Image

غیر رجسٹرڈ بجلی صارفین

چیف انجینئر محکمہ برقیات گلگت ریجن غلام مرتضی نے گلگت میں لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے میڈیا بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گلگت میں کل پےنتےس ہزار رجسٹرڈ صارفین ہیں جبکہ کم و بیش بےس ہزار کنکشن غیر رجسٹرڈ ہیں۔ بد قسمتی سے صرف چارہزار صارفین باقاعدگی سے بجلی کے بل ادا کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بجلی کی پیدوارپچےس میگاواٹ ہے اور گرمیوں میں بھی اتنی ہی پیدوار ہوتی ہے۔ گرمیوں میں چونکہ بجلی کی طلب کم ہوتی ہے اس لئے لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی اب جبکہ عوام بھاری برقی آلات استعمال کررہے ہیں جس باعث اور لوڈ کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کرنا پڑتی ہے۔ اگر پورے گلگت میں اگر سمارٹ میٹرز لگ چکے ہوتے تو آج لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے بچ سکتے تھے۔ ایسے علاقے بھی ہیں جہاں سے بل دینا تو دور کی بات ٹرانسفارمر پر میٹر لگانے بھی نہیں دیتے۔ وزیر گلگت بلتستان نے اسمارٹ میٹرز اور اے بی سی کیبل لگانے کےلئے دو ارب روپے فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اگر یہ منصوبہ ملا تو سمارٹ میٹرز کا کام وہاں سے شروع ہوگا جہاں پر رکا ہے۔اگر گلگت بلتستان کے لوگ بجلی کا بل قاعدگی سے ادا کرنا شروع کرےں تو یہ محکمہ اس آمدنی سے اپنے پاور ہاﺅسز بناسکتا ہے بلکہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات بھی وہیں سے پورے کرسکتا ہے۔ انہوں نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ کم از کم شام کو پانچ بجے سے رات دس بجے تک بھاری آلات کا استعمال کرنے سے گریز کرے تاکہ بلا تعطل بجلی مل سکے۔پاکستان میں بجلی کی چوری نئی بات نہےں ہے لےکن بجلی کے غےر رجسٹرڈ صارفےن کو جانتے ہوئے بھی رجسٹر نہ کرنا حےران کن ہے۔ےہ صرف گلگت بلتستان ہی کا مسئلہ نہےں بلکہ ملک بھر میں اےسا ہے۔ بجلی چوروں اور ناہندگان کے خلاف کارروائیوں کا عندےہ دےا جا چکا ہے ۔کہا جاتا رہا ہے بجلی چور ہمارا دشمن ہے، بجلی چوری کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے جس کا مکمل خاتمہ کیا جائے، ان کے خلاف مروجہ قانون کے تحت بجلی چوری کی ایف آئی آر درج کرائی جائیں اور بجلی چور کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، جو صارف بجلی کا بل ادا نہیں کرسکتا اس کو بجلی کی فراہمی نہیں کر سکتے، نادہندگان سے سوفیصد واجبات کی وصولی کرنے کا احکامات بھی دےے جاتے رہے ہےں۔بجلی کے صارفین کو درست ریڈنگ کے ساتھ بجلی کے بل دینے اور اگر صارفین بجلی کے بلوں کی ادائیگی نہیں کرتے تو ان کے خلاف مروجہ قانون کے تحت کارروائیاں کرنے کا احکامات بھی دےے گئے اور بلا تفریق بجلی کے کنکشن منقطع کرنے کا حکم بھی دےا گےا۔کچھ عرصہ قبل ایف بی آر نے بجلی کے غیر رجسٹرڈ صارفین کا ڈیٹا جاری کیا تھا۔ چیئرمین کا کہنا تھا دو کروڑ اڑسٹھ لاکھ سے زیادہ بجلی صارفین غیر رجسٹرڈ ہیں۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کیے جانے والے ڈیٹا میںکے الیکٹرک کے گھریلو صارفین شامل نہیں تھے۔چیئرمین ایف بی آر کے مطابق ملک بھر میں بجلی کی تمام تقسیم کار کمپنیوں کے 2 کروڑ 36 لاکھ 25 ہزار پانچ سو 61 گھریلو صارفین ایف بی آرمیں رجسٹرڈ نہیں ۔ تقریبا 25 لاکھ 23 ہزار 280 کمرشل صارفین اور دو لاکھ 67 ہزار 426 صنعتی صارفین بھی ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں۔اگراس مجموعی تعداد میں سے گھریلو صارفین کو منہا کیا جائے تو غیر رجسٹرڈ صارفین کی تعداد 32 لاکھ 60 ہزار پانچ سو 96 بنتی ہے جن کا رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے۔بجلی شعبے میں این ٹی این اور سیلز ٹیکس نمبر رکھنے والوں کی تعداد صرف 62 ہزار 187 ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے غیر رجسٹرڈ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے نوٹس جاری کرنے کا کہا گےا تھا۔سےلز ٹیکس اور انکم ٹیکس ریکارڈ میں بجلی کے 32 لاکھ 60 ہزار صارفین کے نام موجود ہی نہیں۔ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کی سنگین ابتر صورتحال ملک کے مالی خسارے کی بنیادی وجہ ہیں۔ایف بی آر پہلے ہی صنعتی اور کمرشل صارفین کو ٹیکس قوانین کے تحت جرمانوں اور دیگر کارروائیوں سے بچنے کے لیے اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی درخواست کرچکا ہے۔