تازہ ترین

GB News

سانحہ موٹروے:پنجاب حکومت اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ،گرفتاری میں مدد کرنے والوں کیلئے 25،25 لاکھ روپے کا انعام کا اعلان

Share Button

لاہور(آئی این پی)پنجاب حکومت نے سانحہ گجرپورہ کے ملزمان تک پہنچنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے 72گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ،جبکہ پولیس نے واقعہ کی متاثرہ خاتون سے اجتماعی زیادتی میں ملوث ملزم عابد علی کی بیٹی کو تحویل میں لے لیا ہے جبکہ ملزم عابد علی اپنی بیوی کے ساتھ روپوش ہوگیا،واقعے میں ملوث دونوں سفاک ملزمان کریمنل ریکارڈ رکھتے ہیں، پنجاب حکومت نے ملزمان کی گرفتاری میں مدد کرنے والوں کے لیے 25،25 لاکھ روپے کا انعام کا اعلان کیا ہے تفصیلات کے مطابق گجرپورہ موٹر وے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے ملزمان کی گرفتاری سے متعلق پر یس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے کہاکہ 72گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیںجن درندوں نے خاتون سے زیادتی کی ہے جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے ،لاہور میں صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت، وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان اور آئی جی پنجاب انعام الغنی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعلی نے کہا کہ ‘ملزمان کی گرفتاری میں مدد کرنے والوں کے لیے 25،25 لاکھ روپے کا انعام رکھا ہے اور ملزمان کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور متعلقہ اداروں کو ہدایات کی ہیں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں، میرا متاثرہ خاتون سے بھی رابطہ ہوا ان کو انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے اور جن درندوں نے خاتون سے زیادتی کی ہے جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے کیس سے متعلق متنازع بیان کے حوالے سے وزیر اعلی نے کہا کہ ‘آئی جی پنجاب نے سی سی پی او کو شوکاز نوٹس دیا ہے، سی سی پی او سے 7روز میں جواب مانگا گیا ہے اور جواب پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔پریس کانفرنس کے دوران آئی جی پنجاب انعام غنی نے کیس کی تحقیقات میں اب تک ہونے والی پیشرفت سے متعلق بتاتے ہوئے کہا کہ سائنسی تحقیقات میں وقت لگتا ہے،ملزمان کی گرفتاری کیلئے سی ٹی ڈی ،قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وزیراعلیٰ پنجاب نے بھرپور ساتھ دیا ہے ،ملزمان کی شناخت کیلئے الیکشن کمیشن اور نادرا سے ڈیٹا لیا گیا ہے ، گزشتہ رات 12بجے یہ کنفرم ہوا کہ عابد نامی لڑکا اس واقعے میں ملوث ہے ، عابد نامی ملزم ضلع بہاولنگرکے علاقے فورٹ عباس کا رہائشی ہے جبکہ آج کل وہ قلعہ ستار شاہ شیخوپورہ میں مقیم تھا۔ شریک ملزم وقار بھی اسی علاقے کا رہنے والا ہے ، جب ملزم عابد کو گرفتار کرنے گئے تو ملزم سول کپڑوں میں اہلکاروں کو دیکھ کر اپنی بیوی کے ہمراہ کھیتوں میں فرار ہوگیا،اس کی بچی ہمیں ملی ہے ، بات زیادہ عام ہونے کی وجہ سے دوسرا ملزم وقار بھی اپنے علاقے سے فرار ہوگیا تھا ،ملزمان کا سارا ریکارڈ ہمارے پاس ہے ،ہم ان کے پیچھے ہیں ، لاہور ،شیخوپورہ کی پولیس ،سی ٹی ڈی اور سی آئی اے کی ٹیمیں ان کا سراغ لگا رہی ہیں ،بہت جلد ہم انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ،عوام ہماری مدد کریں ،جہاں نظر آئیں اس کی اطلاع15پردیں ملزمان کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے آئی جی نے بتایا کہ ملزم عابد کا پہلے ایک کیس میں ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تھا جس سے نمونے میچ کر گئے۔ملزم کی نشاندہی کے بعد راتوں رات ہم نے فورٹ عباس سے ساری تفصیلات جمع کیں جبکہ عابد کے نام پر 4 سمیں تھیں جو مختلف اوقات میں وہ بند کرچکا۔، اس کی بچی ہمیں ملی ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ اس واقعے میں عابد کے ساتھ وقار الحسن شریک ملزم تھا،ملزم کا فرانزک سائنس ایجنسی کے ڈی این اے بنک میں پہلے سے ہی ڈی این اے موجود تھا، بہاولنگر سے تعلق رکھنے والا عابد نامی جس کی عمر27سال ہے جو پہلے سے ہی اشتہاری ہے ، ملزم 2013میں ڈکیتی میں ماں بیٹی سے زیادتی سمیت کئی وارداتوں میں ملوث ہے ، دوسرے ملزم وقار کا بھی پہلے سے کرمنل ریکارڈ ہے14روز پہلے ضمانت پر رہا ہوا تھا ، ملزم عابد کے خلاف 2014میں چار مقدمات تھانہ کچی میں درج ہیں ۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ جلد ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

Facebook Comments
Share Button