تازہ ترین

GB News

عوام کو گھر کی دہلیز پر بروقت انصاف کی فراہمی ہماری اولین ذمہ داری ہے، جسٹس ملک حق نواز

Share Button

گلگت (پ ر)چیف جسٹس گلگت بلتستان چیف کورٹ جسٹس ملک حق نواز اور جسٹس علی بیگ سے ڈائریکٹر جنرل شریعہ اکیڈمی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام ڈاکٹر محمد مشتاق احمد کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی وفدمیں چیئرمین ٹرینگ شریعہ اکیڈمی ڈاکڑ حبیب الرحمن کے بھی شامل تھے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس ملک حق نواز نے کہا کہ مجھے اس امر پر فخر ہے کہ میں اس عدلیہ کا چیف جسٹس ہوں جسکے ماتحت تمام عدالتیں انصاف کی فراہمی اورقانون حکمرانی کے لئے کام کررہی ہیں اور سفارش اور کرپشن سے مکمل پاک ہونے کا علاوہ خودمختاری کے اصولوں پر عمل پیرا ہیں عوام کو گھر کی دہلیز پر بروقت انصاف کی فراہمی ہماری اولین ذمہ داری ہے اس پر کوئی سمجھوتہ ہرگز براداشت نہیں کیا جائے گا چیف جسٹس نے کہا کہ معاشرے کے غریب معذور اور بے سہارا لوگ اس عدالت کے لئے VIP ہیں انکے مقدمات میرٹ اور ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کے لئے خصوصی احکامات دے دیئے ہیں تاکہ مظلوم لوگوں کو بروقت انصاف مل سکے اور انکے بنیادی حقوق محفوظ رہنے کے ساتھ معاشرے سے امتیازی سلوک کا خاتمہ ہو سکے جسٹس ملک حق نواز نے مزید بتایا کہ چیف کورٹ میں ججز کی کمی اور عالمی وبائی مرض کرونا کے باعث شدید مشکلات کے باجود گزشتہ دو ماہ میں 488مقدمات نمٹا دئیے ہیں ماتحت عدالتوں کے انتظامی امور کی خود نگرانی کر رہا ہوں ماتحت عدالتوں میں زیرسماعت مقدمات میں ،14دن سے زائد تاریخ نہ دینے پر سختی سے پابندی عائد کررکھی ہے اور خلاف ورزی پر کارروائی کے احکامات دیدیئے ہیں تاکہ دور دراز علاقوں سے مقدمات کی پیروی کے لئے آنے والے لوگ تاریخ کی پرچی کے بجائے فیصلہ لے کر گھر جائیں، چیف کورٹ اور ماتحت عدالتوں میں بھی کرونا کے دوران ایس او پیز کے تحت کام جاری رکھا گیا تاکہ انصاف کی فراہمی میں دشواری پیدا نہ ہو چیف جسٹس نے مزید بتایا کہ چیف کورٹ میں دائر رٹ پیٹشن دو ماہ میں نمٹانے کے لئے پوری کوشش کر رہے ہیں اس امر کو یقینی بنانے کے لئے چیف کورٹ میں زیر سماعت مقدمات میں دو صورتوں میں تاریخ مل سکتی جج یا وکیل فوت ہو جائے ورنہ بے جا تاریخ کی ہر گز اجازت نہیں ہے اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل شریعہ اکیڈمی اسلامک یونیورسٹی ڈاکٹر محمد مشتاق احمد نے چیف جسٹس کو شریعہ اکیڈمی اور ججز کی تربیتی ورکشاپس پر بریفنگ دی،انھوں نے چیف کورٹ اور ماتحت عدلیہ میں فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے لئے چیف جسٹس ملک حق نواز کے کردار کو سراہا،ڈاکٹر مشتاق نے کہا کہ چیف کورٹ سمیت دیامر غذر ،استور، ہنزہ اور دیگراضلاع میں ضلعی عدالتوں اور بارز کا دورہ کرکے صورتحال کا جائزہ لیااور اس نتیجے پر پہنچے کہ عدل وانصاف کی فراہمی کے لئے چیف کورٹ اور ماتحت عدالتیں پاکستان کے دیگرصوبوں کے لئے رول ماڈل ہیں ڈاکٹر مشتاق نے چیف جسٹس کو شریعہ اکیڈمی کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے استدعا کی کہ شریعہ اکیڈمی میں گلگت بلتستان کی ماتحت عدلیہ کے ججز کو تربیت کے لئے نامز د کریں اور باہمی تعاون کے لئے اقدامات کئے جائیں انھوں نے کہا کہ چیف جسٹس ملک حق نوازکی شریعہ اکیڈمی میں آمد ہمارے لئے باعث مسرت ہوگی اورآپ کے بہترین عدالتی و انتظامی تجربے سے استفادہ ہمارے لئے مفید ثابت ہوگا چیف جسٹس نے شکریے کے ساتھ دورے کی دعوت قبول کرلی،ملاقات کے اختتام پر چیف جسٹس ملک حق نواز اور جسٹس علی بیگ کو شریعہ اکیڈمی کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل اور چیئرمین ٹرینگ نے سونیئر پیش کیا۔

Facebook Comments
Share Button