تازہ ترین

GB News

المیہ در المیہ

Share Button

اسے ایک المیہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ ملک میں بچوں سے زیادتی اور ریپ کے واقعات میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے کوئی دن نہیں جاتا جب اس نوع کا کوئی واقعہ وقوع پذیر نہ ہوتا ہو’ایک غیرسرکاری تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ہمارے ملک میں ہر روز تقریباگیارہ بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔رپورٹ بتاتی ہے کہ ہمارا مستقبل، ہمارے بچے کتنے بڑے خطرے سے دوچار ہیں۔بچوں سے زیادتی، تشدد، ریپ کیسز میں مسلسل اضافہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ حکومت کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون بنا کر سخت ترین سزا کا اجرا کرنا ہوگا، کیونکہ جب کوئی عمل فطری، اخلاقی احساس، تعلیم و تربیت اور سماج کے دبائو سے ماورا ہو جائے تو قانون کا خوف جرم کے سدباب کا واحد ذریعہ ہے ۔ بلاشبہ معاشرتی خرابیوں کے خلاف قانون بنانے کا مقصد معاشرے کو جرائم سے پاک کرنا ہوتا ہے اگر پھر بھی حالات جوں کے توں رہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون میں کوئی پہلو ایسا رہ گیا ہے کہ جس سے جرائم کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ مغربی ممالک میں تو انٹرنیٹ پر چائلڈ پورنوگرافی کو جنسی زیادتی کا بڑا سبب قرار دیا جاتا ہے، جبکہ پاکستان کے ماہرین نفسیات و سماجیات کو بھی اس کے اسباب پر تحقیق اور سدباب کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہیے۔ماہرین کے مطابق ایسے واقعات میں وہ لوگ ملوث ہوتے ہیں جو بچپن میں جنسی تشدد کا نشانہ بنے ہوں۔ جبکہ لوگوں کے رویوں کو تشکیل دینے اور ان پر اثر انداز ہونے میں میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ میڈیا آگاہی بھی پیدا کرتا ہے اور ارباب اختیار کو ان واقعات کی روک تھام کے لیے عملی قدم اٹھانے پر بھی مجبور کرتا ہے، ان مسائل کو پبلک ایجنڈا میں شامل کرانے میں میڈیا ہی کی طاقت پوشیدہ ہے۔ملکی میڈیا میں بھی اس مسئلے پر آگاہی کے لیے بھرپور مہم چلانے کی ضرورت ہے۔بچوں کو جنسی استحصال کا آسان نشانہ بننے سے بچانے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ ، ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن کو نصاب میں شامل کرنا، بچوں کو خطرات سے نبٹنے کے لئے تکنیکی سہولتیں فراہم کرنا بھی انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ والدین کا کردار یہاں بہت زیادہ اہم ہے ، والدین اولاد سے دوریاں ختم کر کے دوستی کے رشتے کو پروان چڑھائیں تاکہ کوئی تیسرا اس تعلق میں نہ گھس سکے۔ان کے ہر عمل پر نظر رکھیں، ان سے ملنے جلنے والوں پر نظر رکھیں، کسی پر بھی اندھا اعتماد نہ کریں۔ بچوں کی بات پر توجہ دیں، اگر وہ کسی ایسی بات، یا کسی کی کسی حرکت کی آپ سے شکایت کریں تو بچوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ انہیں حفاظتی تدابیر سے روشناس کروائیں، تاکہ وہ کسی کی بھی لالچ میں نہ آ سکیں کیونکہ اکثر واقعات میں بچے کو کسی چیز کا لالچ دے کر، گھمانے پھرانے کا لالچ دے کر پھانسا جاتا ہے ۔ بچے ہمارے معاشرے کا مستقبل اور روشن کل ہیں ہر قیمت پر ان کی حفاظت کرنا تمام مکاتب فکر کی اولین ذمہ داری ہے،کیونکہ کوئی بھی معاشرہ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے گھنائونے واقعات کو برداشت نہیں کر سکتا۔آج معصوم بچوں کی روحیں ہم سے پوچھ رہی ہیں کہ اس ریاست کا مستقبل کیا ہے جو اپنے معصوم بچوں کو بھی تحفظ نہیں دے سکتی؟ آخر پھول کب تک مسلے جاتے رہیں گے۔پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ ملک میں ریپ اور بچوں سے جنسی زیادتی کے مجرموں کو جنسی صلاحیت سے محروم کرنے کے حامی ہیں اور اس سلسلے میں تازہ قانون سازی کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قتل کی طرح قانون میں جنسی جرائم کی بھی درجہ بندی ہونی چاہیے اور ریپ کے مرتکب مجرموں کو جنسی طور پر ناکارہ بنا دیا جانا چاہیے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب وہ حکومت میں آئے تھے تو ملک میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کے تناظر میں وہ سرِعام پھانسی کے حق میں تھے تاہم انہیں مشورہ دیا گیا کہ ایسا کرنے سے عالمی ردعمل ہو سکتا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا میرے خیال میں تو انہیں چوک میں لٹکانا چاہیے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اگرچہ وہ اس جرم کے لیے سرعام پھانسی کے حق میں ہیں تاہم انہیں بتایا گیا ہے کہ ایسا کرنا پاکستان کے حق میں فائدہ مند نہیں کیونکہ یورپی یونین کی جانب سے بین الاقوامی تجارت کی اجازت معطل ہو جائے گی۔