تازہ ترین

GB News

چیف کورٹ گلگت بلتستان ماڈل کورٹ بن چکی، 2ججز ہونے کے باوجود تاریخی کیسز نمٹائے،جسٹس ملک حق نواز

Share Button

گلگت(پ ر) چیف جسٹس چیف کورٹ گلگت بلتستان جسٹس ملک حق نواز نے کہا ہے کہ چیف کورٹ گلگت بلتستان ماڈل کورٹ بن چکی ہے 5کے مقابلے میں 2ججز ہونے کے باوجود تاریخی کیسز نمٹائے چیف کورٹ میں صرف 9کریمنل مقدمات باقی رہ گئے ہیں اگلے ماہ کریمنل مقدمات صفر ہوں گے۔چھٹی کی درخواست نہ لکھ پانے والے ججز کی تعیناتی سے بہتر ہے کہ کرسی خالی رہے سروسز ٹریبونل ایکٹ کے تحت چیف جسٹس چیف کورٹ سے سروسز ٹریبونل کے چیئرمین اور ممبران کی تقریری کے لئے مشاورت لازمی ہے مشاورت نہیں کی گئی تو ایسی تمام تعیناتیاں اور تقرریاں غیر قانونی تصور ہوں گی اور اس کی سمری بھیجنے والے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے، ہائی کورٹ اور ماتحت عدالتوں کے وکلاء میں لائسنس تقسیم کرنے کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس ملک حق نواز نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جوڈیشل مجسٹریٹس کی تعیناتی کے لئے سمری بھیجی گئی ہے اس کی منظوری ملنے کے بعد لائرز سے تعیناتیاں عمل میں لائیں گے ،نومبر کے پہلے ہفتے میں چیف سیکرٹری اور سیکرٹری فنانس کو طلب کرکے گلگت بلتستان بار کونسل کے فنڈز اور عمارت کا مسئلہ حل کریں گے فنڈز میں جونیئرز زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں گے۔انہوں نے نئے لائسنس لینے والے وکلاء کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جونیئرز محنت کریں وکالت کا شعبہ محنت کا شعبہ ہے ہماری طرف سے بھر پور تعاون جاری ہے، بنچ اور با ر ملکر عوام کو انصاف کی فراہمی کے لئے کوشاں ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ انصاف فراہم کیا جا سکے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ گلگت بلتستان کی عدلیہ مثالی ہے اور ایک بھی جج ایسا نہیں جس پر مالی بے ضابطگیوں کا الزام لگا ہو چند ایک ججز سفارش سنتے ہیں لیکن انہیں بھی سختی سے ہدایت کی ہے اگر وہ باز نہیں آئے تو ان کی ایسی اے سی آر لکھوں گا وہ تا قیامت یاد رکھیں گے ہم نے کرونا کے دوران بھی ایمرجنسی کیسز کی سماعت کے لئے ایس او پیز کے تحت عدالتوں میں محدود کارروائی جاری رکھی جبکہ ماہ مئی کے بعد مکمل فنکشنل ہوئے ہیں اگست میں 266اور ستمبر میں 343کیسزنمٹائے جو تاریخ کے سب سے زیادہ کیسز ہیں تمام ماتحت عدالتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ تاریخ پر تاریخ دینے والا سلسلہ بند کریں اور کیسز کو فوری نمٹائیں رٹ پٹیشن دو ماہ میں نمٹانے کا حکم دیا ہے تاکہ عوام کو سستا اور فوری انصاف مل سکے ہمیں معلوم ہے کہ دور دراز کے علاقوں سے آنے سائلین کیسز کی سماعت کے لئے نماز فجر کے وقت گاڑی میں بیٹھتے ہیں اور دن بھر عدالت کے باہر انتظار کرتے ہیں اس لئے عوام کی سہولت کے لئے عدالت 9بجے لگاتے ہیں اور 12بجے 70سے80 کیسز نمٹادیتے ہیں تاکہ غریب لوگ بروقت اپنے گھروں کو لوٹ سکیں۔چیف جسٹس نے لائسنس حاصل کرنے والے وکلاء کوہدایت کی کہ لائبریری میں بیٹھ کر کیسز کے حوالے سے بات چیت کریں کتابیں پڑھیں اور پوری تیاری کریں۔ قبل ازیں سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور علی خان نے تقریب سے خطاب کرتے ینگ لائرز کو لائسنس ملنے پر مبارکباد دی اور کہا ہے کہ وکالت عظیم پیشہ ہے کالے کوٹ پر داغ آنے مت دیں کیوں کالے کوٹ پر لگنے والا داغ دور تک دکھائی دیتا ہے۔