تازہ ترین

GB News

موٹروے زیادتی کیس میں 14مشتبہ ملزمان گرفتار

Share Button

لاہور میںموٹر وے پر دوران ڈکیتی خاتون سے مبینہ زیادتی کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، 14 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا، تفتیشی ٹیموں نے وقوعہ سے اہم شواہد جمع کرلئے۔ آئی جی پنجاب کا کہنا ہے متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی تک پولیس چین سے نہیں بیٹھے گی۔ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں پولیس کی 20 ٹیمیں تفتیش میں مصروف ہیں، ٹیموں نے وقوعہ سے ڈی این اے سمیت دیگر اہم شواہد جمع کرلئے، کیمروں سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی، جیو فینسنگ بھی کرائی گئی انھوں نے بتایا کہ گرفتار مشتبہ ملزمان میں باپ بیٹا بھی شامل ہیں۔نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کا کہنا تھا کہ خاتون رات ساڑھے 12 بجے گوجرانوالہ جانے کیلئے نکلی، خاتون کو گھر سے نکلتے وقت کم ازکم گاڑی میں پٹرول چیک کرنا چاہیے تھا، خاتون نے 15 پر کال کرنے کی بجائے اپنے بھائی کو فون کر کے اطلاع دی، خاتون کے بھائی نے 130 پر موٹروے پولیس کو فون کر کے کہا کہ اپنی موبائل بھجوائیں۔سی سی پی او لاہور کا کہنا جس جگہ یہ واقعہ ہوا وہاں 5 کلومیٹر کے علاقے میں 3 گاؤں ہیں، ملزمان کے گاڑی کا شیشہ توڑنے سے خون نکلا جس کی وجہ سے ہمارے پاس خون کا نمونہ موجود ہے، تحقیقات میں رورل اور اربن پولیس کی جدید تکنیک کا استعمال کیا جا رہا ہے، اطلاع ملتے ہی تحقیقات کا آغاز کر دیا تھا، 14 مشتبہ افراد زیر حراست ہیں، 48 گھنٹے میں ملزمان تک پہنچ جائیں گے۔وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہا ہے کہ موٹر وے پر خاتون سے زیادتی کیس پر پیشرفت کا ذاتی طور پر جائزہ لے رہا ہوں، آئی جی پنجاب کو ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لانے کیلئے ہدایات دی ہیں، ملزمان کا سراغ لگانے کیلئے سائنٹفک اور جدید انداز سے تحقیقات آگے بڑھ رہی ہیں۔عثمان بزدار کا کہنا تھا ملزمان نے انتہائی گھناؤنے فعل کا ارتکاب کیا ہے، ایسے اندوہناک واقعہ کے ذمہ دار قانون کے مطابق عبرتناک سزا کے مستحق ہیں، خاتون کے ساتھ ظلم کرنے والوں کو سخت سزا بھگتنا ہوگی، متاثرہ خاتون کو انصاف کی فراہمی میں یقینی بنائیں گے، اس کیس میں ہرصورت انصاف ہوگا۔دوسری جانب ترجمان موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کے ساتھ ہونے والا افسوسناک واقعہ موٹروے پولیس کے حدود میں نہیں ہوا، کرول گھاٹی اور تھانہ گجر پورہ کا علاقہ موٹروے پولیس کے علاقہ میں نہیں ہے، رنگ روڈ اور لاہور سیالکوٹ موٹروے پولیس کے پاس نہیں ہے۔

Facebook Comments
Share Button