دوسری جانب اراکین اسمبلی نے زیادتی کے ملزمان کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ اسمبلی میں اس سے قبل یہ مطالبہ علی محمد خان نے کیا تھا جس میں بچوںکے ساتھ زیادتی کے ملزمان کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم اس قرارداد کو یہ کہہ کر رد کر دیا گیا تھا کہ اس سے معاشرے میں متشدد رویوںمیں اضافہ ہوگا۔جو بات عمران خان صاحب کر رہے ہیں کیا وہ اس قبیح فعل کا پائیدار حل ہے؟ کیونکہ جنسی نامردگی کی سزا پانے والے افراد نفسیاتی طور پر معاشرے کے لیے مزید خطرے کا سبب بن سکتے ہیں۔ جنسی نامردگی کا تازیانہ انہیںمعاشرے میں مزید بگاڑ پیدا کرنے پر اکسائے گا اور اس طرح معاشرے میں مجرمانہ سرگرمیوںمیں اضافہ ہوگا۔ اگر حکومت نے سخت سزا ہی دینی ہے تو پھر اسلامی سزا پر غور کرنا کیوںمناسب نہیں۔ہمارا ملک اب بدقسمتی سے معاشرے کی تعریف میں نہیں آتا۔ غالب کے بقول ہم سب حریص لذت آزار ہوچکے ہیں۔ ہمیں سخت سے سخت سزائوں سے مطلب ہے کہ ایک طبقہ اپنی انا کی تسکین کرسکے اپنی آزار دینے کی لذت سے لطف اندوز ہوسکے۔ لیکن کوئی بھی اپنی نااہلی ماننے کو تیار نہیں۔ ایک گھنائونا جرم کہ جس پر کوئی بات نہیں کررہا کہ موٹر وے کو لاوارث چھوڑ دیا گیا تھا۔ بجائے اسکے ذمہ دار افسران کو سزائیں دینے کے جو کہ دینی چاہیے ڈیسک صرف اس پہ بجائے جاتے رہے کہ سر عام مجرموں کو چوک پہ لٹکایا جائے۔بلاشبہ کسی بھی ذی شعور معاشرے میںاس قدر درندگی کو برداشت نہیںکیا جاسکتا تاہم اس طرح کے جرائم کو روکنے کے لیے ہجومی انصاف بھی کوئی درست تقاضا نہیںہے۔ عوام کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اس طرح سر عام پھانسی دے کر یا مجرم کو جنسی نامرد بنا کر حکومت اپنی ذمہ داریوںسے مبرا ہر گز نہیںہوسکتی۔ سوال یہ ہے اس طرح کے واقعات کی اولین روک تھام کے لیے سرکاری مشینری کیا کردار ادا کر رہی ہے اور انصاف کے ادارے اس ضمن میں کس قدر انصاف فراہم کر رہے ہیں۔ ہاںاگر حکومت اس طرح کے واقعات میںواقعی انصاف فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے تو پھر اس کے لیے الگ عدالتی نظام قائم کرے جہاںپر مظلوم افراد کو فوری انصاف مہیا کیا جائے۔ کیا قانون میں موجود سقم کی وجہ سے ایسے دلخراش واقعات پیش آتے ہیں یا پھر ملزمان کو ملنے والی کھلی چھوٹ ایسے واقعات میں اضافے کا سبب ہے۔ میڈیا اور بالخصوص دوسرے ملکوں کے میڈیا نے معاشرے کا ستیاناس کر دیا ہے ڈراموں اور فلموں میں ریپ کے اتنے کیسز دکھاتے ہیں کہ لوگ جانور بن گئے ہیں۔ کئی شہروں سے ایسی ہی خبروں نے معاشرے کو جھنجھوڑ ڈالا ہے۔ دوسری طرف اس سوال نے بھی جنم لیا کہ کیا جو ان بچوں پہ گزری اس کو میڈیا پہ ان کی اور ان کے خاندان کی شناخت کے ساتھ بار بار دہرا کر نادانستگی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مزید ظلم تو نہیں کیا جا رہا؟ بعض اوقات عدالت یا میڈیا کے سامنے جنسی زیادتی سے متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کا بار بار ذکر کیا جانا ان کے لیے جنسی زیادتی سے بھی بڑھ کر تکلیف کا سبب بن جاتا ہے۔ معاشرے کو یہ امر یقینی بنانا چاہیئے کہ جنسی تشدد سے گزرنے والے افراد کے نام، جنس اور عمر کو جہاں تک ممکن ہو چھپانا چاہیے۔ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی میں 80 فیصد کوئی قریبی شخص ملوث ہوتا ہے۔ کوئی ایسا شخص جسے بچہ جانتا ہے، جسے بچے کے گھر والے جانتے ہیں۔ گھر، محلے اور اسکول میں بچوں کا کئی ایسے لوگوں سے پالا پڑتا ہے۔ ان کے بقول، بچوں پہ جنسی تشدد یوں تو گھر اور اسکول جیسی جگہوں پر بھی ہو سکتا ہے، لیکن بہت سے بچوں کو اغوا کرنے کے بعد جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اکثر بچوں کو قتل کردینے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ماہرین کے نزدیک اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ایسے زیادہ تر کیسز میں بچہ اغوا کار اور جنسی تشدد کرنے والے کو جانتا ہے اس لئے اسے بعد میں شناخت کے ڈر سے قتل کر دیا جاتا ہے۔بچوں کے اغوا اور ان کے ساتھ جنسی تشدد کی روک تھام میں سب سے اہم کردار والدین کا ہوتا ہے۔ بچے آسان ہدف ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ ان کو ایسے شخص کے ساتھ سکول یا کہیں اور بھیجا جائے، جس پر والدین کا مکمل اعتماد ہو، جب کہ، سکول سے واپس آنے کے بعد بھی بچوں پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہے۔

Facebook Comments
Share Button