تازہ ترین

GB News

یوم استحصال:یکجہتی کے عملی تقاضوں پر توجہ دیں

Share Button

 

آج پورے ملک میں کشمیریوں سے یک جہتی کے لیے یوم استحصال منایا جا رہا ہے ‘ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائے گی اور اقوام متحدہ کے مبصر مشن کو مفاہمتی یادداشت پیش کی جائے گی۔کشمیری عوام کیخلاف بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے کیلئے سوشل میڈیا پر بھرپور مہم چلائی جائے گی۔مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمان اقلیت خلاف اس کے اصل چہرے کو بے نقاب کرنے کیلئے عالمی رہنمائوں کو خطوط لکھے جائیں گے ۔ مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی اور حمایت کیلئے ضلع کی سطح پر ریلیاں بھی نکالی جائیں گی۔گزشتہ سال نریندر مودی کی حکومت نے غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اسے تین حصوں میں تقسیم اور آرٹیکل 370 منسوخ کردیا۔گزشتہ ایک سال سے کشمیری عوام کو جاری فوجی محاصرے کے باعث انتہائی مشکلات مصائب اور ظلم و ستم کا سامنا ہے۔کون نہیں جانتا کہ1947سے 2019تک کشمیر ہندوستان کے ماتحت رہا مگر اس کی اپنی الگ حیثیت تھی۔ 2019میں مودی حکومت مسلم دشمنی میں اتنا آگے نکل گئی کہ اس نے ریاست جموں و کشمیرکو خود مختاری کا درجہ دینے والی آئینی دفعہ 370 کو ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ بھارتی حکومت کی طرف سے پانچ اگست کو آئینی شِق 370 کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم ہوگئی ہے۔ جس کی وجہ سے اس دن سے تاحال کرفیونافذ ہے۔ کشمیر ی عوام اپنے گھروں میں قید ہوکر رہ گئی۔امت مسلمہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یوم یکجہتی کشمیرمنا کر پاکستانی حکمران کون سا معرکہ انجام دینا چاہتے ہیں؟ گزشتہ کئی سالوں میں اس دن کے حوالے سے جو سرگرمیاں ہوئیں ان کے کیا نتائج برآمد ہوئے؟اگر دیکھا جائے تو ہماری اور امت مسلمہ کی بے حسی کی وجہ سے آج کشمیری عوام اپنی آزادی کی جنگ لڑتے لڑتے خود محصور ہوکر رہ گئی مگر ابھی تک کوئی محمد بن قاسم بن کر میدان میں نہیں نکلا۔اب سوچنا یہ ہے کہ اس طرح دن منانے سے کیا کشمیری عوام کی نجات ممکن ہے؟ یقینا نہیں۔ اگر ایسا ہونا ہوتا تو شاید بہت پہلے ہو چکا ہوتا۔ کشمیری عوام سے یکجہتی منانے سے کشمیر آزاد نہیں ہوگا۔ اگر اسکی آزادی منظور ہے تو اس کے لیے عملی اقدام کرنا ہونگے۔آج کوئی شخص کسی کے ایک فٹ جگہ پر قابض ہو جائے تو وہ لوگ اسے زندگی موت کا سوال بنا لیتے ہیں تو پھر پاکستان کشمیر کو کیسے دشمنوں کو دے سکتا ہے؟پچھلے کافی عرصہ سے کشمیر کے حل کے لیے ایک کشمیر کمیٹی بنائی ہوئی ہے اسکا کیا فائدہ؟ سوائے ملک کے خزانے پر بوجھ کے۔ اگرہمارے حکمرانوں نے تجارت کرنی ہوتو چندماہ میں ڈائیلاگ کرکے تجارت کے لیے سرحدیں کھول دی جاتی ہیں مگر کشمیر کے نام پریہ حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔کشمیر ی عوام پرجو ظلم ہندوستانی حکمران ڈھا رہے ہیں اس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی۔ آج بھی کشمیر کے لوگ محمد بن قاسم کا انتظار کر رہے ہیں جو آئے اور ان کا آزادی دلائے۔کشمیر کا سودا کوئی بھی مسلمان قبول نہیں کرسکتا کیونکہ ہمارے بزرگوں نے جو قربانیاں کشمیر کی آزادی کے لیے دی ہیں کیا ہم ان قربانیوںکو رائیگاں جانے دیںگے؟ کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان کا بچہ بچہ بھارت کو کبھی اپنا دوست قبول نہیںکرے گا۔آج یوم استحصال کے موقع پر پاکستانی عوام کو یہ ضرور سوچنا ہو گا کہ کشمیری عوام سے یکجہتی کی بنیاد اور طریقہ کار کیا ہو گا؟ کیا یکجہتی حکمران طبقے کے نقطہ نظر پر کی جانی چاہئے یا عوام کے؟ آئیے آج ہم عہد کریں کہ ہم اپنے مسلم حکمرانوں کو کشمیر کے آزادی کے لیے مجبور کریں گے اور کشمیر ی بھائیوں کو ان کا حق دلائیں گے خواہ اس کے لیے ہمیں اپنی جانوں کی قربانی کیوں نہ دینی پڑے اور بھارت کے ساتھ اس وقت تک تعلقات نہیں بنائیں جب تک وہ ہمارے کشمیر بھائیوں کو انکا حق نہیں دے دیتا ۔