلاس پہنچی اوررات ڈھائی بجے اعلاج نامی شخص کے مکان پر چھاپہ مارا،اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں پانچ اہلکار شہید ہوگئے جبکہ اعلاج کا بیٹا اظہار اللہ جو نمل یونیورسٹی کا طالب علم تھا جاں بحق ہوگیا جبکہ پولیس کا مخبر بشارت بھی مارا گیا،پولیس ذرائع کے مطابق اعلاج جگلوٹ پولیس کو بشارت کی بہن کے قتل میں مطلوب تھا اور مخبر بشارت نے اپنی بہن کے قاتل کو انجام تک پہنچانے کیلئے سی ٹی ڈی کو اطلاع دی تھی کہ ملزم اسلحہ کے غیرقانونی کاروبار میں بھی ملوث ہے اسی لئے سی ٹی ڈی کے 21اہلکاروں نے کارروائی کی لیکن بشارت خود بھی فائرنگ کی زدمیں آگیا،پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم اعلاج سمیت اس کے متعدد رشتے داروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش کی جارہی ہے ،ادھر مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ گھر سے کوئی اسلحہ نہیں ملا ہے ۔سوال یہ بھی ہے کہ کیا غیر قانونی اسلحے کے حوالے سے معاملے کو انسانی جانوں کے ضیاع کے بغیر حل نہیں کیا جا سکتا تھا ملزمان کو پکڑ کر ان سے تفتیش کی جا سکتی تھی’اگر بشارت پولیس کا مخبر تھا تو کیسے مارا گیا اور وہ خود وہاں کیوں گیا؟ اس کے لیے محض مخبری ہی کافی تھی پھر اگر اسلحے کی اطلاع تھی تو اسلحہ کیوں برآمد نہیں ہوا اور متعدد پولیس اہلکار اپنی جانوں سے گئے’ دریں اثناء سی ٹی ڈی آپریشن کے دوران فائرنگ کی زد میں آکر جاں بحق ہونے والے طالبعلم کے لواحقین نے نعش کو شاہراہ قراقرم پر رکھ کر دھرنا دیا، مظاہرین نے سڑک کو ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کرکے شدید احتجاج کیا، مظاہرین کا کہنا تھا کہ نوجوان نمل یونیورسٹی کا طالبعلم تھا اور اس کا دہشتگردی یا کسی جرائم سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا، حکومت واقعے کے اصل محرکات سامنے لائے اور انصاف کے تقاضے پورے کرے، طالبعلم اظہار اللہ کسی دہشتگردی کی سرگرمی میں ملوث نہیں، اس لئے اس کے قتل کا حساب مانگیں گے، ہمیں حقائق سے آگاہ کیا جائے،ایس ایس پی کے مطابق سی ٹی ڈی کے پانچ زخمی اہلکاروں سمیت باقی سولہ جوانوں سے بھی پوچھ گچھ جارہی ہے،مظاہرین کے مطالبات جائز ہیں چلاس واقعہ کے اصل حقائق عوام کے سامنے لائیں گے۔دو دن تک واقعے کے اصل حقائق عوام کے سامنے لانے کے مطالبے کے ساتھ مظاہرین منتشر ہو گئے۔واقعتا اس بات کی ضرورت ہے کہ اس سنگین سانحہ کی ہر پہلو سے تحقیقات کر کے حقائق کو منظر عام پر لایا جائے ایک رپورٹ کے مطابق پولیس مقابلوں میں دن بدن اضافے کا رجحان بڑھ رہا ہے، رواں سال کے دوران پولیس مقابلوں میں سوفیصد اضافہ ہوا۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیوں ان مقابلوں کی ضرورت پیش آتی ہے کیا مجرموں کو پولیس مقابلوں میں مارنے کی بجائے ان کی گرفتاری کا کوئی اور لائحہ عمل مرتب نہیں کیا جا سکتا صرف پنجاب میں رواں سال کے چھ ماہ میں114 پولیس مقابلے کیے گئے جبکہ سال دو ہزار انیس میں یکم جنوری سے جون تک 56 پولیس مقابلے ہوئے۔