دوسری ٹیکس بیس بڑھانے کے سلسلے میں ایف بی آر وزارت توانائی کو ایسے صارفین کی معلومات فراہم کرنے کی درخواست کرچکی ہے جن کا اب تک ٹیکس ڈےپارٹمنٹ میں اندراج نہیں ہے۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے جون تک انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس میں اندراج نہ رکھنے والے صارفین کی ایک فہرست تیار کی تھی جو ایف بی آر کو فراہم بھی کی جاچکی ہے۔ ملک میں محض 26 ہزار 512 صنعتی صارفین نے ایس ٹی آر این حاصل کیا ہوا ہے جبکہ انکم ٹیکس میں صنعتوں کا اندراج انتہائی حوصلہ شکن ہے اور صرف 25 ہزار 871 صنعتی صارفین نے این ٹی این حاصل کیا ہے۔اس کے علاوہ ملک میں کمرشل سطح پر توانائی حاصل کرنے والے 25 لاکھ 20 ہزار صارفین غیر رجسٹرڈ ہیں۔سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ 14 کے تحت پاکستان میں قابلِ ٹیکس فراہمی سے منسلک ہر شخص رجسٹرڈ ہونے اور ایس ٹی آر این حاصل کرنے کا مجاز ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ملک کے مجموعی کمرشل صارفین کے محض 1.45 فیصد یعنی36ہزار 732 صارفین نے اب تک ایس ٹی آر این حاصل کیا ہے۔ چیف انجینئر کہہ چکے ہےں کہ حکومت گلگت بلتستان کی اجازت وہ ڈویل فیول کی طرف جارہے ہیں اس حوالے سے ایک کمپنی کے ساتھ بہت جلد معاہدہ ہوگا جس سے اٹھارہ روپے فی یونٹ بجلی دستیاب ہوگی۔ یہ معاہدہ پندرہ سالوں کا ہوگا اور پندرہ سالوں بعد متعلقہ کمپنی اپنے ٹربائن محکمہ برقیات کو دیکر جائے گی۔ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کی ہدایت پر اےن اےل سی کے ساتھ مل کر گلگت ،ہنزہ، سکردو اور دیامر میں سولر کا منصوبہ لارہے ہیں۔ جس سے کم از کم دن کو بجلی ملے گی اور سولر کی طرف جانا وقت کی اہم ضرورت ہے‘ یہ ڈیزل سے سستا پڑتا ہے۔ اس وقت تےرہ گھنٹے بجلی فراہم کررہے ہیں اور گےارہ گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ہے۔ اگر عوام الناس بجلی کے استعمال میں احتیاط کرےں تولوڈ شیدنگ سے نکل سکتے ہیں۔بجلی چوری روکنے کےلئے علماءکے فتاوی جات کا بھی سہارا لےا گےا تھا۔اس فتوے میں کہا گیا تھا کہ بجلی کی چوری ناجائز، حرام اور گناہ ہے، جو مسلمان کنڈے کے استعمال، میٹر کی رفتارسست کر کے یا کسی اور طریقے سے بجلی چوری کے مرتکب ہوتے رہے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ اس گناہ سے توبہ کرتے ہوئے اب تک کی چوری شدہ بجلی کی قیمت کے برابر رقم بجلی کمپنی کو اداکریں۔علما نے بجلی چوری کے مرتکب شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ اللہ سے معافی مانگیں اور آئندہ متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر بجلی استعمال نہ کرنے کا پختہ عہد کریں۔ ورنہ جب تک ناجائز بجلی استعمال ہوتی رہے گی، تو کنڈا لگا کر یا میٹر کی رفتارکم کر کے بجلی استعمال کرنے والے گناہ کبیرہ میں مبتلا رہیں گے۔علما کا کہنا تھا کہ محفل میلاد یا دوسری محافل پر چراغاں کے لیے کنڈے کی بجلی استعمال کرنا بھی چوری میں شمار ہے جوکہ ناجائز اور حرام ہے لہذا ایسے میلاد سے ثواب کی امید نہیں رکھی جا سکتی کیونکہ اللہ تعالی مال حلال ہی قبول فرماتا ہے۔علما ئے کرام نے اپنے فتوی میں کہا تھا کہ بجلی چوری کرنے کے لیے میٹربند کرنا، کنڈالگانا، میٹر کی رفتارکم کرنا یا اس کے علاوہ کوئی اور ایسی صورت اختیارکرنا جو حکومت یامتعلقہ ادارے کی طرف سے قانونا ممنوع ہو، شرعا ناجائزاور گناہ ہے۔ اور اس میں دوطرح کاگناہ لازم آتاہے۔ ایک تو یہ ایک ایسے ادارے کی چوری ہے جس سے بہت سے لوگوں کے حقوق وابستہ ہیں اور چوری اگر ایک آدمی کی ہوتب بھی سخت گناہ ہے اور اگر بہت سے لوگوں کی ہو تو گناہ مزید بڑھ جاتاہے۔دوسرے یہ کہ جائز امورمیں حکومتی قوانین کی پاسداری واجب ہے ، چونکہ بجلی کی چوری حکومت کی طرف سے قانونا ممنوع ہے جو کہ عوامی مصالح کے پیش نظرجائز پابندی ہے اس لیے بجلی چوری کرناجائز حکومت کی مخالفت کرنا ہے جوکہ ناجائز اور گناہ ہے۔ایسے لوگوں پر لازم ہے کہ جتنی بجلی متعلقہ ادارے کی اجازت کے بغیر استعمال کی ہے اسی ادارے کو اس کی ادائیگی کریں اور جو گناہ ہوا ہے اس کی انتہائی پشیمانی اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالی سے معافی مانگیں۔صارفےن کو چاہےے اگر وہ بجلی استعمال کر رہے ہےں تو خود کو رجسٹرڈ کرائےں‘بل ادا کرےں اور بجلی کے غےر قانونی استعمال سے گرےز کرےں کےونکہ ےہ دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے اور رےاستی وسائل کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