تازہ ترین

GB News

جائیں تو جائیں کہاں

Share Button

جائیں تو جائیں کہاں

مہنگائی کے اعداد و شمار جاری کرنے والے سرکاری ادارے وفاقی ادارہ شماریات نے ستمبر کے مہینے میں مہنگائی کی شرح میں 9.04 فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا جو اگست کے مہینے میں 8.02 فیصد تھی۔ مرکزی بینک نے بھی ستمبر کے آخر میں اپنی زرعی پالیسی میں غذائی اجناس کی رسد میں رکاوٹوں کی وجہ سے مہنگائی کے بڑھنے کے بارے میں اشارہ کیا تھا۔کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق ایک پاکستانی اوسطا 34.58 فیصد کھانے پینے کی اشیاء پر خرچ کرتا ہے، 26.68 فیصد مکان کے کرائے، بجلی، گیس، پانی کے بلوں اور ایندھن پر، 8.6 فیصد کپڑوں اور جوتوں کی خریداری پر، تقریبا سات فیصد ہوٹلنگ، تقریبا چھ فیصد نقل و حمل، چار فیصد سے زائد گھر کی تزئین و آرائش اور مرمت پر، 3.8 فیصد تعلیم اور 2.7 فیصد صحت پر خرچ کرتا ہے۔پاکستان میں حالیہ ہفتوں میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کی بڑی وجہ فوڈ انفلیشن یعنی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ تھا۔ پاکستان میں مالی سال 2018-19 میں مہنگائی کی شرح مجموعی طور پر 6.8 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی جو مالی سال 2019-20 کے اختتام پر 10.7 فیصد کی شرح پر بند ہوئی۔ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جائے تو مقامی طور پر پیدا ہونے والی اور باہر سے درآمد ہونے والی اشیا دونوں کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔آٹے کی قیمت میں گذشتہ سال ستمبر کے مقابلے میں اس سال ستمبر تک پچاس سے ساٹھ فیصد اضافہ ہوا، چینی کی قیمت میں بیس سے تیس فیصد، دال مسور کی قیمت میں پچیس فیصد، مونگ کی دال میں چالیس فیصد سے زائد، دال ماش کی قیمت میں تیس فیصد سے زائد، کوکنگ آئل کی قیمت میں دس فیصد، خشک دودھ کی قیمت میں پانچ فیصد، گوشت کی قیمتوں میں تقریبا دس فیصد، دودھ کی قیمت میں دس فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا اور چاول کی قیمت بھی دس فیصد سے زائد بڑھی۔ایک روز پہلے ہی وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے تمام سرکاری مشینری کو متحرک کریں گے اور آنے والے دنوں میں ہماری اب پوری توجہ مہنگائی کنٹرول کرنے پر ہوگی۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجلی گیس اور ادویات کی بڑھتی قیمتوں پر بھی بحث ہوئی، وزرا نے بڑھتی مہنگائی پر ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ وفاقی وزیر مراد سعید، شیخ رشید، فیصل واوڈا اور دیگر وزرا نے مہنگائی کا معاملہ اٹھایا۔ کابینہ ارکان نے کہا کہ صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو اشیا کی دستیابی یقینی بنانا ہوگی۔وزیراعظم عمران خان نے مہنگائی میں کمی کیلئے ہنگامی اقدامات کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ مشاورت جاری ہے، حکومت جلد ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع کرے گی، عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے تمام سرکاری مشینری کو متحرک کریں گے، آنے والے دنوں میں ہماری اب پوری توجہ مہنگائی کنٹرول کرنے پر ہوگی اور ساری صورتحال خود مانیٹر کررہا ہوں، دیکھتے ہیں اب مافیا کیا کرتا ہے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے این سی او سی کو کورونا کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کیسز بڑھے تو اسکولز، شادی ہالز اور دیگر اجتماعات پر پابندی لگائی جاسکتی ہے۔