تازہ ترین

GB News

قومی اسمبلی:فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)سے متعلق2بلز منظور

Share Button

اسلام آباد(آئی این پی،مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی میں حکومت شدید احتجاج اور شور شرابے کے باوجودفنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)سے متعلق2بلز منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی بل کے تحت دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لئے مزید سخت قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔انسداد دہشتگردی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان میں کی گئی ترمیم کے تحٹ شیڈول فور میں شامل افراد کے اسلحہ لائسنس منسوخ ہوں گے اور شیڈول 4 میں شامل افراد کو کوئی شخص یا ادارہ قرض نہیں دے گا۔نئی ترمیم کے تحت مشتبہ دہشت گرد کو قرض دینے والے شخص کو ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ ہوگا اور مشتبہ دہشت گرد کو قرض دینے والے ادارے پر پانچ کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا جبکہ کسی کو دہشت گردی کیلیے بیرون ملک بھیجنے میں مدد و مالی اعانت پر بھی جرمانے ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان میں ترمیم کے بعد کالعدم تنظیم یا نمائندے کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد منجمد کی جائیں گی اور جائیداد کی تصدیق نہ ہونے پر عدالتی دائرہ کار سے باہر جائیداد قرق ہوگی۔ترمیم کے تحت منجمد کیے گئے اثاثہ جات کا گزٹ نوٹیفکیشن بھی نکالا جائے گا۔اپوزیشن کی جانب سے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر مسلسل احتجاج اور سپیکر ڈائس کے گھیرائو کے باعث سپیکراسد قیصر کواجلاس کی کارروائی 3بار ملتوی کرنا پڑی۔ انسداد دہشت گردی اوراقوام متحدہ (سلامتی کونسل ) ترمیمی بل پر مسلم لیگ(ن)کی تمام ترامیم کو کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں،بلوں کی منظوری کے دوران اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور اسپیکر ڈائس کا گھیرا ئو جاری رکھا،گونیازی گونیازی کے نعرے بھی لگائے گئے۔اپوزیشن ارکان نے بولنے کی اجازت نہ ملنے پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی بولنے نہ دیا اور شاہ محمود قریشی 4بار سپیکر کی جانب سے مائیک ملنے کے باوجود بات نہ کرسکے۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بولنے کی اجازت نہ ملنے پر احتجاجاً ایوان سے چلے گئے۔اپوزیشن ارکان خواجہ محمد آصف اور راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ آئندہ حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے،حکومت نیب قانون مزید سخت کر لے ہمیں اسکا کوئی ڈر نہیں، ہم ریلیف نہیں چاہتے، ہمیں جو بھگتنا تھا وہ بھگت چکے اب انکی باری ہے۔ بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصرکی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میںگزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ (ن)کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر خارجہ نے طویل تقریر کی جو نہ کی جاتی، اب ضرورت ہے کہ ہمارا موقف بھی عوام کے سامنے رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ چند روز قبل اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جس میں طے کیا گیا کہ قانون سازی کے حوالے سے بلز اس کمیٹی میں زیر غور لائے جائیں گے ساتھ ہی ایک غیر رسمی کمیٹی کے ذریعے اتفاق رائے کروانے کی کوشش کی گئی جس کے تحت اسپیکر کی رہائش گاہ ہر 9 اراکین پر مشتمل غیر رسمی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔انہوں نے کہا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کا بل شق وار زیر غور لایا گیا، جس میں نے رائے دی تھی مطالبات نہیں کیے تھے لیکن وزیر خارجہ جو کہ سیاستدان ہیں اور سیاستدان اس قسم کی رنگ بازی کرتے ہیں جو ہم بھی کرتے ہیں، اس رنگ بازی میں انہوں نے پروپرائیٹی کی تمام حدود پار کردی جس کا ایک مہذب معاشرے میں احترام کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات نوٹیفائیڈ کمیٹی کی سہولت کے لیے تھے جسے ریکارڈ پر لانے کی ضرورت نہیں تھی، ان مذاکرات میں 2بلز پر اتفاق رائے بھی ہوا لیکن اس کا انہوں نے ذکر نہیں کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کہ ہم نیب زدہ لوگ ہیں اور نیب قانون کو استعمال کر کے قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ۔