تازہ ترین

GB News

حکومت سازی:جوڑ توڑ اور جمہوری روح

Share Button

گلگت بلتستان کے انتخابات میں جیتنے والے ایک اور آزاد امیدوار کی تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد پی ٹی آئی ارکان کی تعداد سولہ ہوگئی ہے جس سے اب تحریک انصاف کواسمبلی میں دوتہائی اکثریت حاصل ہے ۔ گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا عمل شروع ہوگیا ہے ‘گزشتہ روز پانچ آزاد امیدواروں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تھی چھ آزاد امیدواروں کی شمولیت کے علاوہ تحریک انصاف کو ایم ڈبلیو ایم کی ایک نشست کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اس لیے بجا طور یہ کہا جا سکتا ہے تحریک انصاف گلگت بلتستان کی نئی حکمران ہو گی’ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس طرح تحریک انصاف مرکز’پنجاب اور خیبر پختونخوا میں عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل میں کامیاب نہیں ہو سکی کیا اسی طرح گلگت بلتستان کے لیے بھی اس کے وعدے ایفا کے منتظر ہی رہیں گے’ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ تحریک انصاف جن امور پر اپوزیشن میں رہ کر اعتراض کرتی رہی ان تمام امور کو حکومت میں آکر نہایت شدومد بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ اپنا لیا ‘ عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو پس پشت ڈال دیا گیا’ اراکین کی خریدو فروخت میں تمام جماعتوں کو پیچھے چھوڑ دیا گیا ‘ پنجاب سے آزاد امیدواروں کو ذاتی طیاروں میں سوار کر کے لایا گیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں’ جوڑ توڑ کی سیاست ہر سیاسی جماعت کا طرہ امتیاز ہے اور جو جماعت اقتدار میں آ جاتی ہے وہ تمام وسائل کے استعمال کے ساتھ ساتھ اقتدار سے چمٹے رہنے کو ترجیح دیتے ہوئے یہ سمجھ لیتی ہے کہ اسے تاحیات حکمرانی سونپ دی جائے’انتخابات قریب آتے ہی اور انتخابات کے بعد سیاست میں جوڑ توڑ کا کھیل شروع ہوجاتا ہے ۔ سیاسی مبصرین کے مطابق سیاسی جماعتیں عام انتخابات سے قبل ہر مرتبہ ایک نیا نعرہ متعارف کرواتی ہیں جس کی بدولت نظریاتی سیاست کے بجائے نظریہ ضرورت پروان چڑھ رہا ہے۔ ابھی تک ایسی سیاسی پارٹیاں سامنے نہیں آئیں جن کا وجود جمہوری ہو اسی لیے ہماری سیاست تنزلی کا شکار ہو کر رہ گئی ہے۔ہمارے ہاں نظریاتی سیاست بے معنی ہوچکی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے وہی لوگ کامیاب ہو رہے ہیں جو عوام کی فوری ضروریات حل کرنے کے اہل ہوں۔انتخابی ماہرین نے امکان ظاہر کیا تھاکہ الیکشن میں آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد منتخب ہو گی اوریہ سب کسی ایک کی حمایت کردیں گے۔ایسا ہی ہوامبصرین کے مطابق اگرکوئی جمہوری پارٹی حکومت میں آتی ہے تو اسے آئین کی روح کے مطابق عوام کو ان کے بنیادی حقوق دینا ہوں گے۔انتخاب کے قریب اور بعد میں جوڑ توڑ کا کھیل کوئی نئی بات نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سیاست کی بساط پرپیادوں کی تبدیل ہوتی وفاداریاں عوام کو بہتر مستقبل فراہم کرسکتی ہیں؟