تازہ ترین

GB News

کرونا وائرس کو انتخابات کے التواء کا جواز نہیں بننا چاہیے

Share Button

نگران صوبائی وزیر صحت امام یار بیگ نے کہا ہے سردی کی آمد کے ساتھ گلگت بلتستان میں کرونا وائرس کی صورتحال سنگین ہو رہی ہے اس لیے پندرہ نومبر کو الیکشن کا فیصلہ سنگین غلطی ہے’ میں بحیثیت سپیشلسٹ ڈاکٹر سمجھتا ہوں کہ سردی کے موسم میں انتخابات کرونا کے حوالے سے خطرے کا باعث بنیں گے’ کرونا کے لیے احتیاطی تدابیر کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا یہ درست ہے کہ ہمیں نہ جانے کتنے عرصہ تک اس صورتحال ہی میں جینا پڑے لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کاروبار زندگی کو ہی معطل کر دیاجائے’ اس وقت ملک بھر میں تمام معمولات زندگی جاری ہیں ‘ اس لیے انتخابات کو بھی ایس او پیز پر عملدرآمد کے ساتھ منعقد کرایا جا سکتا ہے ‘ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ میں کرونا کیسز کی شرح پاکستان سے کہیں زیادہ ہے لیکن وہاں انتخابات ہو رہے ہیں اور کسی جانب سے ان کے التوا کی بابت نہیں کہا گیا بلکہ امریکہ ہر قسم کی صورتحال میں بروقت اور مقررہ تاریخ ہی کو انتخابات کراتا ہے لہذا ہمارے ہاں بھی کرونا کو انتخابات کے التوا کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے کیونکہ اس طرح حکومت کو اس الزام کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے کہ جان بوجھ کر انتخابات نہیں کرائے جا رہے اس لیے ہر قیمت پر انتخابات کے انعقاد کی سعی کی جائے’ ہم جانتے ہیں کہ چند روزقبل نگران وزیراعلی گلگت بلتستان میر افضل خان نے کہا تھا کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے پندرہ نومبر کو ہونے والے انتخابات کیلئے تیاریاں مکمل کرلی ہیں، شفاف الیکشن کو یقینی بنایا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ان تیاریوں میں لامحالہ کرونا کی صورتحال کو بھی ضرور پیش نظر رکھا گیا ہو گا’نگراں وزیراعلی میر افضل نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات میں فوج کی مدد نہیں لی جائے گی، الیکشن میں صرف پولیس، گلگت بلتستان اسکائوٹس اور رینجرز کو تعینات کریں گے اور ثابت کریں گے کہ پولیس اور پیرا ملٹری فورسز الیکشن کرانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ صرف ضرورت پڑنے پر فوج کو طلب کیا جائے گا۔ گلگت بلتستان انتخابات بغیر فوج کے کرا کے ملک میں مثال قائم کریں گے، نگران حکومت غیر جانبدار ہے۔ حساس حلقے میں فوج کی تعیناتی حالات کے مطابق عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ الیکشن کمیشن بھی اسمبلی الیکشن تک وزیر اعظم سمیت تمام حکومتی عہدیداروں کے دورے پر پابندی عائد کرچکا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز نے کہا تھا کہ قانونی طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی حکومتی عہدیدار گلگت بلتستان نہیں آ سکتا اور نہ انتخابی مہم چلانے کی اجازت ہے۔راجہ شہباز نے انتخابات کو ہر قیمت پر شفاف اور منصفانہ بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھاکہ انتخابات میں گلگت بلتستان اسکائوٹس، پولیس، رینجرز اور ایف سی کی مدد حاصل کی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ کورونا وائرس کے پھیلائو کے خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے انتخابات کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں انتخابات 2020 کے صاف، شفاف، آزادانہ، منصفانہ اور غیرجانبدارانہ طریقے سے انعقاد کرنے کیلئے الیکشن کمیشن گلگت بلتستان روز اول سے ہی پرعزم ہے۔چیف الیکشن کمشنر کا بھی کہنا تھا کہ انتخابات 15 نومبر کو ہی ہونگے،جس کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں۔ ضابطہ اخلاق پرعملدرآمد کیلئے تمام پارٹیز سے مشاورت ہوئی ہے ۔ انتخابات کیلئے رجسٹرڈ ووٹرز کی کل تعداد 745361 ہے جس میں مرد ووٹرز کی تعداد 405350 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 339992 ہے تمام جماعتیں الیکشن کمیشن کی جانب سے کیے گئے اقدامات سے مطمئن ہیں ۔ہم تمام تر تیاریوں کے ساتھ صاف شفاف انتخابات کا مرحلہ خوش اسلوبی سے انجام دیں گے۔ ہم دن رات بہترین انتخابات کے انعقاد کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ گلگت بلتستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ شفاف الیکشن کے انعقاد کیلئے تین دفعہ آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوا ہو۔ تمام شرکاء اے پی سی نے خصوصی طور پر ہمارے اس اقدام کو خوب سراہا بھی ہے۔ الیکشن صاف، شفاف اور پرامن ہونگے، جس کے لیے تمام مبصرین کو دعوت ہے کہ وہ آئیں اور الیکشن کا جائزہ لیں۔اگرچہ ابھی رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس)کو گلگت بلتستان کے آئندہ عام انتخابات کا حصہ نہیں بنایا گیا کیونکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان اس معاملے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کرسکا۔چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجا شہباز خان کہہ چکے ہیں کہ آر ٹی ایس کا جائزہ لے رہے ہیں جس کی وجہ سے متعلقہ حکام سے کوئی فیصلہ شیئر نہیں کیا گیا، تاہم کمیشن آئندہ ماہ صاف، شفاف اور آزادانہ انتخابات کے لیے پرعزم ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کے لیے پارلیمانی رہنمائوں سے تجاویز بھی طلب کرچکے ہیں۔ہر شہری کے دماغ پر کرونا کا خوف مسلط ہے، وفاقی، صوبائی حکومتیں اگرچہ وائرس سے بچائو اور پھیلائو روکنے کیلئے ممکنہ حد تک اقدامات کر رہی ہیں مگر کرونا آسیب میں کمی نہیں آ رہی، ڈاکٹروں کے مطابق اس قدرتی آفت سے بچنے کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے، صفائی، ستھرائی، حفظان صحت کے اصولوں پر عملدرآمد اور احتیاط، احتیاط بس احتیاط۔حکومت متاثرین کے ٹیسٹ، مریضوں کے علاج کے حوالے سے اقدامات تو بروئے کار لا سکتی ہے، پھیلائو کو روکنے کے لئے قرنطینہ کا اہتمام کر سکتی ہے، بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کی سکریننگ کر سکتی ہے مگر احتیاط اور صفائی شہریوں کا کام ہے یوں ہر شہری پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ خود کو اور دوسروں کو وائرس سے بچانے کیلئے دی گئی حکومتی ہدایات، ڈاکٹروں کی طرف سے تجویز کی گئی حفاظتی تدابیر کو اختیار کر کے اس قدرتی آفت کا مقابلہ کرنے میں اپنا کردار ادا کرے، ورنہ اس قدرتی آفت پر قابو پانا تنہا حکومت کے بس کی بات نہیں، کرونا آزمائش سے نبٹنے کیلئے بھی قوم کے ہر فرد کے تعاون کی ضرورت ہے۔اللہ پاک کے کرم سے پاکستان میں ابھی صورتحال ابتر نہیں ہے، وبا کنٹرول میں ہے جس کی وجہ سے ملک و قوم کو چین، ایران، اٹلی جیسے بدترین حالات کا سامنا نہیں لیکن اگر قوم کے ہر فرد نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو خدانخواستہ ہمیں بھی زندگی کے ہر شعبہ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لئے احتیاط، احتیاط، احتیاط کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانا ہو گا ورنہ خود کو بڑی آزمائش کا مقابلہ کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار ہو جائیں۔ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کو ان پر آشوب حالات میں سیاسی اختلافات تج کر کرونا وائرس کے خلاف مہم میں شریک ہو کر اپنے حصے کا فرض ادا کرنا قومی فریضہ ہے ایسا نہ کیا گیا تو کسی ناگہانی صورت میں قوم کسی کو بھی معاف نہیں کرے گی۔طبی ماہرین کے مطابق تاحال کرونا وائرس کے خاتمہ کا علاج دریافت نہیں کیا جا سکا، پھیلائو کو روکنے کا واحد راستہ احتیاط ہے اور جب بچائو صرف احتیاط سے ممکن ہے تو احتیاط حکومت یا حکمرانوں نے نہیں کرنا یہ شہریوں کا کام ہے۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس حوالے سے اقدامات خود شہریوں نے کرنا ہیں۔کسی بھی غیرمعمولی صورت حال میں دبائو کا شکار ہونا، ابہام یا خوف کا نشانہ بننا عام بات ہوتی ہے۔ ایسی کیفیت میں اپنے قابل بھروسہ لوگوں سے گفتگو آپ کی ذہنی کیفیت کے لیے بہتر رہتا ہے۔سٹریس بھرے جذبات کا مقابلہ کرنے کے لیے سگریٹ نوشی، الکوحل یا دیگر نشہ آور اشیا استعمال نہ کریں۔ بہت زیادہ ذہنی دبا محسوس کریں تو ہیلتھ کونسلر یا طبی عملے سے رابطہ کریں، ان سے اپنے لیے منصوبہ بنوائیں اور اس پر عمل کریں۔ماضی میں دبائو کے مواقع پر جن خیالات اور کاموں کی مدد سے آپ نے خود کو مشکل صورت حال سے بچایا اور ذہنی دبائو کا مقابلہ کیا، ان خیالات اور کاموں کو دوبارہ اپنائیں۔ ان حالات میں ہم سمجھتے ہیں کہ جب ملک بھر میں اپوزیشن جلسے جلوس کر سکتی ہے اور تحریک چلانے کا عندیہ دے سکتی ہے تو الیکشن کے انعقاد میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے البتہ احتیاطی تقاضوں کو ضرور بروئے کار لایا جائے۔

Facebook Comments
Share Button