اس پیشے کو صرف کمائی کا ذریعہ نہ بنائیں بلکہ غریب لوگوں کی خدمت کو بھی شعار بنائیں اور ان کی تکالیف کو دور کرنے میں مدد دیں۔اپنے جذبات پر اس وقت قابو میں رکھنے کی کوشش کریں جب آپ اس کوٹ میں ملبوس ہوں اور یہ کام خاصا مشکل ہے۔سابق اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ میں نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے اس لئے دلچسپی لی تھی کیوں کہ جب میں نے یہاں کے بارے میں پڑھا تو مجھے اپنے حکمرانوں کی غلطیوں کا احساس ہوا اگر ہم تایخی غلطیاں نہ کرتے تو آج گلگت بلتستان پاکستان کا پانچواں صوبہ ہوتا یہاں کے عوام پاکستان کے کسی بھی حصے سے زیادہ محب وطن ہیں۔تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے سینئر جسٹس وچیئرمین انرولمنٹ کمیٹی ہائی کورٹ لائنسز جسٹس علی بیگ نے لائسنس حاصل کرنے پر ینگ لائرز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ینگ لائرز ایمانداری،دیانتداری اور محنت و جذبے سے اپنی پیشہ ورانہ خدمات انجام دیں بنچ اور بار کا تعلق مثالی تعلق ہے ایکدوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ینگ لائرز کو میرٹ کی بنیاد پر لائسنس کا اجراء کیا گیا ہے باقی جن کو نہیں مل سکا ان کو چھ ماہ بعد جاری کیا جائے گا اس میں انرولمنٹ کمیٹی اپنا کام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس چیف کورٹ بار کے مسائل کے حل میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں اور تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے خواہاں ہیں۔اس سے قبل گلگت بلتستان بار کونسل کے وائس چیئرمین جاوید احمد نے اپنے ابتدائی کلمات میں گلگت بلتستان بار کونسل کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک بشمول آزاد کشمیر میں حکومت کی جانب سے بار کونسل کے لئے عمارتیں قائم کی گئی ہیں اور فنڈز مختص کئے گئے ہیں لیکن گلگت بلتستان میں اپنی عمارت قائم ہو سکی اور نہ ہی گرانٹ ان ایڈ مختص ہو سکی جس کی وجہ سے گلگت بلتستان بار کونسل کو اپنی پیشہ ورانہ خدمات میں مشکلات کا سامنا ہے ان دونوں مسائل اور بنیادی مطالبات کے حل کے لئے بے تماشا کوششوں کے باوجود کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی۔ اس موقع پرسابق وائس چیئرمین گلگت بلتستان بار کونسل منظور احمد ایڈوکیٹ نے وکلاء کو کوڈ آف کنڈکٹ کے حوالے آگاہی دی۔تقریب کے اختتام پر وائس چیئرمین بار کونسل جاوید اقبال نے اختتامی کلمات پیش کئے اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا تقریب میں سیشن ججز،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججزاور سینئر وکلاء بھی میں شریک تھے اس موقع پر منظوم علی خان ایڈووکیٹ، شفقت علی ایڈووکیٹ، زاہد نواز ایڈووکیٹ، کامران علی ایڈووکیٹ، عاطف حسین ایڈووکیٹ، سدرہ نعیم، اقتدار حسین ایڈووکیٹ، شبانہ ایڈووکیٹ، مہوش جمال ایڈووکیٹ، حمید اللہ ایڈووکیٹ، امداد حسین ایڈووکیٹ، ہارون عباس ایڈووکیٹ، غلام عباس ایڈووکیٹ، اشفاق عالم ایڈووکیٹ، یاسر عباس ایڈووکیٹ، امتیاز احمد ایڈووکیٹ، شیر احمد ایڈووکیٹ، منظوم احمد ایڈووکیٹ، اکرام اللہ ایڈووکیٹ، غلام محمد ایڈووکیٹ، نعمان حمید ایڈووکیٹ، مدثر حسین ایڈووکیٹ، وقاص اشرف ایڈووکیٹ، شبانہ برکت ایڈووکیٹ، شاہد اللہ ایڈووکیٹ، ظہیر احمد ایڈووکیٹ، نازیہ سردار ایڈووکیٹ خانم فرید ایڈووکیٹ کو گلگت بلتستان بار کونسل کی جانب سے چیف کورٹ اور ماتحت عدالتوں کا لائسنس جاری کیا گیا۔

Facebook Comments
Share Button