تازہ ترین

GB News

گلگت بلتستان میں راکی بھیانک سازشیں

Share Button

قوم پرست رہنما عبدالحمید خان نے گلگت واپس پہنچنے کے بعد قوم سے معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے ماضی پر نادم ہیں، نوجوان اور میرے فالورز حقوق کے نام پر دشمن طاقتوں کے جھانسے میں نہ آئیں کیونکہ دشمن کے پاس ہمیں ٹشو پیپرز بنانے کے سواکچھ بھی نہیں ہے، میں بھی سیاسی حقوق کی جدوجہد کے نام پر نہ چاہتے ہوئے غلطی سے دشمن کے جھانسے میں آگیا تھا اور مجھے گلگت بلتستان میں بدامنی پھیلانے کیلئے بھارتی ایجنسی راء ماہانہ 25ہزار یورو دیتی رہی لیکن میں نے گلگت بلتستان میں تشدد ، بدامنی اور خون خرابے سے انکار کیا اور سارا سرمایہ سماجی کاموں پر صرف کیا۔ مجھے احساس ہوا کہ میں غلط راستے کا مسافر ہوں تو میں دشمن ایجنسیوں سے راستے الگ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی مرضی سے پاکستان واپس آیا۔ میں گھر سے روٹھے ہوئے بچے کی طرح غصے میں باہر چلا گیا تھا اور یہ بھی دنیا کی حقیقت ہے کہ روٹھے ہوئے بچے کی گھر واپسی پر ماں اسے قبول کرتی ہے۔انہوں نے ماضی پر ندامت کا اظہار اور نوجوانوںسے دشمن طاقتوں کے جھانسے میں نہ آنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے سیاسی حقوق کا ضامن پاکستان ہے اور ہم پاکستان کے پرچم تلے آگے بڑھ سکتے ہیں، گلگت بلتستان میرا گھر ہے اور مٹی کی محبت نے مجھے واپس بلایا ہے، ہمارے جائز سیاسی حقوق میں نہ تو بھارت کو دلچسپی ہے اور نہ ہی کوئی اور طاقت خیر خواہ ہے اس لیے میں آزادی کے نعرے سے دستبرداری کا اعلان کرتاہوں، فی الحال کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کا ارادہ نہیں، گلگت بلتستان پاکستان کے پرچم تلے ترقی کررہا ہے جو بھی حقوق درکار ہیں وہ پاکستان سے ملنے ہیں۔میری واپسی کا مقصد اپنی نوجوان نسل اور قوم کے سامنے اس حقیقت سے پردہ اٹھانا ہے کہ دشمن طاقتیں خاص کر بھارت نہ تو ہمیں حقوق دلوا سکتا ہے اور نہ ہی ہمارا خیر خواہ ہے جب کہ دوسری جانب دشمن طاقتیں گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری کے ذریعے افراتفری اور انتشار پھیلانا چاہتی ہیں۔ یہ درست ہے کہ بھارت عرصہ دراز سے اپنی سازشوں کی تکمیل میں مصروف ہے اور اس حوالے سے نوجوانوں کو گمراہ کرتا ہے پھر جب سے چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر کا اعلان ہوا، بھارت اور اسکی خفیہ ایجنسی رانے گلگت بلتستان میں اپنی تخریبی کارروائییں اور پر وپیگنڈا مہم میں تیزی پیدا کر دی ہے۔گلگت بلتستان اور آزاد جموں کشمیر سے متعلق بی جے پی کے ہولناک اور سنگین منصوبے منظر عام پہ آچکے ہیں۔ مودی جو انتہا اور شدت پسند بھارتی گروہ راشٹر یہ سوائم سیوک سنگھ کے سر گرم رکن اور مسلم کش ایجنڈا ہندتوا کے پیروکار ہیں نے اپنی قوم سے وعدہ کیا کہ وہ پورے کشمیر کو بھارت میں ضم کر کے دم لیں گے۔ اپنی گھنائونی سازش پہ عملدر آمد کی خاطر انہوں نے کارروائی کا آغاز کر رکھا ہے ۔ اس سازش کی تکمیل کیلئے پاکستان کو کمزور کرنا لازمی تھا تاکہ وہ احتجاجی کارروائیاں کرنے کے بھی قابل نہ رہے۔ اسی لئے بلوچستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں شورش بپا کر نے کی کوشش کی گئی۔ مقبوضہ کشمیر میں عام انتخابات کر اکے بی جے پی کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 جسکے تحت مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل ہے، کو منسوخ کراکے خطے کو بھارت میں ضم کر دیا جائے۔ انتخابات میں دھاندلی کی سازش مقبوضہ کشمیر کے غیور عوام نے نہ کام بنادی۔ مودی نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی خاطر بھارت سے ہزاروں کی تعداد میں ہندوں کو بسانا شروع کردیا ۔تاکہ اگر رائے شماری کی نوبت آئے تو مقبوضہ کشمیر کے باشند ے بھارت سے الحاق کے حق میں ووٹ دیں۔ پاکستان کو کمزور کرنے کا مقصد یہ بھی تھا کہ آزاد جموں وکشمیر کو طاقت کے زور سے حاصل کرلیا جائے۔ اسکے ساتھ ساتھ آزاد جموں کشمیر کے عوام کو پاکستان سے متنفر کر نے کی سازشوں میں اضافہ ہوگیا۔ لائن آف کنٹرول کے پار گولہ باری اور الزام پاکستان کے سر تھوپنا کہ پہل پاکستان نے کی تھی اورعذر پیش کرنا کہ بھارت تو محض جوابی کاروائی کر رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جعلی حملے کر اکے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا اور مقبوضہ کشمیر میںشورش بپا کر کے اسے پاکستان کی جانب سے دراندازی اور دہشت گردی قرار دینا اسی سازش کا حصہ ہے۔ واخان راہداری کے تحت افغانستان تک رسائی حاصل کرنے کی خاطر بھارت نے گلگت بلتستان پر اپنی ملکیت کا اعلان کردیا ۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے بیان دیا کہ بھارت کی پوزیشن واضح ہے ۔جموں وکشمیر کا مکمل علاقہ بشمول گلگت بلتستان بھارت کا اٹوٹ انگ ہیں ۔ بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس بی ایس ایف کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی کے قومی سلامتی امور کے مشیر اجیت دوول نے اپنے قبیح ارادے واضح کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بھارت کی سرحدیں واخان راہداری کے ذریعہ افغانستان کے ساتھ 106کلومیٹر طویل ہیں اور ہمیں اسکی حفاظت کرنی ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا ہے۔اس تقریر سے گلگت بلتستان سے متعلق بھارتی عزائم واضح ہو جاتے ہیں کہ آیاوہ اس خطے کو طاقت کے زور پربھارت میں شامل کرے گا یا شورش کے ذریعہ اس کے عوام کو بغاوت پر اکساکر بھارت سے الحاق پر اکسائے گا۔ بھارتی خفیہ ایجنسی راء نے اپنے مذموم پراپیگنڈا کی خاطر عوام کو پاکستان سے متنفر کرنے اور بغاوت پہ اکسانے کی خاطر مخصوص ویب سائٹ بھی بنائی ہیں جو زہر پھیلانے میں مشغول ہیں ۔پاکستان کی حکومت ،مبصرین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس گمبھیر صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیے کر بھارت کی گلگت بلتستان میں سازشیں ناکام بنارہے ہیں۔کچھ عرصہ قبل انٹیلی جنس اداروں کی بڑی کامیابی، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیئے را کا نیٹ ورک پکڑا تھارا نے گلگت بلتستان میں انتشار پھیلانے کی طویل منصوبہ بندی کی جسے بے نقاب کر کے ناکام بنا دیا گیااس حوالے سے کہا گیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی راء کی زیر سرپرستی گلگت بلتستان کی ذیلی قوم پرست تنظیم بلورستان نیشنل فرنٹ حمید گروپ کی آبیاری کی گئی’را کا ہدف یونیورسٹیوں کے طلبا اور گلگت بلتستان کی نوجوان نسل کو ٹارگٹ کر کے دہشت گردی اور علیحدگی کی تحریک کو ہوا دینا تھا’راء کے اشاروں پر اس گروپ نے عالمی مالیاتی اداروں کو خطوط کے ذریعے گلگت بلتستان و دیگر جگہوں پر چھ مجوزہ ڈیموں کے لیئے مالی و تکنیکی مدد فراہم کرنے سے روکنے کی کوششیں کیں’بھارت میں راء کے ایجنٹ کرنل ارجن اور جوشی نے عبدالحمید خان کو ہینڈل کیا’عبدالحمید خان کو دہلی میں تھری اسٹار اپارٹمنٹ میں رکھا گیا، بعد ازاں تین بیٹوں سمیت فیملی کو بھی بھارت منتقل کیا گیا’عبدالحمید خان کے بچوں کو مختلف اسکولوں، کالجز میں مہنگی تعلیم دلوائی گئی’یہ بتایا گیا کہ راء نے عبدالحمید خان گروپ پر گیارہ سالوں میں بھاری سرمایہ کاری کی ‘عبدالحمید خان کو تمام طرح کی بھارتی شناختی دستاویزات فراہم کی گئیں اور کاروبار کے لیئے سہولیات دی گئیں’عبدالحمید کے بیٹوں کی تعلیم کو بھارت کے ساتھ یورپ میں بھی اسپانسر کیا گیا’دو ہزار سات کے بعد عبدالحمید خان کو برسلز منتقل کرایا گیاتا کہ مختلف عالمی فورمز پر پاکستان مخالف تقاریر کر سکے راء نے بی این ایف کو گلگت بلتستان میں سرگرمیوں کے لیئے ایک ارب روپے کے لگ بھگ خطیر رقم بھی فراہم کی۔ذیلی قوم پرست تنظیم بلورستان ٹائمز میگزین کے ذریعے علیحدگی پسند سوچ کو ہوا دے رہی تھی’راء کے سالہا سال سے تشکیل دیئے گئے نیٹ ورک کو ناکام بنانے کے لیئے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی نے طویل اور صبر آزما منصوبہ بندی کی غور طلب امر یہ ہے کہ ایسے عناصر و یہ جان لینا چاہیے کہ دشمن کسی بھی صورت ہمارا خیرخواہ نہیں ہو سکتا اسے یہاں کسی علاقے کی بہتری کی بجائے یہاں کی تباہی سے دلچسپی ہے۔

Facebook Comments
Share Button