تازہ ترین

GB News

ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہی اللہ نے ہمیں آزمائش میں ڈالا، ایسی کوئی بیماری نہیں دی جس کا علاج نہ ہو،خطبہ حج

Share Button

میدان عرفات(مانیٹرنگ ڈیسک)حج کا رکن اعظم وقوف عرفات جمعرات کو ادا کیا گیا اس موقع پر شیخ عبداللہ بن سلیمان نے مسجد نمرہ سے خطبہ حج دیتے ہوئے کہا کہ وبا اگر آزمائش ہے تو اللہ کی رحمت کے دروازے بھی کھلے ہیں اور ہمارے گناہوں کی وجہ سے ہی اللہ نے ہمیں اس آزمائش میں ڈالا،یہ دعا،تقویٰ اور صبر سے ختم ہوگی، اللہ کے حکم سے ہی مشکلات آتی ہیں لیکن اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں دی جس کا علاج نہ ہو۔مسلمان ہر طرح کی خرافات سے دور رہیں اورنفرتوں کو مٹادیںخودکوسیاسی طورپر مضبوط کریں، کچھ لوگ حرام چیزوں کا استعمال کرتے ہیں، اس وجہ سے بھی وبا آتی ہے، جہاں وبا پھیل جائے وہاں باہر سے کوئی بندہ داخل نہ ہو، جو لوگ اللہ کی حدود کو توڑتے ہیں ان کیلئے دنیا اور آخرت میں عذاب ہے، دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مشکلات امتحان ہے، شیخ عبداللہ بن سلیمان نے کہا کہ نبی کریمۖ ہمارے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے، تقویٰ اختیار کرنے والے تنگ دستی سے دور رہتے ہیں، تم لوگوں کو تقوی ٰکی نصیحت کی جاتی ہے، آج بہت بڑی تعداد میں مسلمان اللہ کی تعلیمات سے غافل نظر آتے ہیں۔شیخ عبداللہ بن سلیمان کا کہنا تھا کہ دین میں کسی نئی چیز کی کوئی گنجائش نہیں، اللہ تعالیٰ نے دین کو کامل اور مکمل کر دیا، اللہ تعالیٰ شرک کو پسند نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ہر قسم کی بدعت اور خرافات سے دور رہیں، اللہ تعالیٰ نے خوشی اور غمی کی حالت میں صبر کی تلقین کی ہے، اللہ نے فرمایا کہ کبھی تمہیں مال میں اور کبھی اولاد میں کمی سے آزماتے ہیں۔خطبہ حج میں مزید کہا گیا کہ عبادات سے ہی مصیبتوں سے چھٹکارا ملتا ہے، ہمارے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے ہمیں اس آزمائش میں ڈالا، قرآن میں ہے کہ صبر اور دعا کے ذریعے اللہ کی مدد مانگو، اللہ تعالی تمہارے لیے مشکلات نہیں آسانیاں چاہتا ہے، قرآن میں ہے کہ معمولی مصیبت کا مقصد بڑی مشکل سے چھٹکارا ہے اور ایمان والے ہیں جو مصیبت میں اللہ پر یقین رکھتے ہیں۔شیخ عبداللہ بن سلیمان نے کہا کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اختیار کریں، اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ، اپنے بھائی بہنوں اور رشتہ داروں کا خیال رکھو، رشتہ داروں کے ساتھ صلح رحمی کے ساتھ پیش آؤ، حقداروں کا حق ادا کرو اور سیدھے راستے پر چلنے والے کے لیے ہی نجات ہے۔ اس وقت معاشی طور پر مسائل اور شدائد کا سامنا ہے، شریعہ اسلامیہ نے بھی فرمایا کہ اللہ اپنے بندوں کو جانچتا ہے، لہٰذا تجارت کرنے والے تاجروں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے تعاون کریں تاکہ اس آیام شدت سے باہر نکلا جاسکے،خطبہ حج میں شیخ عبداللہ بن سلیمان کا کہنا تھا اللہ تعالیٰ مشکلات کے بعد آسانیاں بھی فراہم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے، کچھ لوگ دینی اور کچھ دنیاوی معاملات میں خیانت کرتے ہیں، اہل ایمان کو میانہ روی اختیار کرنی چاہیئے۔شیخ عبداللہ بن سلیمان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے مشکلیں نہیں، آسانیاں چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ خیانت کرنیوالوں کو پسندنہیں کرتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے دھوکا اور خیانت کرنیوالا ہم میں سے نہیں، قرآن میں ہے صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد مانگو، اسلام کی حقیقی تصویر اعلیٰ اخلاق ہے، اللہ غرور اور تکبر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا، آج مسلمانوں کو اپنے سیاسی اور معاشی حالات دین کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔خطبہ حج میں کہا گیا کہ اللہ کے سوا کوئی شریک نہیں، اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے انسانوں کو نعمتیں بخشیں، نبی کریمۖ نے اپنی زندگی خیر کیلئے وقف کی، جو کچھ زمین اور آسمان میں ہے سب اللہ کا ہے، تم لوگوں کو تقویٰ کی نصحیت کی جاتی ہے، اللہ کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم جیسے لوگوں کو پیدا کیا، آج بہت بڑی تعداد میں انسان اللہ کی بندگی سے غافل نظر آتے ہیں۔خطبہ حج میں مزید کہا گیا کہ تقویٰ اختیار کرنیوالے کی ہر تنگ دستی دور کر دی جاتی ہے، جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے سب اللہ کی ملکیت ہے، جو آدمی خلوت اور جلوت کو ایک جیسا بنا دیتا ہے وہ اللہ کا محبوب بن جاتا ہے، اللہ کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم جیسے لوگوں کو پیدا کیا، آج بہت بڑی تعداد میں انسان اللہ کی بندگی سے غافل نظر آتے ہیں، آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، آپۖ کے بعد تا قیامت کوئی رسول نہیں آسکتا، اللہ تعالیٰ نے دین کو کامل اور مکمل کر دیا۔خطبہ حج میں کہا گیا کہ اللہ کے احکامات پر عمل پیرا ہونا ہی تقویٰ ہے، اہل تقوی کی صفحات میں اولین صبر ہے، آج بڑی تعداد میں لوگ اللہ سے غافل نظر آتے ہیں، سیدھے راستے پر چلنے والے کیلئے نجات ہے، مسلمان اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں، اے لوگو! اللہ کی کائنات اور اس کے نظام پر بار بار غور کرو، ناحق قتل پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے۔خطبہ حج میں شیخ عبداللہ بن سلیمان کا کہنا تھا اپنے بھائی بہنوں اور رشتہ داروں کا خیال کیا جائے، اللہ رب العزت نے قتل کو حرام قرار دیا، اللہ نے صلح کرانے پر زور دیا ہے، بے شک اللہ کی رحمت احسان کرنیوالوں کے قریب ہے، نفرتیں ختم کریں، انسان ہو یا جانور، سب سے رحمت کا معاملہ کریں، جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اسے دنیا و آخرت کے ڈر سے نجات دلاتا ہے۔خطبہ حج میں کہا گیا کہ جس وقت انسان نماز کیلئے کھڑا ہو تو طہارت اور پاکیزگی کا خیال رکھے، اگر کوئی تنازع پیدا ہو جائے تو ہمیں اللہ اور رسول کی طرف پلٹ جانا چاہئے۔

Facebook Comments
Share Button