تازہ ترین

GB News

مثبت فیصلے

Share Button

کیڈٹ کالج اسکردو کے بورڈ آف گورنرز کا خصوصی اجلاس فورس کمانڈر ،چیئرمین بورڈ آف گورنرز کیڈٹ کالج سکردو میجر جنرل جواد احمد قاضی اور چیف سیکرٹری خرم آغا کی صدارت منعقد ہوا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ سے ماہر اساتذہ کی تعیناتی ٹی ایس یا کسی اور سرکاری طور پر منظور شدہ ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی۔ بورڈ آف گورنرز نے پرنسپل کیڈٹ کالج اسکردو کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ آئندہ بورڈ آف گورنرز کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کئے جائیں گے تاہم ممبران کی عدم دستیابی کی صورت میں اجلاس شیڈول کے مطابق ویڈیو لنک کے ذریعے منعقد کیا جائیگا۔ بورڈ آف گورنرز نے طلبا کی غیر نصابی سرگرمیوں اور بہبود کیلئے اساتذہ کی رہنمائی میں اسٹوڈنٹ کونسل تشکیل دینے کی سفارش بھی کی ہے۔ بورڈ آف گورنرز نے کیڈٹ کالج کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کیلئے فوری فنڈز جاری کرنے کا حکم صادر کیا ہے جن میں ہاسٹل نمبر تین کی فوری تکمیل ، مسجد کی مرمت ، کثیر المقاصد ہال کی تزئین نو ، بانڈری وال کی تعمیر ، اضافی سیکیورٹی گارڈز کی خدمات حاصل کرنے اور تھرمل پاور جنریشن کیلئے اضافی فنڈز کی فراہمی شامل ہیں۔کیڈٹ کالج اسکردو کے بورڈ آف گورنرز کے خصوصی اجلاس میں تعلیم کے حوالے سے جو فیصلے کیے گئے ہیں وہ خوش آئند ہیں’خاص طور پر اساتذہ کی تعیناتی کے حوالے سے یہ درست ہے کہ اساتذہ کی اہلیت تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ اساتذہ اس شعبے کا ستون ہیں’ہر شعبہ زندگی میں افراد کار کی روز افزوں ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بنیادی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری معلم یا مدرس پرعائد ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بچے کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہوتی ہے جہاں وہ مختلف اشیا اور کے ناموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا سیکھتا ہے۔ لیکن بعد کی زندگی میں اسے ان لوگوں کی ضرورت پڑتی ہے جو تعلیم و تربیت کے مختلف مراحل سے گزار کر اسے عملی زندگی میں قدم رکھنا سکھاتے ہیں۔ تمام والدین کے پاس اتنا وقت اور صلاحیتیں نہیں ہوتیں کہ وہ تیز رفتار ترقی کی دوڑ میں بچوں کو شامل کرنے کے قابل بنا سکیں۔ لہذا انہیں اساتذہ کی خدمات درکار ہوتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ تدریس کے مراحل میں اضافہ اور طریقہ کار میں مسلسل تبدیلی واقع ہوتی جارہی ہے چناں چہ شعبہ تدریس میں داخل ہونے والوں، یعنی اساتذہ کی اپنی تیاری کا کام بھی سائنسی انداز اختیار کرتا جارہا ہے اور جب یہ اساتذہ اپنے تربیتی مراکز سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں تو مختلف عمروں کے بچوں اور بڑوں کی تعلیم و تربیت کے فن سے پوری طرح آگاہ ہوتے ہیں۔ہر پیشے کی طرح تدریس میں آنے والے افراد کو بھی بعض خصوصی صفات کا حامل ہونا چاہیے۔ پیشہ تدریس میں داخل ہونے والے کو سب سے پہلے اپنی جسمانی و ذہنی سطح کے بارے میں مکمل اطمینان کرلینا چاہیے کہ وہ اوسط سطح سے بلند ہے۔ افراد، اشیاء اور اصول و قوانین کے صحیح ادراک کی صلاحیت سے عاری افراد تدریس میں زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوسکتے۔ انسانوں سے محبت اور میل جول، صبر و تحمل اور فنِ گفتگو پر عبور، کسی بھی شخص کو اچھا مدرس بنانے کے لیے ضروری ہے۔ استاد کے لیے لازم ہے کہ اس میں ایثار و قربانی کا جذبہ بھی بیدار ہو۔اساتذہ کا زیادہ تر واسطہ اور رابطہ عموما بچوں اور نوجوانوں سے ہوتا ہے اس لیے ان کا حاضر دماغ و حاضر جواب، خوش لباس، خوش اخلاق اور بعض صورتوں میں پر مزاح ہونا زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔ لطائف و واقعات اور کہانی قصوں کا موقع محل کی مناسبت سے استعمال مدرس کے کام کو آسان بنا دیتا ہے اور ان سب سے بڑھ کر علم کی مسلسل جستجو، ان تھک محنت کی عادت اور اپنے کام سے والہانہ لگائو ہی کسی مدرس کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ ان میں سے جس قدر زیادہ صلاحیتیں کسی شخص میں موجود ہوں گی، وہ اتنا ہی کامیاب استاد ہوگا۔ تدریس سے وابستہ لوگوں کو اپنے شاگردوں پر مسلسل توجہ، ان کی ہر وقت نگہداشت اور جذبہ ایثار کے ساتھ نرم و شائستہ انداز میں رہنمائی کرنا ہوتی ہے۔ تدریس کوئی جز وقتی پیشہ نہیں بلکہ اساتذہ کو اپنے طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے ہمہ وقتی ذہنی اور جسمانی محنت و مشق کے لیے تیار رہنا ہوتا ہے۔ کمرہ جماعت میں انہیں جو سبق پڑھانا ہو، اس کے لیے ایک روز پہلے سبق کے تمام مراحل کی منصوبہ بندی کرنا پڑتی ہے۔ پھر کلاس کے ہر بچے کی خوبیوں اور خامیوں کو مدِنظر رکھ کر اسی مناسبت سے ان پر توجہ دینا ضروری ہے۔ سبق کے اختتام پر عمومی جائزہ لے کر نتائج کا اندازہ کیا جاتا ہے اور آخر میں ہوم ورک تفویض کرکے کمرہ اساتذہ میں گزشتہ روز کے ہوم ورک کی جانچ کی جاتی ہے۔ غبی اور کم زور طالب علموں کو جماعت کے ساتھ لے کر چلنے کے طریقے سوچے جاتے ہیں۔تدریس کا عمل خوش گوار ماحول کا متقاضی ہوتا ہے۔ اس پیشے سے وابستہ افراد مختلف اور متنوع سرگرمیوں کے باعث یکسانیت اور بوریت سے محفوظ رہتے ہیں۔ کلاس روم میں سبق دینے میں اگر کوئی تکان محسوس بھی ہو تو وہ دیگر غیر نصابی سرگرمیوں میں دورہوجاتی ہیں۔ مصوری، مضمون نویسی اور تقاریر کے مقابلے، مباحثے، بیت بازی ادبی پروگرام، سالانہ جلسے اور کھیلوں کے مقابلے وغیرہ اساتذہ کو ہر وقت چاق چوبند ، مستعد اور خوش مزاج و بذلہ سنج رکھتے ہیں۔ دیگر اساتذہ، طلبہ اور ان کے والدین کی کثیر تعداد کے ساتھ ہمہ وقت رابطے کے باعث ہر استاد کی علمی قابلیت، معلومات اور تعلقات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، بھرپور سماجی زندگی پسند کرنے والوں کے لیے تدریس کا پیشہ نہایت مناسب ہے۔ دیہات اور چھوٹے شہروں میں مالی مفادات سے زیادہ انہیں معاشرے میں عزت و شہرت حاصل ہوتی ہے اور زندگی کے تمام شعبوں میں شاگردوں کی موجودگی ان کے چھوٹے بڑے تمام مسائل کو آسانی سے حل کرنے کا سبب بنتی ہے۔ علاوہ ازیں سال میں دو مرتبہ موسمِ گرما اور موسمِ سرما کی تعطیلات اساتذہ کو تازہ دم کردینے کا سبب بنتی ہیں۔مختلف سطح پر تدریسی فرائض انجام دینے والوں کے کام کی نوعیت جدا جدا ہوتی ہے۔ پریپریٹری، نرسری اور کے جی کی کلاسیں اگرچہ سرکاری اسکولوں میں نہیں ہوتیں لیکن اچھے نجی تعلیمی اداروں میں ان جماعتوں کا بڑا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس سطح تک تدریسی عمل میں مصروف اساتذہ کو چوں کہ دو ڈھائی سال سے عموما پانچ سال تک کی عمر کے بچوں سے واسطہ پڑتا ہے اس لیے ان اساتذہ میں محبت و شفقت کے جذبات کے علاوہ بچوں کی نفسیات سے واقفیت ضروری ہے۔ مشہور یونانی فلسفی افلاطون کے تعلیمی نظریات کے مطابق چھوٹے بچے نازک کونپلوں کی طرح ہوتے ہیں جو ہر مرحلے پر اساتذہ کی توجہ اور نگرانی کے محتاج ہوتے ہیں۔ لہذا اس سطح پر زیادہ تجربہ کار اساتذہ ہونے چاہیں۔ غیر شادی شدہ اساتذہ کے بجائے بال بچوں والے اساتذہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔ وہ بچوں پر سختی کرنے کے بجائے کھیل کود اور مختلف اقسام کی تفریحی سرگرمیوں کے ذریعے بچوں کی تعلیم و تربیت کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ اس مرحلے پر روایتی کلاسوں کے بجائے کھیلوں کے سامان ، رنگین تصاویر، چارٹ وغیرہ کی مدد سے کھلی فضا میں تدریسی عمل کو فروغ دیا جاتا ہے۔ پھر پرائمری کی سطح پر ہلکے پھلے مضامین کے ساتھ ساتھ تصاویر اور بیرون جماعت سرگرمیوں سے مدد لی جاتی ہے۔ سیکنڈری اور کالج کی سطح پر تعلیم و تربیت اورنظم و ضبط کے قدرے سخت اور سنجیدہ اصولوں پر عمل کرایا جاتا ہے۔ تاہم آئوٹ ڈور گیمز، پک نکس، مطالعاتی دورے وغیرہ بھی تدریسی عمل کا حصہ قرار پاتے ہیں۔تدریس کے مختلف کورسزمکمل کرنے کے بعد اساتذہ اسکولوں کے ہیڈماسٹر، انسٹرکٹر سپروائزر ، ایجوکیشن آفیسر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر جیسی آسامیوں پر براہِ راست تقرری کے اہل ہوتے ہیں۔ محکمہ تعلیم میں سیکشن آفیسر اور تعلیمی منصوبہ بندی کے شعبوں میں بھی تربیت یافتہ اساتذہ کو ترجیح دی جاتی ہے۔گزشتہ دو عشروں کے درمیان پاکستان میں پری پرائمری اسکولوں کو خاصا فروغ حاصل ہوا ہے۔ چھ سال کی عمر کو پہنچنے پر پرائمری اسکول کی پہلی جماعت میں داخل کرانے اور باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ شروع کرنے سے پہلے، بچے کو ڈھائی سے تین سال کی عمر میں مونٹیسوری اسکول یا کنڈر گارٹن نرسری میں داخل کرا دیا جاتا ہے۔ مونٹیسوری اور کنڈرگارٹن، بچوں کی پڑھائی کے ان دونوں طریقوں کا مقصد یہ ہے کہ چھوٹی عمر میں بچوں کی فطری صلاحیتو ں اور رجحان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور کھیل اور دیگر دلچسپیوں کے ذریعے انہیں مہذب زندگی کی بالکل ابتدائی باتوں کی تعلیم اس طرح دی جائے کہ وہ ان پر بوجھ نہ بنے۔ماہر اساتذہ کی تعیناتی ٹی ایس یا کسی اور سرکاری طور پر منظور شدہ ٹیسٹنگ سروس کے ذریعے ضرور عمل میں لائی جائے لیکن یہ خیال رکھا جانا ضروری ہے کہ ٹیسٹنگ سروس بھی ایمانداری سے فرائض انجام دے ۔

Facebook Comments
Share Button