کیاحکومتی معاشی ماہرین معیشت کے استحکام کے لیے کوشاں ہیں۔ انہیں تو آئی ایم ایف اور عالمی بینک کو مطمئن کرنا ہے۔ انہیں خوش رکھنا ہے۔ اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ ان کے پاس اتنا وقت کہاں ہے کہ وہ غریبوں کے تلخ حالات زندگی کے بارے میں سوچیں۔ عوام اور حقائق سے اکٹھے ہوئے ماہرین اور اشرافیہ کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ ضروریات زندگی، خوراک، بجلی، گیس ، پٹرول اور سبزیوں وغیرہ کی قیمتوں میں معمولی ردوبدل انہیں کتنی مشکلات اور اذیتوں سے دو چار کرتا ہے ۔ جو لوگ سات ہزار سے پندرہ ہزار روپے ماہانہ کماتے ہیں ۔ کرایوں کے گھروں میں رہتے ہیں۔ ان کی جیبوں پر جب ہزارروپے یا اس سے زیادہ کا اضافی بوجھ پڑتا ہے تو ان کی کیا حالت ہوتی ہے۔ہزار روپے کی حکمران اشرافیہ کے سامنے کیا اوقات ہے۔ اتنی تو وہ کسی بھی ریسٹوڑنٹ میں کھانا کھا کر ٹپ دے دیتے ہیں۔ بالائے درمیانے طبقے کو بھی دو چار ہزار سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر جو شخص کماتا ہی سات ، دس یا پندرہ ہزار ہو تو اس کو ایک یا دو ہزار روپے سے بہت فرق پڑتا ہے۔ قیمتوں میں معمولی ردوبدل انہیں یہ فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ انہوں نے بچوں کو سکول بھیجنا ہے یا کام پر ۔ انہیں یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ انہوں نے بیماری کے لیے دوا خریدنی ہے یا بچوں کا پیٹ بھرناہے۔ اب تو لنڈے کے کپڑے اور جوتے بھی ان کی پہنچ سے باہر ہو گئے ہیں۔ ایک یا دو ہزار کی کیا قیمت ہوتی ہے یہ تو اس غریب عورت سے کوئی پوچھے جو اتنے پیسوں کے لیے اپنی عزت تک بیچ دیتی ہے۔ اس ملک کے غریب لوگوں کے گلیوں، محلوں اور بستیوں میں زندگی کتنی تلخ اور مشکل ہو گئی ہے۔ محلات خادم ہائوسوں اور خوبصورت اور محفوظ سوسائٹیوں میں رہنے والی حکمران اشرافیہ تو اس کے بارے میں سوچنا بھی پسند نہیں کرتی۔ ان کو اندازہ بھی نہیں ہے کہ جب افراط زر کی شرح میں ایک فیصد اضافہ ہوتا ہے تو کتنے لاکھ پاکستانی غربت کی لکیر سے نیچے چلے جاتے ہیں۔ اگر ان کو اندازہ ہوتا تو یہ افراط زر میں تین گنا اضافہ کرنے کے بعد اپنے آرام دہ گھروں میں سکون کی نیند نہ سو سکتے۔ مہنگائی کے طوفان نے تو پاکستان کے عوام کی غالب اکثریت کو واضح طو رپر متاثر کیا ہے۔ ایک طرف قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں تو دوسری طرف حقیقی آمدن میں کمی آ رہی ہے۔ معاشی بحران کی وجہ سے نجی شعبے میں تنخواہوں میں کمی کا رجحان غالب ہے یا پھر جمود طاری ہے۔ لاکھوں روپے تنخواہیں لینے والے معاشی ماہرین اور حکومتی ترجمانوں کو شاید مہنگائی کے اس طوفان سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کیونکہ ان کو شاید ذاتی خرچ پر ملک سے باہر ایک آدھ سفر کم کرنا پڑے یا کبھی کبھار مہنگے ہوٹل کی بجائے گھر پر پر تعیش کھانا تناول فرمانے کی قربانی دینی پڑے مگر جب افراط زر کی شرح 12.6 فیصد ہو تو یہ غریب عوام اور لاکھوں گھرانوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ان کے سامنے یہ سوال کھڑا ہو جاتا ہے کہ انہوں نے زندگی سے اپنا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے دوائی کھانی ہے یا روٹی۔ کسی کھانستے بزرگ کی دوائی کا بندوبست کرنا ہے یا پھر کسی بھوک سے بلکتے بچے کے لیے دودھ یا کھانے کا بندوبست کرنا ہے۔ وقت پر کرایہ دینا ہے یا پیٹ کی دوزخ بھرنی ہے۔ معیشت کے استحکام کے لیے موجودہ حکومت جو کچھ کر رہی ہے اس کی اصل قیمت غریب عوام کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ مہنگائی میں اضافے کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ ایک تو حکومتی پالیسیاں اقدامات اور دو دوسری ناجائز منافع خوری، جہاں تک حکومت پالیسیوں کا تعلق ہے تو جب سولہ ماہ میں مرتبہ مرتبہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے نا م پر مہنگائی ہو گی۔ جب پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو گا۔ گیس مہنگی ہو گی تو کاروباری اخراجات میں اضافہ ہو گا۔ حکومت بالواسطہ ٹیکس عائد کرے گی یا ان کی شرح میں اضافہ کرے گی تو اس سے مہنگائی آئے گی۔ اشرافیہ ٹیکس نہ دے تو اس کا بوجھ عوام پر ڈال دو۔ تاجر ٹیکس نہ دیں تو اس کا بوجھ عوام پر منتقل کر دو۔ جب بالواسطہ ٹیکس عائد ہوتے ہیں تو صنعتکار اور تاجران کا سارا بوجھ عوام پر منتقل کر دیتے ہیں۔ حکومت کو تو اپنے اہداف حاصل کرنے ہیں۔ ان کو تو عالمی مالیاتی سامراجی اداروں کو خوش کرنا ہے تا کہ مزید قرض لیا جا سکے۔ اس لیے عوام پر کیا بیت رہی ہے، وہ کس اذیت میں مبتلا ہیں اس سے حکومتی معاشی ماہرین کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ٹیکس لگائے جائو۔ مہنگائی کرتے جائو۔ بجلی، گیس، پٹرول مہنگا کرتے جائو اور پھر معصومیت سے کہو کہ مہنگائی کی وجہ ہماری پالیسیاں تو نہیں ہیں۔ یہ تو پچھلی حکومتوں کی لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔ بس تھوڑا صبر کریں۔ پھر سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کب تک ہو جائے گا یہ خود ان کو بھی پتہ نہیں ہے۔دوسری وجہ قیمتوں پر حکومتی کنٹرول کا خاتمہ ہے۔ قیمتوں کو کنٹرول رکھنے کا جو تھوڑا بہت نظام موجود تھا وہ بھی تباہ ہو چکا ہے۔ دکھادے کہ چھاپوں اور اجلاسوں کے علاوہ عملی طور پر کوئی ایسا نظام اور میکنزم موجود نہیں ہے جو کہ قیمتوں کو کنٹرول میں رکھ سکے اور ناجائز منافع خوری کو روکے۔آزاد منڈی کی محبت میں قیمتوں کا تعین ہم نے سرمایہ داروں، تاجروںا ور صنعتکاروں پر چھوڑ دیا ہے۔ ہم نے آزاد منڈی کی اندھی قوتوں کو یہ مکمل اختیار دے دیا ہے کہ وہ جیسا چاہیں صارفین کا استحصال کریں۔ آزاد منڈی کا منہ زور گھوڑا اب قابو سے باہر ہو گیا ہے۔ آزاد منڈی کچھ زیادہ ہی آزاد ہو گئی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ افراط ِ زر، روزگار، غربت یہ معیشت سے ہٹ کر کوئی چیز نہیں ہے، معیشت بہتر ہو تو یہ سب چیزیں صحیح سمت میں ہوتی ہیں، معیشت کا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس وقت وینٹی لیٹر پر ہیں، ملک دیوالیہ ہو چکا ہے اور ہم مکمل قرض پر چل رہے ہیں جس دن قرض کا یہ نلکا بند ہوا اس دن معیشت بیٹھ جائے گی۔ایسے میں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں وہ بیچارے جائیں تو جائیں کہاں۔

Facebook Comments
Share Button