اگر ایسا نہ کیا تو پھرکشمیر کی آزادی کے دن تک پاکستان کے بچے بچے کی زبان پر ایک ہی نعرہ رہے گا کشمیر کی آزادی تک، جنگ رہے گی کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ ہم اہم دن پر قائداعظم کے قول تو بہت یادرکھتے ہیں مگر کشمیر کے نام پر ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو کچھ یاد نہیں رہتا۔ کشمیر کو اگر اسی طرح آگ میں جلنے دیا تو پھر یاد رکھیں ایک دن یہ آگ ہمارے گھروں تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اس لیے آئیے ہم تمام دنیا کے مسلمان آج عہد کریں کہ کشمیر سے فی الفور کرفیو ختم کراتے ہوئے کشمیر یوں کو ان کا حق دلائیں ورنہ تمام مسلم ممالک بھارت سمیت جو اس کے حمایتی ممالک ہیں ان سب کا بائیکاٹ کردیں ۔ بھارتی سیاستدان اور سابق وزیرداخلہ پی چدمبرم نے جو اس وقت راجیہ سبھا کے رکن ہیں، کہا ہے کہ جموں وکشمیر ایک بڑی جیل ہے اور مودی حکومت 5 اگست 2019 کے اقدامات کے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پی چدمبرم نے شائع ہونے والے ایک مضمون میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لئے بھارتی آئین کی دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پروجیکٹ جموں و کشمیر کا مقصد ریاست کو توڑنا، اس کی حیثیت کو گھٹا کر یونین ٹیریٹری بنانا، ان علاقوں کو براہ راست نئی دہلی کی حکمرانی میں لانا، سیاسی سرگرمیوں کو دبانا، وادی کشمیر کے لوگوں کو ہراساں کرنا اور آزادی کی جدوجہد کو کچلنا تھا۔ پبلک سیفٹی ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کا قانون اندھا دھند طریقے سے استعمال کیا جارہا ہے۔ تحریک آزادی کو روکنے کے لئے وسیع پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں روزانہ کی جارہی ہیں۔ انسانی حقوق کو برقرار رکھنے کے لئے تمام قانونی کمیشنوں کو مجروح کیا گیا ہے۔ نئی میڈیا پالیسی واضح اعتراف ہے کہ آزاد میڈیا کے لئے جموں و کشمیر میں کوئی جگہ نہیں اور یہ سنسرشپ کو تقویت دیتی ہے۔مبین شاہ، میاں عبد القیوم، گوہر گیلانی ، مسرت زہرہ اور صفورا زرگر کے مقدمات قانون کے ناجائز استعمال اور انصاف کے حصول میں مشکلات کو ظاہر کرتے ہیں۔ بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی نے جموں وکشمیر کے لوگوں کے نام اپنے ایک پیغام میں آج مکمل ہڑتال کرنے کی کال دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں نے جس طرح اپنے مذموم ایجنڈے کو پورا کرنے کیلئے پوری آبادی کو گھروں تک محدود کر کے کشمیر کو دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کر دیا ہے وہ عالمی برادی کیلئے ایک کھلا چیلنج ہے۔ انہوں نے خاص طور پر پاکستان او ر دنیا کے دیگر ملکوں میں رہنے والے کشمیریوں سے اپیل کی کہ وہ پانچ اگست کو بڑی تعداد میں بھارتی سفارتخانوں کے آگے جمع ہوں اور گزشتہ برس کی اس روز کی غیر قانونی بھارتی کارروائیوں کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں پانچ اگست کو ہڑتال کی کال دہراتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام اس روز مکمل ہڑتال کر کے بھارتی حکام پر واضح کریں گے کہ وہ بھارت کا غیر قانونی قبضہ تسلیم نہیں کر یں گے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا کہ بدھ کو مقبوضہ علاقے کی مساجد سے آزادی کے ترانے نشر کیے جائیں گے۔محبوبہ مفتی کی بیٹی التجا نے کہا آرٹیکل 370صرف مسلمانوں کو سزا دینے کے لئے ختم کیا گیا پانچ اگست یوم سیاہ ہے ،گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہیں ادھر نیو یارک کے ٹائم سکوائر میں کشمیری لائیوز میٹر کے بینرلہرا دیئے گئے ایک پر پانچ اگست کشمیر کے محاصرے کا دن ہے تحریر تھا۔بھارت جموں وکشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنے کیلئے جبر و تشدد اور دھوکہ ہی کی پالیسی پر بدستور عمل پیرا ہے اور غیر کشمیریوں کو کشمیر میں آباد کر کے آبادی کا تناسب تبدیل کر نا چاہتا ہے۔ ایک سال سے کشمیری اپنے گھروں میں محصور ہیں اور ہم محض دن منا رہے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ اس بات کو سمجھا جائے کہ ہندو بنیا طاقت کی زبان سمجھتا ہے جس طرح چین نے لداخ’چکن نیٹ اورفنگرز پر قبضہ کر کے بھارت کو دن میں تارے دکھا دیے ہیں ہمیںبھی یہی راہ اختیار کرنا ہوگی کیونکہ کشمیر محض بیانات اور ایک منٹ کی خاموشی آزاد نہیں ہو گا۔

Facebook Comments
Share Button