پی ٹی آئی حکومت پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے خیبرپختونخوا میں کوئی بے ایمان نہیں ہے، وہ جنت کا ٹکڑا ہے سارے فرشتے وہاں پر رہتے ہیں۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر ان کا ایجنڈا بدعنوانی کے خلاف ہے تو ان کی صفوں میں ایسے بڑے بڑے مہا کرپٹ لوگ بیٹھے ہیں جس کی مثال پاکستان کی کسی حکومت کے دور میں نہیں ملتی خواجہ آصف نے کہا کہ اگر نیب قانون کا دائرہ وسیع کرنا چاہتے ہیں تو کریں زیادہ دیر باقی نہیں رہی، عصر کا وقت آگیا ہے مغرب ہونے والی ہے اور ساتھ ان کا زوال شروع ہونے والا ہے پھر یہی قانون ان پر لاگو ہوگا، پیپلزپارٹی کے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وزیر خارجہ نے کل ڈیڑھ گھنٹہ تقریر کی ہم نے خاموشی سے ان کی تقریر سنی۔ میںذمہ داری سے بات کر رہا ہوں کہ ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر کا نچوڑ یہ تھا کہ اپوزیشن کرپٹ ہے اور اپوزیشن چاہتی ہے کہ نیب قانون تبدیل ہو جائے،وزیر خارجہ نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ اپوزیشن کی ایف اے ٹی ایف میں کوئی دلچسپی نہیں، اپوزیشن کی دلچسپی صرف نیب قانون ہے۔ سپریم کورٹ نے حکومت کے بارے میں لکھا کہ نااہل اور بونے لوگوں کومسلط کیا جاتا ہے،اگر حکومت کو اس فیصلے سے مسئلہ ہے تو سپریم کورٹ جا کر احتجاج کریں اور اس جملے کو جذف کروائیں۔ اعلیٰ عدالت نے کہا کہ نیب سیاسی پوائنٹ سکورننگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر سپیکر اسد قیصر نے ایک بار پھر مائیک وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو دیا تو اپوزیشن نے ایک بار پھر احتجاج شروع کر دیا۔اپوزیشن ارکان نے سیکر ڈائس کا گھیرائو کیا اور مولانا اسعد محمود کو بولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا اس موقع پر حکومتی ارکان نے ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگائے جبکہ ایم ایم اے کے ارکان نے بھی جوابی نعرے لگائے اور کہا گیا کہ جس کی ٹینکی خالی ہے وہ آکر بھروا لے۔اپوزیشن کی جانب سے مسلسل احتجاج پر سپیکر نے ایک بار پھر اجلاس کی کارروائی10منٹ کیلئے ملتوی کردی۔بعد ازاں اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو سپیکر اسد قیصر نے کہا کہ پہلے ایجنڈے پر موجود قانون سازی کی جائے گی اسکے بعد میں سب کو بولنے کا موقع دئوں گا،اس موقع پر ایم ایم اے سمیت اپوزیشن ارکان نے ایک بار پھر احتجاج شروع کر دیا اور سپیکر ڈائس کا دوبارہ گھیرائو کیا۔اپوزیشن کے احتجاج کے دوران انسداد دہشت گردی ترمیمی بل 2020اوراقوام متحدہ (سلامتی کونسل )ایکٹ1948میں مزید ترمیم کرنے کا بل(سلامتی کونسل ترمیمی بل2020 ) کو کثرت رائے سے منظور کرلیا ،بل مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے پیش کئے،بلوں پر مسلم لیگ(ن)کی تمام ترامیم کو کثرت رائے سے مسترد کردیا گیا۔اس دوران اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں اور اسپیکر ڈائس کا گھیرا ئو جاری رکھا، بلوں کی منظوری کے بعد سپیکر اسد قیصر نے تیسری بار اجلاس آدھے گھنٹے کیلئے ملتوی کیا ۔بعد ازاں اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو ڈپٹی سپیکر نے ایک بار پھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو مائیک دیا جس پر اپوزیشن نے احتجاج شروع کر دیا،جس پر ڈپٹی سپیکر نے وزیر مواصلات مراد سعید کو مائیک دیدیا ۔وفاقی وزیر مراد سعید کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور سپیکر ڈائش کا گھیرائو کیا۔مراد سعید کی تقریر کے بعدڈپٹی سپیکر نے ایم ایم اے کے مولانا اسعد محمود کو مائیک دیا اور حکومتی ارکان نے احتجاج شروع کر دیا اور ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگائے ۔جس پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا۔

Facebook Comments
Share Button