تازہ ترین

GB News

دیامربھاشاڈیم: مقامی افراد کی بھرتی :قائمہ کمیٹی کی سفارش

Share Button

 

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل نے گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں کے کوٹہ کا مسئلہ حل ہونے تک دیامر بھاشا ڈیم کے لئے مشتہر آسامیوں پر بھرتی روکنے کی سفارش کی ہے ، کمیٹی ارکان نے کہا کہ آسامیوں پر مقامی لوگوں کو رکھا جائے،کمیٹی نے چشمہ جہلم لنک کینال کے مسائل کوحل کر نے کی ہدایت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کی جبکہ راول ڈیم کو سیاحت کے لئے نہ کھولے جانے کے معاملے پر ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کا اجلاس رکن قومی اسمبلی خالد حسین مگسی کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں دیامر بھاشا ڈیم کے لئے واپڈا کی جانب سے دیئے ملازمتوں کے اشتہار کا معاملہ بھی زیر غور آیا ، چیئرمین کمیٹی خالد حسین مگسی نے کہا کہ دیامر بھاشا کے لوکل لوگوں کی ملازمت کا مسئلہ ہے ،کمیٹی نے واپڈا حکام کو ہدایت کی کہ معاملے کا اسٹیٹس کمیٹی کو بتائیں۔گلگت بلتستان میں صنعتیں نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے پڑھے لکھے نوجوانوں کیلئے سرکاری ملازمتوں کے علاوہ کوئی ذریعہ نہیں’ سیاحت یہاں کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہے لیکن سارے بے روزگاروں کو روزگار فراہم نہیں کر سکتا’اس لیے دیامر بھاشا ڈیم جیسے بڑے پراجیکٹ میں مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کیا جانا چاہیے اس سلسلے میں قائمہ کمیٹی کے اراکین کا مطالبہ بالکل درست ہے’یہاںکے پڑھے لکھے نوجوانوں کو نظر انداز کرنایقینا ناانصافی ہے ۔یہاںکے نوجوان دیامر بھاشہ ڈیم جیسے اہم منصوبے کی تعمیر و تکمیل میں اپنے صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکتے ہیں۔دیامر بھاشہ ڈیم میں ملازمتوں کا اولین حق یہاں کے عوام کا ہے تاکہ علاقے سے بے روز گاری اور احساس محرومی کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔ وگرنہ جب معاشرے میں غربت، بے روزگاری، رشوت ستانی،اقربا پروری، ناانصافی بڑھ جائے تو افراد حسد اور تعصب ، حرص و ہوس اور اسی نوع کی کم زوریوں،اخلاقی گراوٹ کا شکار ہونے لگتے ہیں۔ معاشرے میں نفرت، غم وغصہ اور مایوسی جنم لیتی ہے جس کے نتیجے میں افراتفری اور نفسانفسی پروان چڑھتی ہے۔بے روزگاری ایک بڑا المیہ ہے اب بھی دو ملین سے سے زیادہ لوگ ایسے ہیں جو بالکل بے روزگار ہیں۔ جو کبھی بھی جرائم پیشہ جواری یا شرابی افراد کی لسٹ میں آکر دیمک کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس وقت عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے والے ملکوں میں پاکستان 146 ویں نمبر پر ہے جو بگڑتی ہوئی معیشت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کی طرف اشارہ ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان آئی ایم ایف سے قرضے لینے پر مجبور رہا ہے اور باوجود اس کے کوئی خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آتے۔طلباء و طالبات بھاری فیسیں ادا کرکے بمشکل اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرکے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں۔ لیکن متعلقہ شعبوں میں مواقع نہ ہونے سے مایوسی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ یوں تو سیاستدان الیکشنز جیتنے کے لیے روٹی کپڑا مکان اور روزگار جیسے صرف نعرے ہی لگاتے ہیں لیکن اقتدار میں آتے ہی انہیں لوگ اور ان سے کیے گئے وعدے بھول جاتے ہیں، نتیجتا غریب لوگ غریب تر ہوجاتے ہیں۔بیروزگاری ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جو غریب و ترقی پذیرملک تو کیا ترقی یافتہ معاشرے کو بھی تہہ و بالا کرسکتی ہے یہی وجہ ہے کہ آج کل ترقی یافتہ ممالک میں بھی روزگار کے مسائل پیدا ہونے کی وجہ سے گزشتہ دس سالوں سے امریکہ ، برطانیہ اور جرمنی وغیرہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بھی تخریب کاری اور دہشت گردی کی عفریت نے سر اٹھایا ہوا ہے اوروہاں تخریب کاری اور دہشتگردی کے واقعات دیکھنے میں آرہے ہیں جبکہ دہشتگردی میں ملوث افراد کی اکثریت تعلیم یافتہ، قابل اور ہنر مندنوجوانوں کی ہے اس لئے اگر آج کے ترقی یافتہ معاشروں کی یہ حالت ہے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے کیونکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بیروزگاری کے مسئلہ سے نکلنے کیلئے دور دور تک کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آرہی کہ ہم نے اپنی نوجوان نسل کے مستقبل کیلئے کیا سوچا ہوا ہے یا اسکے سدباب کیلئے کیا منصوبہ بندی کی ہوئی ہے؟