مرکزی سطح پر اگرچہ پاکستان تحریک انصاف پہلی مرتبہ اتنی بڑی سطح پرکامیاب ہوئی لیکن اس کی سیاست کا غور طلب پہلو یہ رہا کہ اس نے اسمبلی سے زیادہ احتجاجی سیاست کو اپنا مرکز بنائے رکھا۔مسلملیگ نون کو اس دور حکومت میں جہاں دہشگردی، لوڈشیڈنگ اور بد امنی کا سامنا تھا وہاں دھرنوں اور احتجاج سے نبردآزما ہونا پڑا۔ انتخابات میں دھندلی کو لے کر پاکستان تحریک انصاف نے آسمان سر پر اٹھائے رکھا۔ سانحہ ماڈل ٹائون کی وجہ سے ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں مصروف رہی۔ اس سے بڑھ کرکرپشن کے الزامات اورکیسز نے بھی سر اٹھایا گوکہ پاکستان کی سیاست میں کرپشن کے الزامات اورکیسز سے شائد ہی کوئی حکومت بچ سکی ہے لیکن پانامہ کیس ملکی سیاست کا رخ کی بدل کر رکھ دیا۔ جس کی وجہ سے نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا۔ ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں انہیں، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کو نااہلی کے ساتھ ساتھ قید کی سزا بھی سنائی گئی۔ ان تلخ حقائق سے ہٹ کر دیکھا جائے تو لوڈشیڈنگ اور دہشتگردی کا خاتمہ اورگوادر و سی پیک جیسے منصوبوں پر سرعت سے کام مسلم لیگ نون کے وہ کریڈٹ ہیں جن سے صرف نظر فکری بددیانتی کے علاوہ کچھ نہیں۔ نعرے تمام بڑی بڑی جماعتوں کی طرف سے خوب لگائے جاتے ہیں،حالات اور ماضی کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات ضرور ذہن میں آتی ہے کہ کیا ہمارے سیاستدان ماضی سے سبق سیکھ کر آگے بڑھیں گے یا پھر ہمیشہ کی طرح ایک دوسرے کے خلاف مشکلات پیدا کر کے مظلومیت کے نوحے پڑھتے رہیں گے؟ کرپشن کا بازار گرم رکھیں گے؟ اور کیاذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے رہیں گے ؟کیا احتساب کے ذریعے کرپشن سے پاک معاشرے کے قیام کے لئے جاری ہونے والا عمل جاری رہے گا یا پھر ایک بار پھر مصلحتوں کی نذر ہوجائے گا۔یہاں پر سماجی جوڑ توڑ پر مبنی سیاست کو تسلیم تو کیا گیا ہے لیکن اہل سیاست کے دامن کو داغدار ہونے سے بچانے کی یہ کہہ کر کے کوشش بھی کی گئی ہے کہ معاشرتی خرابی سے سیاست میں خرابی درآئی ہے۔ حالانکہ اہل علم ہی نہیں عوام بھی جانتے ہیں کہ اس ملک کے خمیر میں جوڑ نہیں توڑ کی صفت شامل ہے۔ اہل سیاست اسی نقش قدم پر آگے بڑھتے رہے اور آج پورے معاشرے کو توڑ کے رکھ دیا گیا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ اس سیاست سے عوامی دولت کا بیشتر حصہ جوڑتوڑ والے سرمایہ داروں اور ارب پتیوں کی جھولی میں چلا جاتا ہے۔ہمارے ہاں فنِ سیاست کا مطلب ہے جوڑ توڑ، صحیح وقت پہ صحیح پتے کھیلنا، موقع محل کے مطابق حکمتِ عملی اختیار کرنا، گفتگو کے ذریعے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنا، اپنی اہمیت اجاگر کر کے اپنے آپ کو فیصلہ کن قوت بنا لینا، دائوپیچ اختیار کرنا۔ ہم نے اپنی تاریخ میں بار بار دیکھا ہے کہ بعض اوقات کم تعداد اور اسمبلیوں میں کم اراکین والے اپنے جثے یعنی اپنے قد و قامت سے زیادہ حصہ لے جاتے ہیں۔ اگر ان کی نشستوں کو دیکھیں تو ان کو ایک آدھ وزارت ملنی چاہئے لیکن جوڑ توڑ اور سیاسی مہارت کے زور پر وہ بہت کچھ لے جاتے ہیں۔ ملکی سطح پر کم نشستیں لینے والی جماعتیں ملکی یا صوبائی سطح پر کبھی بھی اکثریت لے کر اپنی حکومتیں نہیں بنا سکتیں چنانچہ ان کی حکمتِ عملی فقط اتنی سی ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی سودے بازی کے ذریعے اقتدار میں شامل ہو جائیں۔ اِن پارٹیوں کو ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی بھی سیاسی جنگ میں نشانہ نہیں بنتیں اور نہ ہی حکومتی ناکامی کا الزام بانٹتی ہیں کیونکہ حکومتی نالائقی، خام کارکردگی اور غلط پالیسیوں کا الزام ہمیشہ اکثریتی پارٹی یعنی حکمران پارٹی کو ملتا ہے۔اس اندازِ سیاست کا انہیں ہمیشہ فائدہ ہوا۔ تاریخی طور پر وہ ایوب خان سے لے کر عمران خان تک ہمیشہ کسی نہ کسی طور اقتدار میں شریک رہے ہیں۔ وہ مشرف کے ستون بھی بنے اور زرداری کی بیساکھی بھی اور اب عمران کے ساتھی بھی۔ہم دیکھتے ہیں کہ اب بات ذاتی مفادات سے بھی آگے بڑھ چکی ہے سیاست کے لیے ریاست کے مفادات بھی دائو پر لگادئیے جاتے ہیں۔مفاداتی سیاست کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو یہ پہنچا کہ ہمارا ملک تیسری دنیا کے ممالک کی فہرست میں بھی کہیں پیچھے رہ گیا ۔ پھر مفاداتی سیاست میں عوام کا استحصال بھی زیادہ ہوتا ہے، کیوں کہ یہ سیاست دان ہمیشہ اپنے مفادات ہی کو مقدم رکھتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ طاقت اور دولت کے حصول کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ سو، ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیم یافتہ اور سماجی شعور رکھنے والے نوجوانوں کو سیاسی عمل میں شمولیت کا موقع فراہم کیا جائے، تاکہ وہ نئے خیالات و رجحانات کے ذریعے ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ سیاست سے رفتہ رفتہ اقدار، اخلاقیات، مصلحت، خدمت اور عوامی فلاح کی سوچ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ مخالفین کو زیر کرنے کے لئے اب منشور اور خدمت کی جگہ ان پر ایسے ایسے الزامات عائد کرنے کا رواج عام ہوتا جا رہا ہے کہ جن کا حقیقت یا عوامی مسائل و ترقی سے کوئی تعلق واسطہ ہی نہ ہو۔ موجودہ دور میں سیاست صرف انتخابات میں کامیابی اور اقتدار کے حصول کی جنگ بن چکی ہے۔ بدقسمتی سے اب ہر سیاسی جماعت میں ایسے خوشامدی اور مفاد پرستوں کی کمی نہیں جو بد زبانی اور جگت بازی سے مخالفین پر بے ہودہ الزام تراشی کرکے نہ صرف اپنی پارٹی میں جگہ مضبوط بناتے ہیں بلکہ بسا اوقات سپوکس پرسن جیسے انتہائی سنجیدہ اور معتبر عہدے پر بھی براجمان ہو جاتے ہیں۔ جوں جوں وقت کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار اور سیاسی تربیت کے مواقع بڑھتے جا رہے ہیں سیاست کا معیار توں توں گرتا جا رہا ہے۔ سنجیدگی ختم ہوتی جا رہی ہے، عزت و احترام اور بڑے چھوٹے کا لحاظ ماضی کا قصہ بنتا جا رہا ہے، جس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments
Share Button