تازہ ترین

GB News

زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دینی چاہئے،وزیراعظم

Share Button

اسلام آباد(آئی این پی) وزیراعظم عمران خان نے زیادتی کے مجرم کو مردانہ صلاحیت سے محروم کرنے کی تجویز دیدی اور کہا ایسے مجرموں کی سرجری کرکے ناکارہ بنا دینا چاہیے تاکہ وہ کچھ کر ہی نہ سکیں، زیادتی کرنے والوں کو سرعام پھانسی دینی چاہئے،سانحہ موٹروے نے پوری قوم کو ہلا دیا، بچوں کے سامنے جو ہوا اس سے صدمہ پہنچا ہے، زیادتی کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں ،نوازشریف کو واپس لانے کے لیے پوری کوشش کریں گے ، اپوزیشن نے ملک کو گنگال کیا اور پھر کہا کہ حکومت فیل ہو گئی، فیٹف میں بلیک لسٹ ہوئے تو معیشت بیٹھ جائے گی، اپوزیشن نے سوچا فیٹف میں یہ مان جائے گا مگر میں کسی صورت بلیک میل نہیں ہو گا، ہمیں فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہو گا۔پیر کو نجی ٹی وی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے کہا سانحہ موٹروے نے پوری قوم کو ہلا دیا، بچوں کے سامنے جو ہوا اس سے صدمہ پہنچا ہے، جنسی زیادتی کرنے والوں کو عبرت ناک سزائیں دی جائیں۔ اس سے پورے ملک کی عوام کو تکلیف ہوئی ،قصور میں زینب زیادتی کیس اور اس طرح کے دیگر واقعات کے بعد جب آئی جی کو واقعے کی تفتیش سے متعلق کہا تو آئی جی نے جو رپورٹ پیش کی تو آئی جی نے بتایا کہ پاکستان میں سیکس کرائم خطرناک حد تک بڑھتے جا رہے ہیں خواہ وہ بچوں سے متعلق کیسز ہوں یا خواتین سے متعلق، یہ سوسائٹی میں پھیل چکا ہے ، اس کے بعد ہم نے علماء سے بات کی ،ٹیچرز سے بات کی ، سب کو بلایا ، بچوں کے ساتھ ریپ واقعات کے خاتمے کیلئے تفصیلی غور کیا ، یورپ میں جو بچوں سے زیادتی کرتا ہے اس کا پورا ریکارڈ رکھا جاتا ہے لیکن یہاں پر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس طرح کا کوئی سسٹم موجود نہیں ، بچوں سے زیادتی کے مجرموں کا پیچھا کیا جائے ۔ ریپ اور بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو چوک پر لٹکانا چاہیے ،سرعام پھانسی دینی چاہیے ، اس طرح کے مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کر دینا چاہیے ، سانحہ گجرپورہ کا ملزم پہلے گینگ ریپ کر چکا تھا لیکن آزادانہ گھوم رہا تھا اس طرح کے لوگوں کو ہمیشہ کیلئے ختم کردینا چاہیے ،فحاشی سے معاشرے تباہ ہوجاتے ہیں ، ہمارے پاس فیملی سسٹم ہے ، یورپ اس معاملے پر پاکستان سے پیچھے ہے ۔ہندوستان کی چالیس سال پہلے کی فلمیں اور آج کی فلموں میں بہت فرق ہے ۔وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا موجودہ آئی جی پرفارم کریں گے تو رہیں گے کسی نے یہ نہیں کہنا کہ آئی جی نے یہ نہیں کیا۔ انہوں نے عثمان بزدار اور عمران خان کو پکڑنا ہے،سی سی پی او پر بڑا شور ہوا، انہیں لانے کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ پولیس قبضہ گروپ کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے اندر بھی کچھ لوگ ہیں جو وزیراعلی بننا چاہتے ہیں،چیلنج کرتا ہوں ہمارے وزیروں اور عثمان بزدار نے کرپشن نہیں کی۔ عثمان بزدار شہباز کی طرح میڈیا پر پیسہ نہیں لگاتا۔ کراچی کو ٹھیک کرنا بہت ضروری ہے،کراچی صرف سندھ کا نہیں بلکہ پاکستان کا انجن آف گروتھ ہے ، کراچی کا مسئلہ اس وقت حل ہو گا جب الیکٹڈ مئیر اپنے شہر کو ایک ملک کی طرح چلائے گا ، نہیں جانتا کہ سندھ حکومت کی کیا مسئلہ ہے ۔وزیر اعظم عمران نے کہا کہ ملک کو گورننس سسٹم کی ضرورت ہے ، ایف بی آر میں آٹومیشن سسٹم لاگو نہیں ہے کیونکہ ایف بی آر کے اندر لوگ ایسا نہیں ہونے دیتے ، اگر گورننس سسٹم درست کرنا ہے تو وہ لوکل گورنمنٹ سسٹم سے ہوگا، پنجاب اور کے پی کے میں جو لوکل گورننس سٹم آرہا ہے وہ پاکستان کی تاریخ کا بہترین سسٹم ہوگا، اس سسٹم کے تحت تحصیل ناظم کے ڈائریکٹ ایکشن ہوں گے ، اس سے سارا پیسہ براہ راست لوکل گورنمنٹ کو منتقل ہوگا ، اس سسٹم سے ہمارے شہر بچ جائیں گے ۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ اور کچھ دیگر افراد کی جانب سے کراچی کی مردم شماری کے اعدادوشمار پر اعتراضات درست ہوسکتے ہیں لیکن یہ الیکشن سے پہلے کا معاملہ ہے ، اس مسئلے کو اٹھانے کی درست ٹائمنگ نہیں ہے ، کراچی پاکستان کا گروتھ انجن ہے ،کراچی کو اگر زکام ہوگا تو پاکستان بیمار ہوگا ، کراچی کے سسٹم کو ٹھیک کریں گے ۔ شہبازشریف پر جو کیسز ہیں وہ نہیں بچ سکتا۔وزیراعظم نے کہا کہ کرونا سے پہلے دو ماہ اپوزیشن نے خوشیاں منائیں اب پوری دنیا کرونا سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی مثالیں دے رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے معاملے میں اپوزیشن نے این آر او لینے کی کوشش کی لیکن ہم بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے ۔قبل ازیں عمران خان نے رشکئی اقتصادی زون کی ترقی کے معاہدے پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ دوحہ میں جاری بین الافغان مذاکرات پاکستان کی کوششوں کی وجہ سے ہی ممکن ہوئے ہیں، ازبکستان سے پشاور تک ریل لنک کا منصوبہ زیر غور ہے جو اس خطے کو بدل کر رکھ دے گا،،چین کے تعاون سے ملک میں انڈسٹری لگانے کیلئے کام کر رہے ہیں ، رشکئی خصوصی اقتصادی زون معاہدہ خیبرپختونخوا کی ترقی کیلئے اہم سنگ میل ہے ، سی پیک منصوبے اب صرف مواصلات تک محدود نہیں ہیں، رشکئی اقتصادی زون سے روزگارکے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

Facebook Comments
Share Button