ہمارے چند اہم اور سلگتے مسئلوں میں ایک مسئلہ بیروزگاری کا بھی ہے اور ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی بائیس کروڑ کی آبادی میں سے تقریبا گیارہ کروڑ افراد اپنی عمر کی سلور جوبلی بھی کراس نہیں کر پائے ہیں یعنی انکے عمریں پچیس سال سے کم ہیں جن کو اگر ہم صحیح اور مثبت رویوں سے استعمال کریں تو یہ قوم وملک کا اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے اسلامیہ کالج پشاورمیں طالب علموں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میرے نوجوان دوستو، میں آپ کو مستقبل میں پاکستان کا حقیقی معمار دیکھتا ہوں، نہ کسی کا استحصال کرو اور نہ گمراہ ہو۔ اپنے درمیان مکمل اتحاد اور یکجہتی بنائو۔ ایسی مثال بنادو کہ نوجوان کیا کچھ نہیں کرسکتے۔ آپ کا پہلا روزگار اپنے آپ سے مخلص، اپنے والدین سے مخلص اور اپنے ملک سے مخلص ہونا چاہیے، پھر آپ کی پوری توجہ اپنے مطالعہ پر ہونی چاہیے۔ ایک اور جگہ نوجوانوں کو اس طرح مخاطب کیا کہ پاکستان کو اپنے نوجوانوں خصوصا طالب علموں پر فخر ہے جو کہ مستقبل کے معمار ہیں۔انہیں اپنے آپ کو نظم وضبط اور تعلیم سے مزین کرناچاہیے اور ہرمشکل کام کی تربیت لینی چاہیے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قائداعظم کو نوجوانوں بالخصوص طالب علموں سے کس قدر امیدیں تھیں۔اس لئے اگر ہم نے اپنے ملک کے نوجوانوں کو نظر انداز کیا تو ناصرف یہ ملک کیلئے بلکہ عالمی سطح پر بھی تخریب کاری اور دہشتگردی کا موجب ہوگا۔ پاکستان میں بیروزگاری کی شرح خطے میں سب سے زیادہ ہے بیروزگاروں کی زیادہ تعداد میںان پڑھ کے بجائے تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے افراد بھی شامل ہیں۔ بیروزگاری کے اضافے میں توانائی کے بحران، امن وامان کے مسائل اور مہنگائی کا کلیدی کردار ہے جبکہ لاکھوں ایسے افراد بیروزگاروں میں شامل ہیں جنہوں نے نہ تو تعلیم حاصل کی اور نہ ہی روزگار تلاش کررہے ہیں تو تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسے ہی افراد دہشت گردی کا ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان میں روزگار کے متلاشی افراد کا سالانہ پندرہ لاکھ سے زیادہ کا اضافہ ہورہا ہے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملک میں کسی کی بھی حکومت آجائے تو وہ ہر فرد کو روزگار فراہم نہیں کر سکتی اس لئے ضروری ہے کہ نجی شعبہ ا س سلسلے میں اپنا اہم اور کلیدی کردار ادا کرے مگر یہاں یہ بھی المیہ ہے کہ نجی شعبے کو خصوصا صنعتی شعبے کو اس ضمن میں جو کردار ادا کرنا چاہیے تھا وہ ادا کرنے سے قاصر نظر آرہا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری تمام معاشی پالیسیاں غیر پیداواری اور غیر صنعتی بن رہی ہیں بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ حکومت صنعتوں کی ترقی وترویج کے بجائے اسکی حوصلہ شکنی کی پالیسیوں پر گامزن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ہم صرف گزشتہ بیس سالوں کی ملک کی معاشی کارکردگی دیکھیں تو بلاشبہ ہمیں بین الاقوامی ریسٹورنٹ اور فوڈچینز، ٹیلی کمیونیکیشن فرنچائزز اور غیر ملکی میڈیسن کمپنیوںوغیرہ میں سرمایہ کاری بھی نظر آتی ہے اور ان شعبوں میں ترقی بھی نظر آتی ہے مگر یہ تمام سرمایہ کاری ایڈہاک ازم پر ہے جس کا پاکستان کی معاشی ترقی میں کوئی کردار نہیں ہے کیونکہ بین الاقوامی سرمایہ کار اگرسو ڈالرز لگاتے ہیں تو وہ اگلے سال ہمارے ملک سے کما کر اپنے سو ڈالرز کے ساتھ ساتھ منافع بھی اپنے ملکوں میں لے جاتے ہیں اور پھر جب اور جس وقت چاہیں اپنی کرائے کی دکانوں کو بند کرکے اور اپنا تمام سرمایہ لپیٹ کر اپنے ملک سدھار جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے اقدامات کرنا ہوں گے خاص طور ان علاقوں میں جہاں روزگار کے ذرائع محدود ہیں۔

Facebook Comments
Share Button