تازہ ترین

GB News

تعلیمی جرگوں کا فروغ

Share Button

چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کیپٹن (ر)خرم آغا نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان حکومت پاک فوج کیساتھ مل کر تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے ،دیامر میں تعلیم کا فروغ اولین ترجیح ہے،تعلیمی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت گندم بحران اور متاثرین ڈیم کے مسائل حل کررہی ہے ۔ عوام کرونا جیسے موذی مرض کو شکست دینے کیلئے حکومتی ایس او پیز پر عمل کریں اور سکولوں میں بچے ماسک پہن کر جائیں،تعلیمی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان وزیر اعلی گلگت بلتستان فیض اللہ فراق نے کہا کہ دیامرکے عوام افواج پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن کی کوششوںسے دیامر تعلیمی میدان میں ترقی کی جانب گامزن ہے، میجر جنرل احسان محمود کے لگائے گئے پودوں کی آبیاری کررہے ہیں۔سابق فورس کمانڈرکے مشن کو جاری و ساری رکھیں گے ۔ دیامر میں تعلیمی جرگوں کا تسلسل جاری رکھنا وقت کی اہم ضرورت تھی جیسے پاک فوج نے جاری رکھا ۔ پاک فوج نے روائتی لفظ جرگہ کو تعلیم کیساتھ جوڑ کر یہاں کے دو سو سے زائد بچوں کو ملک کے بڑے تعلیمی اداروں میں داخل کراکر ہمیں اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ آنے والے دس سال بعد دیامر فخر کرے گا اور وہ بچے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ پاکستان کو لیڈ کریں گے ۔تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں ہم دیکھتے ہیں کہ چین دنیا کا وہ واحد بڑا ملک ہے جس نے گزشتہ چند ہی دہائیوں میں علمی معیشت کے قیام کیلئے بہترین حکمت عملی بنائی اور انتھک محنت اور مستقل مزاجی سے ملکی معیشت کو عالمی سپر طاقت کے مدمقابل لا کھڑا کیا۔ اس کامیابی اور تیز ترین ترقی کی وجہ وہ اقدامات ہیں جن پر چین نے عمل کیا جس کے نتیجے میں آج اس کی مثالی ترقی پر دنیا محو حیرت ہے۔ معیاری تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی میں سرمایہ کاری کرنے والی قومیں تیزی سے آگے بڑھتی ہیں اور عالمی معاشی رہنما بن سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ چین نے خام مال اور قدرتی وسائل کی برآمد کو بہت کم کر دیا ہے، اعلی ٹیکنالوجی کی مصنوعات کی مشترکہ پیداوار اور برآمد کیلئے براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو اولین ترجیح دی ہے۔ ہر سال کم و بیش چھ لاکھ چینی طلبہ امریکہ اور یورپ اعلی تعلیم کیلئے جاتے ہیں۔ نتیجتا تقریبا پانچ لاکھ تربیت یافتہ طلبہ ہر سال چین واپس آتے ہیں، ان کی وجہ سے ہی چین متعدد جدید ٹیکنالوجی میں عالمی رہنما بن گیا ہے اور بہت اعلی درجے کی جامعات کا قیام عمل میں لایا ہے۔ 1985 میں چین میں سائنس اور ٹیکنالوجی مینجمنٹ سسٹم کی اصلاحات سے متعلق چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ اس کمیٹی کے قیام کا مقصد تحقیق و ترقی اور صنعتی سرگرمیوں کے درمیان فاصلے ختم کرکے ایک دوسرے سے منسلک کرنا تھا، خصوصا تحقیقاتی اداروں کو اعلی ٹیکنالوجی کی مصنوعات کی ترقی کیلئے بڑی مالی اعانت فراہم کرنا۔ سرکاری اداروں میں کام کرنے والے سائنسدانوں اور انجینئروں کو فارغ وقت میں مشاورتی خدمات اور نجی کام کرنے کی ترغیب دی گئی۔ منسلک اداروں کو سہولتیں مثلا آلات اور کیمیکلز وغیرہ استعمال کرنے پر انسٹیٹیوٹ کو اس کام سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حصہ دینے کا پابند کیا گیا۔ اس نقطہ نظر نے تحقیقی اداروں کو اپنے تجارتی بنیادوں پر تحقیقی منصوبے، تنہا یا مقامی صنعت کے ساتھ شراکت میں قائم کرنے کی ترغیب دی تاکہ تحقیق اور صنعت کے مابین روابط کو مضبوط کیا جا سکے۔ لہذا چینی اکیڈمی آف سائنسز نے ایک سرکاری ادارہ ہوتے ہوئے بھی 1990کی دہائی میں تحقیقی کاروباری اداروں کی ایک بڑی تعداد قائم کی۔ 1999میں ریاست چین کی کونسل نے ایک اور تاریخی فیصلہ کیا جو اعلی تکنیکی صنعتوں کی ترقی کی حوصلہ افزائی کیلئے اقدامات کا ایک سلسلہ تھا۔ ان میں آر اینڈ ڈی میں سرمایہ کاری کرنے والے نجی کاروباری اداروں کو ٹیکس وقفے، نئی ٹیکنالوجی کی منتقلی یا ترقی سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی پر ٹیکس چھوٹ، چین میں تیار کردہ سافٹ ویئرز مصنوعات کی ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی شرح کم کرکے چھے فیصد تک لانا، اضافی قرضوں کی سہولت، شنگھائی اور شینزین اسٹاک ایکسچینج میں نئی اعلی تکنیکی کمپنیوں کی فہرست میں شمولیت وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ چین میں ٹیکنالوجی کی صنعتوں کی نشو و نما کرنے پر زیادہ تر انحصار اعلی و معیاری تحقیقی افرادی قوت پیدا کرنے پر تھا۔ اسی لیے چین کیلئے اعلی تکنیکی سامان کی تیاری اور برآمد میں راہیں بنانا ممکن ہوا۔ یہ ضروری ہے کہ اعلی تعلیمی کمیشن ہر سال دس ہزار طلبہ کو پی ایچ ڈی اور پوسٹ ڈاکٹریٹ کی سطح کی تربیت کیلئے بیرونِ ملک اعلی درجے کی جامعات میں بھیجے تاکہ ہم ایک دہائی کے اندر ایک لاکھ تربیت یافتہ پی ایچ ڈی کے ہدف تک پہنچ سکیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تعداد اب صرف 300سالانہ رہ گئی ہے جبکہ جامعات کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے۔ اس سے تعلیمی معیار بہت تیزی سے گرا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں معیاری اساتذہ کی فراہمی پر توجہ دیے بغیر ذیلی معیاری جامعات کی کشمکش نے تیسرے درجے کی جامعات کو جنم دیا ہے، جنہیں کالج بھی نہیں کہا جا سکتا۔ ہم شاید نہیں جانتے کہ پاکستان کی ترقی کا واحد راستہ تعلیم، تعلیم اور صرف تعلیم ہے۔ٹیکنالوجی نے تعلیم کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ اب بڑے بڑے کمپیوٹرز کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ سمارٹ فون ٹیکنالوجی نے بہت سی مشکلات کو آسان کر دیا ۔ پاکستان میں سمارٹ فون تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ شہروں اور قصبوں سے نکل کر دور افتادہ پہاڑی اور میدانی علاقوں ، صحرائوں اور ریگستانوں میں رہنے والے بھی اب اس جدید ترین ٹیکنالوجی کو استعمال کر رہے ہیں۔ سیلولر کمپنیوں نے انٹر نیٹ سروس کی فراہمی بھی ممکن بنا دی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے جہاں دوسرے شعبہ جات کو جلا بخشی وہاں تعلیم کے شعبے میں بھی حیرت انگیز پیش رفت ہوئی ہے۔ملک میں پھیلے طلبا و طالبات انٹر نیٹ اور سمارٹ فون ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سلسلہ مروجہ نظام تعلیم کا متبادل نہیں ہو سکتا لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے پید ا شدہ صورتحال میں تعلیم بذریعہ ٹیکنالوجی کا تصور ایک بہت بڑی غنیمت ہے اور اسی غنیمت کی وجہ سے آج پاکستان کے لاکھوں بچے اور بچیاں اپنے گھروں میں بیٹھ کر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کے زیادہ تر سکولوں کالجوں اور جامعات نے تعلیم بذریعہ ٹیکنالوجی کا سلسلہ شروع کر دیا ہے ۔ جس کی بدولت یہ ممکن ہو گیا ہے کہ طلباو طالبات اپنے گھروں میں بیٹھ کر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری و ساری رکھ سکیں۔ انہیں سکول یا کالج جانے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ٹیچر کو سکول جانے کی ضرورت ہے ۔ اساتذہ کرام اپنے گھر سے تدریس کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ ملک بھر کے تعلیمی ادارے جدید کمپیوٹر ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے اپنے طلبا کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔ اساتذہ طلبا اور ان کے والدین کو ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے تربیت بھی فراہم کی جارہی ہے۔ بڑے تعلیمی ادارے خاص طور پر اپنے اساتذہ کو ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت فراہم کر رہے ہیں جس کی بدولت وہ اپنی درس و تدریس میں نمایاں بہتری لا سکتے ہیں۔ وہ اس جدید طریقہ تعلیم کے ذریعے نہ صرف اپنا علم اپنے طلبا و طالبات تک منتقل کر سکتے ہیں بلکہ انہیں بہت سے دوسرے معا ون ذرائع سے بھی تعلیم فراہم کر سکتے ہیں۔ مثلا جس موضوع پر وہ طلبا کو اپنا لیکچر دے رہے ہیں۔ اسی موضوع پر دنیا کے نامور ماہرین اور اساتذہ نے کیا کہا ہے اورکیا لکھا ہے یہ بھی بتا سکتے ہیں۔ آج کے دور کی ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی میں انقلاب برپا کر دیاہے۔ اس کی بدولت موجودہ مشکل ترین دور میں بھی طلبا و طالبات اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ ایسے بہت سے سافٹ وئیر معرض وجود میں آ چکے ہیں جن کی بدولت ہم براہ راست بہت سے لوگوں سے بات کر سکتے ہیں۔ ویڈیو اور آڈیو لنک کی سہولت نے جغرافیائی فاصلے بے معنی کر دئیے ہیں۔ اب یہ ممکن ہی نہیں بلکہ بہت آسان ہے کہ ایک ویڈیو لنک کے ذریعے ایک استاد اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے بہت سے طلبا و طالبات کو پڑھا سکتا ہے اور ان کے سوالوں کے جوابات بھی دے سکتا ہے۔اگر تعلیمی جرگے تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں تو ان کے فروغ کو یقینی بنایا جانا بہت ضروری ہے۔

Facebook Comments
Share Button