تازہ ترین

GB News

صوبے کی یقین دہانی:نیا نظام :وزیراعظم کا مثبت اعلان

Share Button

وزیراعظم عمران خان نے ملک مہیں انتخابی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے سینیٹ انتخابات کے لیے شو آف ہینڈز کی آئینی ترمیم لانے کے ساتھ ساتھ عام انتخابات کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ اور اوورز سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے لیے نیا انتخابی نظام لانے کا اعلان کیا ہے۔گلگت بلتستان کے انتخابی عمل کے حوالے سے اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میں وعدہ کرتا ہوں کہ جو ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کو عبوری صوبائی درجہ دینا تھا اور وہ اس لیے دینا تھا کہ وہاں احساس محرومی تھا، لوگ سمجھتے تھے کہ وہ پاکستان کے برابر کے شہری نہیں ہیں، میں آپ کو آج یقین دلاتا ہوں کہ ہم وہ وعدہ پورا کریں گے۔ ہم اس حوالے سے مکمل تفصیلات عوام کو فراہم کریں گے کہ گلگت بلتستان کو کس طرح عبوری صوبائی درجہ دیا جائے گا۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ 1970 کے الیکشن میں جو ہارے تھے انہوں نے اپنی شکست تسلیم کی تھی، اس کے بعد پاکستان کے سارے الیکشنز میں جو ہارتا تھا وہ کہتا تھا کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی۔ میں چاہتا ہوں کہ پاکستان میں اگلا الیکشن ایسا ہو کہ جو بھی ہارے وہ ہار تسلیم کرے، اس کے لیے ہم انتخابی اصلاحات کی ہیں جس کے لیے ہم پاکستان میں الیکٹرانک ووٹنگ لانے لگے ہیں کیونکہ سب سے بہترین سسٹم الیکٹرانک ووٹنگ ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ پر الیکشن کمیشن سے بات ہو رہی ہے اور نادرا کا ڈیٹا لے کر پاکستان میں بہترین الیکشن کرانے کا سسٹم آئے گا جس میں ٹیکنالوجی کا استعمال ہو گا۔ ہم اوور سیز پاکستانیوں کے لیے نظام لے کر آ رہے ہیں تاکہ وہ بھی ووٹ ڈال سکیں کیونکہ ہمارے 90لاکھ اوورسیز پاکستانی ہیں جو اس ملک کا بہت بڑا اثاثہ ہیں، ہمیں انہیں اپنے انتخابی عمل میں ضرور شامل کرنا چاہیے۔ جو تیسری چیز ہم چاہ رہے ہیں اس کے لیے ہمیں آئینی ترمیم کی ضرورت ہو گی، وہ یہ ہے کہ جو سینیٹ کے الیکشن کے لیے ہم آئینی ترمیم لانے لگے ہیں تاکہ سینیٹ الیکشن میں شو آف ہینڈز ہو۔ ہمیں پتہ ہے کہ پچھلے تیس سال سے خصوصا چھوٹے صوبوں میں پیسہ چلتا ہے، اراکین اسمبلی کو پیسہ دے کرووٹ خریدا جاتا ہے اور وہ لوگ جو پارٹی میں بھی نہیں ہوتے وہ پیسے اور رشوت دے کر سینیٹ میں آ جاتے ہیں، تو ہم چاہتے ہیں کہ شو آف ہینڈز ہو تاکہ پتہ چلے کہ کونسی پارٹی کے لوگ کس کے لیے ووٹنگ کررہے ہیں اور سینیٹ کے الیکشن میں کرپشن ختم ہو۔ ہم آئینی ترمیم لانے لگے ہیں اور اب یہ بقیہ جماعتوں پر منحصر ہے کہ وہ آئینی ترمیم کو سپورٹ کریں گے کیونکہ اس کے لیے دو تہائی اکثریت درکار چاہیے جو ہمارے پاس نہیں ہے۔ سب کہتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلتا ہے اور ہم نے 2018 کے سینیٹ الیکشن کے بعد اپنے بیس اراکین اسمبلی کو پارٹی سے نکالا کیونکہ ہماری کمیٹی نے ہمیں رپورٹ دی تھی کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے ان بیس اراکین اسمبلی نے پیسے لے کر ووٹ بیچے ہیں۔جو جماعتیں کہتی ہیں کہ سینیٹ میں پیسہ چلتا ہے وہ ہمارے ساتھ مل کر یہ دو تہائی اکثریت سے بل کو پاس کریں، عموما حکمران جماعت کبھی ایسا نہیں کرتیں کیونکہ ان کے پاس لوگوں کو خریدنے کے وسائل ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کوئی حکومت یہ ترمیم لے کر نہیں آئی لیکن ہم لارہے ہیں کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں صاف اور شفاف الیکشن ہوں۔ترکی نے پاکستان میں شفاف انتخابات کے لیے جدید ترین الیکٹرانک ووٹنگ ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔اس نظام کی خریداری کے لیے ترکی کے ایگزم بینک نے سرمایہ بھی فراہم کرنا تھا۔ترک ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے دھاندلی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔اس نظام کو پاکستان کے حالات اور بائیومیٹرک تصدیق کے نظام سے بھی منسلک کیا جاسکتا ہے۔ یہ نظام ترکی کی مسلح افواج اور دیگر سرکاری اداروں میں آٹومیشن کرنے والے سرکاری ادارے ہاویلسان نے تیار کیا ہے جو ترکی میں کامیابی کے ساتھ استعمال ہورہا ہے۔الیکٹرانک مشین کے ذریعے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ووٹ ڈالا جاسکتا ہے۔ یہ مشین صرف تین منٹ میں نتائج مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ نتائج مرتب کرنے اور ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے فول پروف ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔مشین کی ابتدائی لاگت ایک لاکھ روپے پاکستانی ہے۔سابقہ الیکشن میںالیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انتخابات سے متعلق قوانین ابھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کی اجازت نہیں دیتے۔ لہذا،عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں استعمال نہیں کی جا سکیں گی۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کہہ چکے ہیں کہ پیپلزپارٹی اور نون لیگ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں دینا چاہتیں۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا بنیادی آئینی حق غصب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ میں سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کی مخالفت کی ہے۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بنیادی آئینی حق سے محرومی کسی طور قبول نہیں۔سمندر پار بسنے والے پاکستانی ہمارا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔انکی بھیجی گئی ترسیلات ملکی معیشت کیلئے انمول ہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا بنیادی آئینی حق غصب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوںنے کہا تھاکہ انتخابی اصلاحات کمیٹی میں بھی ان دونوں جماعتوں نے روڑے اٹکائے۔مستقبل میں جب ملک کی تعمیر و ترقی کا مرحلہ درپیش ہوگا تو یہ پاکستانی امید کی کرن بنیں گے۔پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے وسائل کی فراہمی کا سب سے بڑا وسیلہ ہمارے یہ بھائی ہی بنیں گے قومی اسمبلی میں وزارت خارجہ کی جانب سے تحریری جواب میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت 85 لاکھ 24 ہزار 366 پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں۔حالیہ برسوں میں بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانیوں کے بیرون ملک جانے کی وجہ وہاں کا معیار تعلیم ہے۔ پاکستانی یورپی ممالک اور امر یکہ میں روزگار کیلئے بھی جا رہے ہیں۔ پاکستانی خود کو بیرون ملک پاکستانی مشنز میں رجسٹرڈ نہیں کراتے۔بیرون ملک قیام کے دوران پاکستانی غیر ملکی شریک حیات کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس لئے وہ غیر ملکیوں سے شادیاں بھی کر لیتے ہیں۔ بہرحال اگر مذکورہ اعلانات پر عمل ہو جاتاہے تو یہ مثبت اقدامات ہوں گے۔ پاکستان میں دھاندلی کے الزامات کے خاتمے اور شفاف انتخابات کے لیے ضروری ہے کہ کوئی ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے جس سے انتخابات کی شفافیت پر انگلیاں نہ اٹھائی جا سکیں ہمارے ہاں یہ وتیرہ بن چکا ہے کہ ہر الیکشن کے بعد دھاندلی کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں’ہارنے والا خوش دلی سے اپنی شکست قبول کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتا اس لیے اس بات کا احساس شدت سے اجاگر ہوتا ہے کہ ایک ایسا نظام تشکیل دیا جائے جس کی شفافیت پر کسی کو اعتراض نہ ہو’ جہاں تک الیکٹرانک ووٹنگ کا معاملہ ہے یہ اچھا اقدام تو ہو سکتا ہے لیکن اسے بھی دھاندلی سے پاک قرار نہیں دیا جا سکتا بھارت میں الیکٹرانک ووٹنگ ہونے کے باوجود ہزارہا شکایات درج کرائی گئیں اور یہ کہا جاتا رہا کہ ووٹنگ مشین میں اس طرح کی تبدیلیاں کی گئیں کہ ووٹر خواہ کسی بھی پارٹی کو ووٹ ڈالے ‘ووٹ بی جے پی کو پڑتا تھا’ ان مشینوں کو بھی لامحالہ انسانوں ہی نے آپریٹ کرنا ہے اس لیے اس میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں ممکن ہیں لہذا اسے بھی قابل اعتماد ذریعہ نہیں کہا جا سکتا’ گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کے وعدے پر عملدرآمد کی یقین دہانی کو خوش آئند کہا جا سکتا ہے کیونکہ ماضی میں تقریبا تمام جماعتیں ہی یہ وعدہ کرتی رہی ہیں لیکن اس وعدے کو پورا کسی جماعت نے نہیں کیا اب اگرچہ عالمی صورتحال کے تناظر میں یہ امید کی جا رہی ہے کہ شاید صوبے کے اعلان کو عملی جامہ پہنا دیا جائے’ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت عوام کے صبر کا مزید امتحان نہ لے بلکہ اس سلسلے میں جلد از جلد پیشرفت کرتے ہوئے اس دیرینہ خواب کو تعبیر دے۔

Facebook Comments
Share Button