تازہ ترین

GB News

شاہراہ بلتستان کے ڈیزائن میں تبدیلی کیخلاف عوامی اور قانونی جنگ شروع ہو گئی

Share Button

سکردو(چیف رپورٹر+خبرنگار)شاہراہ بلتستان کے ڈیزائن میں تبدیلی کیخلاف عوامی اور قانونی جنگ شروع ہو گئی، ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن سکردو کے جنرل سکریٹری شجاعت ایڈووکیٹ نے شاہراہ بلتستان کے ڈیزائن میں تبدیلی کے خلا ف سپریم اپیلیٹ کورٹ میں درخواست جمع کرادی جس میں چیف جسٹس سپریم اپیلیٹ کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ شاہراہ بلتستان کے ڈیزائن میں تبدیلی کر کے ٹنلز غائب کرنے کے معاملے کا از خود نوٹس لیں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ شاہراہ بلتستان کے ڈیزائن میں 8ٹنلز موجود تھیں این ایچ اے کی بریفنگ میں 8ٹنلز بنانے اترائی چڑھائی ختم کرکے موٹر وے طرز پر جدید شاہراہ بنانے کی بات کی گئی تھی مگر روڈ پر تین سال سے کام جاری ہے مگر ٹنلز بننے کے آثار دور دور تک نظر نہیں آرہے جس کی وجہ سے بلتستان کے عوامی ،سیاسی حلقوں اور تاجروں میں بڑی تشویش پائی جارہی ہے اور لاوا پک رہا ہے ٹنلز کے مقامات پر نشانات بھی لگائے گئے اس کے باوجود ٹنلز کی تعمیر کے لئے مذکورہ کمپنی تیار نہیں معزز عدالت سے استدعا ہے کہ روڈ کے ڈیزائن کی تبدیلی کے معاملے کا ازخود نوٹس لیا جائے درخواست گزار شجاعت حسین ایڈووکیٹ نے کے پی این سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ شاہراہ بلتستان کے ڈیزائن میں تبدیلی بڑا ظلم ہے ہم اس زیادتی پر ہر گز خاموش نہیں رہیں گے ۔ادھر سو ل سو سائٹی بلتستان کے تحت شاہراہ بلتستان کے ڈیزائن میں تبدیلی کے خلاف آج اتوار کو سکردو یادگار چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا مظاہرے میں مختلف سیاسی ، سماجی اور تاجر تنظیموں کے ذمہ داران شرکت کریںگے سول سو سائٹی کے متحرک ممبر نجف علی نے کہا کہ سکردوروڈ کے ڈیزائن میں تبدیلی بلتستان کے خلاف بڑی سازش ہے ہم نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ روڈ کا بیڑا غرق کیا جارہا ہے مگر ہماری ایک نہ سنی گئی آج وہی ہوا جس کا ہم نے پہلے ہی خدشہ ظاہر کیا تھا اب کسی صورت میں بھی خاموش نہیں رہیں گے جو بھی صورت حال پیدا ہو گی اس کی ذمہ دار حکومت ہوگی ۔ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے جنرل سکریٹری وسابق سینئر وزیر حاجی اکبر تابان نے کہا کہ شاہراہ بلتستان کا ڈیزائن تبدیل کرنے میں این ایچ اے کا ہاتھ ہے ایف ڈبلیو او کے ڈی جی جنرل افضل نے سکردو میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سکردو روڈ پر8ٹنلز بنائی جائیں گی مگر بعد میں نقشہ تبدیل کر دیا گیا کے پی این سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ڈی جی ایف ڈبلیو او کی بریفنگ میں نامور عالم دین شیخ محمد حسن جعفری ، آغا سید علی رضوی ، آغا سید باقر الحسینی سمیت بلتستان کی اہم سیاسی و مذہبی شخصیات بھی موجود تھیں سب کی موجودگی میں ٹنلز کی بات ہوئی تھی لیکن بعد میں این ایچ اے نے ٹنلز ختم کر ا دیں انہوں نے کہاکہ اس وقت شاہراہ بلتستان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے یہاں سیاحت ، تجارت تباہ ہورہی ہے ہوٹلز ویران پڑے ہوئے ہیں تمام لوگ پی ٹی آئی سے ناخوش ہیں پی ٹی ڈی سی کے 40ملازمین بھی فارغ کر دیئے گئے ہیں پی ٹی آئی سے لوگ بڑے تنگ ہیں ۔ادھر ایم ڈبلیو ایم نے ٹنلز کی بحالی کیلئے انجمن تاجران کی جانب سے شروع کی جانیو الی احتجاجی تحریک کی حمایت کا اعلان ایم ڈبلیو ایم کا کہنا ہے کہ انجمن تاجران کی تحریک میں نہ صرف شرکت کریں گے بلکہ ہر ممکن تعاون کریں گے کیونکہ سکردوروڈ کا مسئلہ صرف انجمن تاجران کا نہیں پورے بلتستان کے عوام کا مشترکہ مسئلہ ہے ایم ڈبلیو ایم کے صوبائی سکریٹری جنرل سید علی رضوی اور سینئر رہنماء کاظم میثم نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ٹنلز کو ختم کرنے میں سابق حکومت کا ہاتھ ہے سابق اراکین اسمبلی روڈ کے مسئلے پر چپ چاپ تماشہ دیکھتے رہے اکثر اراکین تعمیراتی کمپنی کے ساتھ مل کر مفادات لیتے رہے جس کی وجہ سے سکردو روڈ کا ڈیزائن تبدیل ہو گیا ڈیزائن کی تبدیلی پر اگر اسمبلی سے آواز اٹھتی تو اب تک ٹنلز کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہوتا مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ عوامی مسئلے کے حل کیلئے ایوان میں جانے والوں نے عوام کے مفادات کا سودا کیا انہوں نے کہاکہ ٹنلز کی تعمیر کے بغیر شاہراہ بلتستان کی تعمیر کا کوئی فائدہ نہیں این ایچ اے اور ایف ڈبلیو او کے ذمہ داران کی بریفنگ کے عین مطابق شاہراہ بلتستان بننی چاہئے ورنہ شدید عوامی رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا 8ٹنلز بحال کرنے کے ساتھ ساتھ شنگوس سے بونجی تک کی طویل ٹنل پر بھی غور کیا جانا چاہئے ٹنلز کی تعمیر سے شاہراہ لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات سے محفوظ رہے گی اور مسافت بھی کم ہوگی ۔

Facebook Comments
Share Button