تازہ ترین

GB News

قانون کی حکمرانی کا فقدان

Share Button

 

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ انسپکٹر جنرل پولیس انعام غنی نے موٹروے پر اجتماعی زیادتی کا شکار خاتون سے متعلق متنازع بیان پر کیپیٹل سٹی پولیس افسر لاہور عمر شیخ کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔عمر شیخ نے نامناسب بیان دیا جس پر آئی جی پنجاب نے انہیں شوکاز نوٹس دیا ہے۔ سی سی پی او سے سات روز میں جواب مانگا گیا ہے اور جواب جمع کرائے جانے کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔لاہور کی ڈیفنس ہاسنگ سوسائٹی کی رہائشی خاتون اپنے دوبچوں کے ہمراہ رات کو تقریبا ایک بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا، اس دوران جب وہ مدد کے لیے انتظام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تب دومرد وہاں آئے اور انہیں اور ان کے بچوں جن کی عمر آٹھ سال سے کم تھی بندوق کے زور پر قریبی کھیت میں لے گئے۔اس واقعے کے بعد سی سی پی او عمر شیخ کی جانب سے ایک بیان دیا گیا جس میں کہا گیا کہ خاتون رات ساڑھے بارہ بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ کا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنا پیٹرول چیک کر لیں۔سی سی پی او کے ان ریمارکس پر عوام اور سیاسی رہنمائوں کی جانب سے سخت مذمت کی گئی اور ان کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔ موٹر وے پر رونما ہونے والا المناک واقعہ قانون کی عدم پاسداری کا مظہر اورمتعلقہ اداروں کی غیر ذمہ داری کا بین ثبوت ہے ہمارے ہاں قانون کو موم کی ناک سمجھا جاتا ہے’قانون کی حکمرانی کا تذکرہ تو کیا جاتا ہے لیکن عمل ندارد ہے’ قانون کی حکمرانی سے مراد کا مطلب شہریوں اور ان پر حکمرانی کرنے والوں کو قانون کے تابع ہونا چاہئے۔ اس کا تعلق اس بات سے ہے قوانین کس طرح وضع ہونے چاہئیں یا جرائم کے مشتبہ افراد سے کیسے نپٹا جائے یا ٹیکسوں کا نفاذ اور حصول کیسے ہونا چاہئے۔ یہ جائیداد کی خریدوفروخت، خواہ وہ ایک موبائل فون ہو یا گاڑی، یا ٹریفک حادثے میں نقصان کی صورت میں معاوضے کا استحقاق، یا خاندانی تعلقات بشمول شادی، طلاق یا وراثت کے حقوق، ہر ایک صورت میں لاگو ہوتی ہے۔ اس کا تعلق ایک قطعہ اراضی کو کاشت کرنے یا زمین کی خریدوفروخت جیسے مسائل سے بھی ہوتا ہے۔نام نہاد فلاحی ریاستیں حکومت کی جانب سے سماجی اور معاشی معاملات میں بے حد قانون سازی کی حامی نظر آتی ہیں جبکہ معاشی طور پر لبرل ریاستیں حکومت کے معمولی کردار پر زور دیتی ہیں۔ کچھ ممالک میں، بہت سے سماجی تعلقات بے حد قوانین کی زد میں ہوتے ہیں، جبکہ دیگر معاشروں میں قانون ایک محدود بلکہ حاشیئے پر ہوتا ہے، لیکن قوانین کی بھرمار سے حامل ریاستیں بھی تسلیم کرتی ہیں کہ نہ تو ایسا ممکن ہے اور نہ ہی ایسی خواہش رکھنی چاہئے کہ معاشرے میں عوام کے مابین ہونے والے ہر معاملے پر قانون اپنی ٹانگ اڑائے۔ اس کے برعکس دیگر اصول، بشمول مذہبی اصول و ضوابط، حق ہمسائیگی اور کاروباری زندگی کے اصول و ضوابط زیادہ مناسبت رکھتے ہیں۔ مختصر یہ کہ، قانون کی حکمرانی شہریوں اور دیگر پرائیویٹ حصہ داروں کے ہر معاملے سے میل نہیں کھاتی ہے، لیکن حکومتی رٹ کے حوالے سے قانون کی حکمرانی ایک پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔ اس ضمن میں کسی استثنا کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ اگر افسر گھر کی تلاشی لینا چاہتا ہے تو اس کے باقاعدہ قانونی اختیار ہونا چاہئے۔ یعنی، قانون اس کا تعین کرتا ہے کہ کن حالات میں کس کو کون سے اختیار کے استعمال کی اجازت ہے۔ دوسری بات یہ کہ، اختیار کو استعمال میں لاتے وقت افسران کو قانون کے تابع ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر، جب کوئی گرفتاری کی جائے تو بہت سی قانونی حدود میں افسر پر قانونی ذمہ داری ہے کہ وارنٹ دکھائے اور متعلقہ شخص کو گرفتاری کی وجوہات سے آگاہ کرے۔ تفتیش کار کو مشتبہ شخص کو مطلع کرنا چاہئے کہ جو کچھ بھی وہ کہتا ہے اسے اس مردوزن کے خلاف قانون کی عدالت میں استعمال کیا جائے گا۔ اس بات کا تعین قانون کرتا ہے کہ کسی اختیار کو کیسے استعمال کرنا ہے۔ اسے حسب قانون یعنی ڈیو پراسس سے تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی مثال دے کر سمجھایا جاتا ہے کہ افراد کے حقوق کا تحفظ کیسے کرنا ہے اور بغیر کسی الزام کے جیل میں ڈالنے سے محفوظ رکھنا ہے، جس کا مطلب ہے کہ اگر کوئی الزام لگتا ہے یا گرفتاری ہوتی ہے تو لوگوں کو وکلا تک رسائی ہے۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ سیاسی اختیار کا استعمال قانون کے تابع کیا جائے۔ جب کوئی حکومت کسی ڈکٹیٹر کی طرح من مرضی کرتی ہے تو یہ اچھی بات نہیں ہوتی۔ یہ ضروری ہے کہ ان کے اپنے اور شہریوں کے رویئے قانون کے تابع ہوں کیونکہ قانون ایک مستحکم اور متوقع ماحول کو یقینی بناتا ہے جو افراد کی ذاتی سیکیورٹی سے لے کر محفوظ کاروباری لین دین کی آزادی سمیت ہر شے کے لئے ضروری ہے، لیکن قانون کی حکمرانی کے ضروری نہیں ہوتا کہ شہریوں کے رویے بے شمار قوانین اور قانونی ریگولیشنز کے تابع ہو۔ اس کے برعکس، شہری اپنے رویوں کو غیر ضروری قوانین اور ضوابط کے حوالے سے معترض ہونے میں حق بجانب ہوتے ہیں۔ قوانین کی بہتات کا مطلب عمل کی آزادی کو محدود کرنا ہوتا ہے۔ ایک حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ حکومت کا اختیار قانون کے تابع ہے اور قانونی تقاضوں کے عین مطابق اس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ حکام نے خود کو قانون اور حکمرانی قانون کے دائرہ کار سے نکل گئے یا خود کو نکال لیا جس کا نتیجہ ہر ادارے میں کرپشن نے گھر کر لیا کبھی کبھار سیاست دان بھی احتسابی قوانین کی زد میں آئے مگر جرنیلی اور سول حکومتوں نے اپنے اقتدار کو طوالت دینے اور مفادات کے تحفظ کے لیے جہاں ضروری تھا خوب سمجھوتے کئے اور قانون اور قانون کی حکمرانی کا مذاق اڑایا گیا’دراصل صاحباں اقتدار کے لیے پاکستان اور عوام شاید ہی اہمیت کے حامل رہے ۔پہلی ترجیح حصول اقتدار پھر طوالت اور استحکام اقتدار اور پھر حصول دولت جائز یا ناجائز اس بات کی کوئی پروا نہیں ۔ بدقسمتی سے آئین کے حلف اٹھانے والوں نے پارلیمنٹ ،عدلیہ اور فوج سمیت سب نے آئین سے انحراف کیا اس کی دھجیاں اڑائیں اور قانون کی حکمرانی کا مذاق اڑایا ۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر پارلیمنٹ کے کسی رکن کو نیب یا کوئی ادارہ طلب کرے تو مت جائیں یہ قانون ساز ہیں ۔آئین کا حلف لے چکے ہیں ۔کیا پارلیمنٹ قانون کے تحت جرم کرنے والوں اور قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب افراد کے تحفظ کیلئے ہے یا ملک میں آئین کی پاسبانی اور قانون کی بالادستی کے لیے ۔دنیا بھر کے دانشور ٹھوس انداز میں کہتے رہے ہیں کہ قانون کی حکمرانی ہی سب کیلئے بہتر ہے ترقی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی پائیدار اقتصادی ترقی ممکن نہیں۔ اس تصور کی توثیق مختلف معاشرتی ، معاشی اور سیاسی نظام رکھنے والے ممالک کے سربراہ بھی کرتے آرہے ہیں۔روسی صدر پیوٹن نے عدالتی اصلاحات کے نفاذ اور قانونی کی حکمرانی کے اصولوں کی مکمل عملداری کو اپنے ملک کی اولین ترجیح بنا رکھا ہے۔چینی حکمرانوں کا کہنا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی کے قیام کی حمایت کرتے ہیں ۔زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے نے کہا صرف ایک ایسی حکومت ہی اپنے عوام سے قانون کی حکمرانی کی اطاعت کا مطالبہ کرسکتی ہے جو خود قانون کی حکمرانی کو اپنا شعار بنائے ۔انڈونیشیا کے صدر عبد الرحمن واحد نے کہا کہ ہماری بڑی بڑی کامیابیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہم قانون کی حکمرانی کا آغاز کر ر ہے ہیں۔جبکہ بہت سارے لوگ اس تصور کے خلاف ہیں ۔ یاد رکھیں جو المناک واقعہ لاہور میں پیش آیا وہ قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے ہے اورحکومت خود کو اس سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی ‘ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے اس کی بنیادی ذمہ داری ہی یہ ہے لیکن یہاں تو آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے کوئی ذمہ داری لینے کو آمادہ ہی نہیں پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسے کٹہرے میں لایا جائے؟

Facebook Comments
Share Button