تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیراعظم اور عمران خان سے متعلق دیا گیا بیان 2 برس پرانا ہے: شاہد آفریدی کی وضاحت-کیا باقاعدہ منصوبہ بندی سے پھنسایا گیا؟ غریدہ فاروقی نے وضاحت کر دی-مسلم لیگ ن میں بغاوت عروج پر متحدہ مسلم لیگ بنانے کی تیاریاں آخری مراحل میں، 3 درجن اراکین اسمبلی کے تحریک انصاف سے بھی رابطے-وزیرداخلہ کی پریس کانفرنس ملتوی ہونےکا ڈراپ سین-ایک طرف وزیراعظم کے استعفے کی بات دوسری طرف نیب قانون ختم کیاجارہاہے ،محمد زبیر نیب نہیں ہوگاتوکرپشن کی روک تھام کیسے ہوگی ،وفاق اورصوبے کے درمیان کشمکش نہیں ہونی چاہئے ... مزید-وزیراعلیٰ شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش کی تھی، خواجہ آصف کو وزیراعظم بنانا پاکستان کے ساتھ مذاق ہوگا، وہ فوج میں بہت غیر مقبول ہیں، چوہدری نثار واحد وزیر ہیں جن ... مزید-عوام کو سازشوں کے ذریعے ورغلایا نہیں جاسکتا،عوام ہی بہترجج ہیں اورصحیح فیصلہ کرنے کااختیار رکھتے ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان وزیراعظم محمدنوازشریف نے ہمیشہ اداروں کااحترام ... مزید-خدانے دوبارہ پاکستان میں حکومت کاموقع دیاتولال مسجداوراکبربگٹی جیسے آپریشن پھرکروں گا،مجھے ان پر کوئی ندامت نہیں ، پرویز مشرف جوبھی کیاہے سوفیصدملک وقوم کیلئے کیا،پانامہ ... مزید-ذوالقعدہ کا چاند نظر آگیا،یکم ذوالقعدہ منگ کل ہوگی، مفتی منیب الرحمن-دہشت گردی ملک بھر میں سر اٹھارہی ہے اور سیاسی رہنماء کرسی کی جنگ میں مصروف ہیں،سینیٹر شاہی سید ریاست بچانا کرسی بچانے سے زیادہ اہم ہے ،اب بھی وقت ہے ملک کی سلامتی اور ... مزید

GB News

امریکا کا مسلمانوں کیلئے متنازع رجسٹری پروگرام ختم کرنے کا فیصلہ

امریکا نے مسلمانوں کیلئے متنازع رجسٹری پروگرام ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔غیر ملکی میڈیاکے مطابق امریکا کے محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گردی کے شکار ممالک سے امریکا آنے والے لوگوں کے غیر فعال رجسٹری پروگرام کو ختم کر رہا ہے۔محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے جس پروگرام کی منسوخی کا اعلان کیا یہ اسی طرز کا پروگرام ہے جس پر نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غور کر رہے ہیں۔ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ترجمان نیما حکیم نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی انٹری ۔ ایگزٹ رجسٹریشن سسٹم پروگرام جو این ایس ای ای آر ایس بھی کہلاتا ہے، 2011 میں معطل کردیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ پروگرام غیر موثر اور بے کار ثابت ہوا اور اس سے سیکیورٹی میں بھی بہتری نہیں آئی، جس کے باعث ڈیپارٹمنٹ اسے باضابطہ طور پر ختم کر رہا ہے۔دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی سوال کیا گیا کہ کیا وہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی طرح مسلمانوں کی رجسٹری کے پروگرام کی حمایت کریں گے، جس کا انہوں نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے کئی ساتھیوں نے رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس مردہ پروگرام میں دوبارہ جان نہیں ڈالے گی، حالانکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک مشیر نے ہی اس پروگرام کا خیال پیش کیا تھا۔یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب فیس بک، ٹوئٹر اور ایپل سمیت کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں مختلف نیوز تنظیموں کو یہ بتاچکی ہیں کہ وہ مسلم رجسٹری قائم کرنے کے حوالے سے ٹرمپ انتظامیہ کی مدد نہیں کریں گی۔رواں ماہ کے اوائل میں کئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ملازمین نے اس آن لائن عہد پر دستخط کیے تھے، جس میں لوگوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر نگرانی اور بڑے پیمانے پر بے دخلی میں معاونت کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی ڈیٹا رجسٹری کے لیے مدد فراہم نہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔اس پروگرام کو ختم کرنے کے اوباما انتظامیہ کے فیصلے کی ناقدین بھی تعریف کر رہے ہیں، جنہوں نے اس پروگرام کو امتیازی قرار دیتے ہوئے اس پر تنقید کی تھی۔

Share Button