کچھ عرصہ قبل کے پی کے میں پولیس کے کرائم اینڈ ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ نے میڈیا کو جاری کی گئی پریس ریلیز میں دعوی کیا تھا کہ ہلاک ہونے والے پانچوں افراد دہشت گرد تھے۔ افغانستان سے دس بارہ دہشت گردوں کے گروپ میں آنے والے یہ لوگ چارسدہ، پشاور، مہمند اور ملاکنڈ میں دہشت گرد کارروائیوں کا منصوبہ بنا رہے تھے، جن کا ریگی کے مقام پر پولیس کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں وہ ہلاک ہو گئے۔ ہلاک دہشت گردوں سے خود کش جیکٹس سمیت بھاری اسلحہ بھی برآمد ہوا۔جبکہ ان کے لواحقین اور اہل علاقہ کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کہ انہیں جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا۔سی ٹی ڈی کے ساتھ مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے عرفان اللہ آفریدی کے والد لائق شاہ آفریدی نے بتایا تھا کہ عرفان اللہ کی بحیثیت سرکاری استاد تقرری ہوئی تھی اور وہ یکم جون کو ضلع خیبر کے محکمہ تعلیم کے جمرود میں واقع ضلعی ہیڈ کوارٹر میں اپنی تقرری کا لیٹر لینے گئے تھے۔ وہ اس دن کے بعد سے لاپتہ ہوگئے۔ اس کی گمشدگی کی درخواست جمرود تھانے کے علاوہ باڑہ تھانے میں بھی جمع کروائی گئی تھی۔ باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس بھی کی گئی تھی۔پھر سوشل میڈیا کے ذریعے پتا چلا کہ پشاور کے علاقے متنی میں سی ٹی ڈی نے چار دہشت گردوں کو ہلاک کیا ہے۔ ان افراد میں عرفان اللہ بھی شامل تھا اور اس کی لاش کے ساتھ اس کا شناختی کارڈ پڑا ہوا تھا۔لائق شاہ آفریدی کا کہنا تھا کہ ہم انتہائی پر امن لوگ ہیں۔ دہشت گردی کے عروج کے زمانے میں بھی سیکیورٹی فورسز کا ساتھ دیا تھا۔ اب ہم پر جو دہشت گردی کا لیبل لگایا گیا ہے، یہ قابل قبول نہیں ہے۔ یہ ہماری لیے گالی اور بدترین داغ ہے۔ ان کے بیٹے کو بے گناہ قتل کیا گیا ہے، اور اگر وہ دہشت گرد تھے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جاتا۔اگر جرم ثابت ہوتا تو سزا دی جاتی، مجھے قطعا افسوس نہ ہوتا، مگر اس طرح سے تو ہمارے پورے خاندان کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے۔ یہ مجھے قبول نہیں ہے اور اس پر جتنا ممکن ہوگا ہم احتجاج جاری رکھیں گے۔ یہ درست ہے کہ اگر کسی پر الزامات ہیں یا وہ کوئی مجرم ہے تو اسے عدالت میں پیش کیا جائے پولیس مقابلوں میں مارنا ہرگز مناسب نہیں’ماورائے عدالت قتل انتہائی ظلم اور زیادتی کے علاوہ مجرم یا ملزم کے بنیادی حقوق کے بھی خلاف ہے’پولیس کے پاس مقابلوں کے علاوہ کوئی حل کیوں نہیں ہے’ سانحہ چلاس میں لواحقین کے اعترضات و خدشات درست ہیں’ انہیں انصاف فراہم کیا جانا چاہیے’ایس ایس پی کا بھی یہی کہنا ہے کہ مظاہرین کے مطالبات جائز ہیں چلاس واقعہ کے اصل حقائق عوام کے سامنے لائیں گے’ ایس ایس پی کا یہ کہنا غمازی کرتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے ہم سمجھتے ہیں اس معاملے ہرگز فائلوں کی نذر ہو کر ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ حقائق اور ذمہ داروں کا فیصلہ کر کے انہیں سزا دینا بہت ضروری ہے۔

Facebook Comments
Share Button