تازہ ترین

GB News

سیپ اساتذہ کی مستقلی میں جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں،حافظ حفیظ الرحمن

Share Button

شگر(منظور ناز سے) سابق وزیر اعلی و صدر مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاہے کہ سیپ اساتذہ کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے جو کام ایک ہفتے میں ہوسکتاتھا وہ تین ماہ بعد بھی ہیں ہوسکا۔ سیپ اساتذہ کی مستقلی میں جان بوجھ کرخیری حربے استعمال کئے جارہے ہیں اس کا صرف ایک مقصد ہے کہ کریڈیٹ مسلم لیگ(ن) کو نہ جائے مخالفین جو بھی کہیں کریڈیٹ مسلم لیگ (ن) کو ہی جاتا ہے ۔کے پی این سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا سیپ اساتذہ کی پوسٹوں کے لیے نواز شریف سے درخواست کی تو انہوں نے مہربانی کر کے ساڑھے سات سو پوسٹیں دیں صوبائی حکومت نے تحقیقات کر کے جن کی بلڈنگ تھی اور جو میرٹ پر تھے سب کو ریگولر کرنے کا فیصلہ کیا سیپ اساتذہ میں سے ہی کچھ لوگ جو عمر کی بالائی حدسے گزر گئے تھے وہ عدالت چلے گئے ہم نے عدالت کو کہا وہ لوگ جو کے عمر کی بالائی حدسے گزر گئے ہیں ان کو سپیشل پیکج دیں گے باقی میرٹ پر ریگولر کریں گے دوسرا ایشو نان فارمل والوں کا تھا جن کے سکولوں کی تعداد گلگت بلتستان میں تقریبا ایک ہزار ہے وہ لوگ عدالت چلے گئے مشکل سے ہماری حکومت کے آخری دنوں میں معاملہ حل ہوگیا اور ہم نے اسمبلی سے ایکٹ منظور کروایا اور کابینہ سے بھی منظور کیا سیپ اساتذہ مستقل ہونے کے قریب ہی تھے چیف الیکشن کمشنر نے وفاقی حکومت کے دباو میں آکر صوبائی حکومت کے اختیارات محدودکردیئے اس وجہ سے معاملہ تاخیر کا شکار ہوا انہوں نے کہا ہمیں حکومت چھوڑے تین ماہ گزر گئے ہیں اب تک یہ معاملہ حل نہ ہونے پر تعجب ہے اسمبلی ایکٹ اور کابینہ کی منظوری کے بعد مستقل نہ ہونا سیپ اساتذہ کے ساتھ زیادتی ہے انہوں نے سیپ اساتذہ کی مستقلی میں تاخیرکا ذمہ دار وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور کو ٹھہرایا انہوں نے مزید کہا اگلے ایک ہفتے میں سیپ اساتذہ کو ریگولر نہیںکیاگیا تو سیپ اساتذہ جو قدم اٹھاتے ہیں ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے۔

Facebook Comments
Share Button