تازہ ترین

GB News

گلگت بلتستان بیورو کریسی میں اکھاڑ پچھاڑ

Share Button

 

گلگت بلتستان بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پر تبادلے کر دیئے گئے ہیںگریڈ بیس کے دوآفیسرز اور گریڈ انیس کے چھے سیکرٹریز کو اِدھر ادھر کر دیا گیا ہے جبکہ ایک سیکرٹری کو اضافی چارج حوالے کیا گیا ہے ۔ محکمہ سروسز سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق گر یڈ بیس کے گلگت بلتستان بورڈ آف ریونیو کے سینئر ممبر راشد علی کو محکمہ تعلیم و سپیشل ایجو کیشن کا سیکرٹری تعینات کیا گیا ہے اورگریڈ بیس کے ہی سید اختر حسین رضوی کا محکمہ تعلیم سے محکمہ لوکل گورنمنٹ ودیہی ترقی میں تبادلہ کر دیا گیا ہے ۔ گریڈ انیس کے ایس اینڈ جی ڈی میں پوسٹنگ کے منتظر سبطین احمد کوسیکرٹری محکمہ زراعت لائیو سٹاک و ماہی پروری ،مومن جان کو سیکریٹری ٹو گورنر سے سیکرٹری محکمہ خوراک تعینات کردیا گیا ہے،سیکرٹری بلدیات طارق حسین کا محکمہ جیل خانہ جات میں تبادلہ کر دیا گیا ہے انہیں آئی جی جیل خانہ جات کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ کے سیکرٹری محمد علی رندھاوا کو جی بی بورڈ آف ریونیو کے ممبر کا اضافی چارج دیا گیا ہے اسی طرح ایڈیشنل سیکرٹری نجیب عالم کو محکمہ تعلیم سے محکمہ زراعت اور ایڈیشنل سیکرٹری دلدار احمد ملک کا واٹر اینڈ پاور سے محکمہ تعلیم میں تبادلہ کیا گیا ہے ۔سیکرٹری خوراک فضل خالق کو سیکرٹری ٹو گورنر کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔بیوروکریسی میں تبادلے تقرریاں اور اکھاڑ پچھاڑ کا سلسلہ ہر حکومت کے آنے پر کیا جاتا ہے جس سے صورتحال بہتر ہونے کی بجائے مزید خراب ہو جاتی ہے اور بیوروکریٹ اپنے کام پر توجہ دینے کی بجائے حکام بالا کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش میں رہتے ہیں جس سے ان کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ فلاں’ فلاں جماعت کا ہمدرد ہے یہ طرز عمل درست نہیں ہے حکومت کا کام بیوروکریٹس کو کارکردگی دکھانے پر آمادہ کرنا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ہاں ان افسروں کے کیریئر چارٹ بنائے جاتے ہیں؟ نہ کوئی اصول ہے نہ ضابطہ کوئی وزیر یا وزیر اعلی کسی بھی افسر کی تعیناتی یا تبادلہ کسی بھی وقت کرا سکتا ہے؟ کوئی ایم این اے یا ایم پی اے افسر شاہی کے رکن کو اپنے علاقے سے نکلوا سکتا ہے اور اس کی جگہ اپنے کسی پسندیدہ افسر کو پوسٹ کرا سکتا ہے۔ کوئی برسوں سے فیلڈ میں ہے اور کوئی سالہا سال ہوئے اہم علاقوں سے نکلنے کا نام نہیں لیتا۔ ڈپٹی کمشنر کس کے تحت فرائض سرانجام دیتا ہے؟ کمشنر کے یا چیف سیکرٹری کے انہیں ضلع کی بہبود سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟ وہ تو مسائل سے واقف ہی نہیں۔ مسائل کا علم تو عوام کو ہے اور ڈپٹی کمشنر عوام کا نمائندہ ہی نہیں، وہ تو حکومت کا نمائندہ ہے۔ اس کی ترجیحات کیا ہیں؟ باس کو مطمئن رکھنا، اچھی رپورٹ لینا، اگلی تعیناتی کے لیے ابھی سے کام شروع کر دینا۔ ڈپٹی کمشنر کا رخ عوام کی طرف نہیں، کمشنر اور صوبائی دارالحکومت کی طرف ہوتا ہے، کسی بحران کے دوران تجربہ کر کے دیکھ لیں، ضلع میں سیلاب آ گیا ہے، وبا پھوٹ پڑی ہے، فسادات ہو گئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر بحران کے دوران، اگر ہمیشہ نہیں، تو اکثر و بیشتر، ضلع میں موجود ہی نہ ہوتے ۔ میٹنگ کے لیے حکام کے حضور حاضری دے رہا ہو گا۔ تیسری وجہ ڈپٹی کمشنر کا اس ضلع سے کسی تعلق کا نہ ہونا۔ اسے کوئی جذباتی دلچسپی ہے مقامی معاملات سے نہ تہہ در تہہ مسائل اورعوامل و محرکات کا پورا علم ہے۔ اس نے تو دو تین برس یہاں گزارنے کے بعد، کبھی اِدھر کا رخ نہیں کرنا۔ یہ وہ بنیادی وجہ ہے جس کی وجہ سے ضلعی بیورو کریسی ہمیشہ قلیل المیعاد رویہ رکھتی ہے۔ اس رویے کو عام زبان میں ڈنگ ٹپائو رویہ کہتے ہیں۔ گراس روٹ لیول کے الفاظ کی بار بار تکرار کی جاتی ہے مگر گراس روٹ لیول پر اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر براجمان ہیں اور وہ جو اقتدار کے اصل مالک ہیں وہ ان کے دفتروں کے چکر لگا لگا کر ہلکان ہو رہے ہیں۔ پولیس کی کامیابی کے لیے ایک ہی شرط ہے۔ سیاسی مداخلت کا خاتمہ اور مکمل خاتمہ’یاد رہے بیورو کریسی میں متعدد بار اکھاڑ پچھاڑ کرنے کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے ۔ یہ صورتحال بیورو کریسی میں بد دلی و بے یقینی پیدا کرتی ہے، اکھاڑ پچھاڑ، بیورو کریسی پر عدم اعتماد حکومتوں کو کمزور کردیتا ہے۔ سول بیورو کریسی میں اصلاحات کے نام پر مختلف حکومتیں مختلف اقدامات عمل میں لاتی رہی ہیںلیکن پولیٹیکل وِل نہ ہونے کی بنا پر پہلے سے چلتا ہوا بیوروکریٹک نظام ٹھیک ہونے کے بجائے الٹا خراب ہوتا چلاجاتا ہے۔ حکومتیں آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں لیکن مختلف شعبوں میں کی جانے والی اصلاحات کبھی پروان نہیں چڑھ سکیں۔ اس کی ایک وجہ تو عمومی طور پر یہ ہوتی ہے کہ ہر نئی آنے والی حکومت گزشتہ حکومتوں کے دور میں شروع ہونے والی ریفارمز کو تسلسل دینے کے بجائے اس میں کیڑے نکالتی ہے اس طرح پولیٹیکل ویکٹامائزیشن کے سہارے اپنا اپنا وقت گزار کر چلی جاتی ہے اور عوام آئندہ آنے والی حکومتوں سے آس لگا لیتے ہیں۔ یوں عوام ہر دورِ حکومت میں بے وقوف بنتے ہیں۔ حکومتیں آتی ہیں ایک دوسرے کے خلاف مقدمات قائم ہوتے ہیں کرپشن اور بے انصافی کے خاتمے کے نعرے لگتے ہیں، لیکن عملی طور پر عوامی فلاح و بہبود کے لئے کچھ نہیں ہوپاتا۔ سول بیورو کریسی کا قبلہ درست کرنے کے نام پر ریفارمز کی بات چلتی رہتی ہے لیکن کبھی اس کا مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی کسی دور میں شائد صحیح معنوں میں ریفارمزلانے کی باقاعدہ سعی ہی نہیں کی گئی۔ مشرف دور میں بھی سول بیورو کریسی میں اصلاحات کے نام پر بیورو کریسی کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیاگیا۔ بیورو کریسی میں ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کے تحت کمشنری اور مجسٹریسی نظام ختم کردیا گیا جو کہ لا اینڈ آرڈر سمیت عوام کو خدمات بہم پہنچانے اور ریلیف دینے میں بہت موثر اور مفید تھا۔ لیکن ڈپٹی کمشنر کو ڈی سی او بنا کر ضلع ناظم کے تحت کرنے سے ضلع بھر کے باقی ماندہ محکمے بھی فارغ ہو گئے۔ کمشنری نظام میں ڈپٹی کمشنر ضلع کے تمام دیگر محکموں کا باس ہونے کے ناتے ان محکموں کی کارکردگی پر بھی نظر رکھتا تھا ۔ لیکن خود ڈپٹی کمشنر ہی نہ رہا اوروہ ڈی سی او بن کر ضلع ناظم کے ماتحت ہوگیا تو ضلعی سطح پر گورننس اور ڈیلیور کرنے کا جو بیوروکریٹک کلچرتھا وہ مفقود ہوتا چلا گیا اور بیورو کریسی عضوِ معطل بن کر رہ گئی۔ مشرف دور میں سول محکموں کے افسران کے ساتھ ایک اور زیادتی یہ ہوئی کہ ان کا موو اوور ختم کردیاگیا جس کے تحت ایک خاص وقت پر جاکر متعلقہ ملازم اگلے گریڈ کی سہولیات حاصل کرنے کا اہل ہوجاتا تھا۔ سول بیورو کریسی میں اصلاحات کے نام پر سرکاری افسران کو کوئی بینیفٹ دینے کے بجائے ان کی سٹیجز مقرر کردی گئیں اور ایک خاص سروس بریکٹ میں جا کر ان سے انکریمنٹ لینے کا حق بھی چھین لیاگیا۔گویا مختلف ادوار میں اوٹ پٹانگ اقدامات کی وجہ سے سول بیوروکریسی کا حلیہ بگاڑ دیاگیا۔ ڈسٹرکٹ مینجمنٹ گروپ کو ایڈمنسٹریٹوسروسز گروپ کا نام دے کر بہت بڑی قومی خدمت سرانجام دے کر یہ سوچا گیا کہ اب بیوروکریسی بہت پروفیشنل اور موثر انداز میں خدمات سرانجام دینے لگے گی۔گویا بیورو کریسی میں ریفارمز کے نام پر پورے بیورو کریٹک کلچر کو پامال کرکے رکھ دیاگیا۔ حالانکہ بیوروکریسی ہی وہ واحد شعبہ ہے جو کسی بھی قسم کی حکومت کو فنکشنل رکھنے میں ممد و معاون ثابت ہوتا ہے۔ جن ادوار میں لوگ گورننس کے نام سے بھی واقف نہیں ہوتے ان ادوار میں بھی بیوروکریسی کے طفیل کچھ نہ کچھ معاملات چلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ایک بات بہر کیف طے ہے جب بھی معاملات بیوروکریسی کے ہاتھ میں ہوں یا انہیں ان کی مروجہ آئینی حدود میں کام کرنے دیاجائے میرٹ اور شفافیت دکھائی دیتی ہے۔ کوئی تربیت یافتہ پروفیشنل بیوروکریٹ کسی کی حق تلفی کرنے سے قبل ہزار دفعہ سوچے گا لیکن جب حکومتی نمائندوں کو نوکریوں کے کوٹے ملنا شروع ہوتے ہیں تو اس میں اہلیت اور صلاحیت کو نہیں دیکھا جاتا۔صرف آسامی پر کی جاتی ہے جس کا نقصان قوم اور ملک کو اگلے کئی برس بھگتنا ہوتا ہے۔ لہذا سول سروسز میں سیاسی بنیادوں پر یا چور دروازوں سے گھسنے والوں کی حد درجہ حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ بیوروکریسی میں اصلاحات کے نام پر ہر چند سالوں بعد نئے شوشے چھوڑنے کے بجائے بیوروکریسی میں سیاسی مداخلت کم کی جائے۔ من پسند بیوروکریٹس کو آگے لانے کے بجائے صرف اچھی کارکردگی کے حامل بیوروکریٹس ہی کو کلیدی عہدوں پر فائز کیاجائے۔ کسی صوبے کا چیف سیکرٹری یا آئی جی صرف چیف سیکرٹری اور آئی جی ہوتاہے وہ اپنا چیف سیکرٹری یا اپنا آئی جی نہیں ہوتا۔ ہردور میں لوگ اپنے بندے تلاش کرکے کلیدی عہدوں پر لگانے کی روش اختیار کرتے ہیںجن سے بہت سوں کی حق تلفی ہوتی ہے۔ نگران حکومت کو تو ان تبدیلیوں سے یوں بھی گریز کرتے ہوئے بیورکریسی سے کام لینے کا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔

Facebook Comments
Share Button