تازہ ترین

GB News

ملک دشمن عناصر انتشار چاہتے ہیں، ملکر ناکام بنانا ہوگا، وزیراعظم 

Share Button

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک دشمن عناصر مذہب کی آڑ میں معاشرے میں انتشار پھیلانے کی کوششوں میں ہیں جسے ہم سب نے ملکر ناکام بنانا ہے،مذہبی رواداری  اور  بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، حکومت اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے اور اس حوالے سے تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے۔پیر کووزیر اعظم عمران خان سے چیئرمین قومی اقلیتی کمیشن  چیلا رام کیلانی کی قیادت میں کمیشن کے وفد  نے  ملاقات کی،وفد میں وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری، مولانا  سید محمد عبدالخبیر آزاد، مفتی گلزار احمد نعیمی، جئیپال چھبڑیا، وشنو راجا قوی، ڈاکٹر سارہ صفدر، آرچ بشپ سبیسشن فرانسس شا، البرٹ ڈیوڈ، ڈاکٹر پمپل سنگھ، سروپ سنگھ، روشن خورشید بھاروچہ، داؤد شاہ، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز، پارلیمانی سیکرٹری  شنیلہ رتھ و دیگر شامل تھے۔ملاقات میںقومی اقلیتی کمیشن کے کردار کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔وزیر اعظم نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ  مذہبی رواداری  اور  بین المذاہب ہم آہنگی کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، ملک دشمن عناصر مذہب کی آڑ میں معاشرے میں انتشار پھیلانے کی کوششوں میں ہیں جسے ہم سب نے ملکر ناکام بنانا ہے۔ وزیرِ اعظم نے امید ظاہر کی کہ قومی کمیشن برائے اقلیت اس ضمن میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا۔وزیر اعظم نے کہا حکومت اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے اور اس حوالے سے تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ  اجلاس کا مقصد قوم کو کورونا کی دوسری لہر اور مزید نقصانات سے بچانے کے لئے بر وقت فیصلہ سازی ہے ، مختلف ممالک کے اعدادوشمار کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرد موسم میں کورونا کی وبا ء کے پھیلا ئوکا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ابھی سے اقدامات اور حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس امر پر زور دیا کہ حفاظتی اقدامات اور ماسک کے استعمال  کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔پیر کویہاں  وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے کوویڈ 19کا اجلاس  ہوا جس  میں  ملک میں کورونا وبا کی صورتحال ،  ٹیسٹ ،    ملک کے مختلف حصوں میں وبا کے پھیلا  ئوکی شرح اور عالمی سطح پر کورونا  کیسز کی بڑھتی ہوئی صورتحال  پر بریفنگ  دی گئی ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی طور پر کورونا کی دوسری لہر کے نتیجے میں  متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اللہ تعالی کی مہربانی اور حکومتی اقدامات اور حکمت عملی کے نتیجے میں پاکستان میں وبا کا پھیلا اور نقصان دیگر ملکوں کے مقابلے میں واضح طور پر کم ہوا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گذشتہ چھ ہفتوں میں سامنے آنے والے اعدادوشمار کے مطابق کورونا کا مرض دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی ، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور آزاد جموں و کشمیر میں کورونا وبا کے پھیلا  ئوسے متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈائون کیا جا رہا ہے۔ حالیہ اعدادوشمار کو مدنظر رکھتے ہوئے اور آبادی کو کورونا کی دوسری لہر سے بچانے کے حوالے سے اجلاس کے سامنے تجویز پیش کی گئی کہ  ایسی تمام  غیر ضروری سرگرمیوں  جن کا تعلق معیشت اور تعلیم وغیرہ جیسی بنیادی ضرورتوں  سے نہیں ان کو محدود کرنے کے حوالے سے اقدامات کیے جائیں۔ ان میں عوامی اجتماعات پر پابندی کی تجویز بھی پیش کی گئی۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس کا مقصد قوم کو کورونا کی دوسری لہر اور مزید نقصانات سے بچانے کے لئے بر وقت فیصلہ سازی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک کے اعدادوشمار کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرد موسم میں کورونا کی وبا ء کے پھیلا ئوکا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ابھی سے اقدامات اور حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس امر پر زور دیا کہ حفاظتی اقدامات اور ماسک کے استعمال  کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

Facebook Comments
Share Button