Image

آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کا عندیہ


سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی پر ہم پیچھے ہٹ گئے ہیں اور پیچھے بیٹھ کر اس تمام عمل کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔عمران خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ نئے آرمی چیف کے تقرر کا اہم ترین قومی سلامتی کا فیصلہ ایک سزا یافتہ اور مفرور سابق وزیر اعظم و سربراہ مسلم لیگ نون نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کریں گے جن کے ذاتی مفادات، قومی مفادات سے متصادم ہیں۔میں ان لوگوں کی بات نہیں کر رہا جن میں سے کسی ایک کو آرمی چیف تعینات کیا جائے گا بلکہ ان لوگوں کی بات کر رہا ہوں جو ملک کے حساس ترین عہدے پر تقرر کا فیصلہ کریں گے۔ عمران خان کا اس معاملے سے پیچھے ہٹنے کا فیصلہ بظاہر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ صدر عارف علوی کے ذریعے پی ٹی آئی کے پس پردہ مذاکرات میں ناکامی پر عدم اطمینان کا اظہار ہے۔صدر عارف علوی نے گزشتہ ہفتے اعتراف کیا تھا کہ قابل عمل حل تلاش کرکے سیاسی افراتفری کو ختم کرنے کے لیے تمام سیاسی کھلاڑیوں سمیت طاقتور حلقوں کے ساتھ بیک ڈور مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔موجودہ حکومت کی جانب سے آرمی ایکٹ میں تبدیلیاں لانے کے مبینہ فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ یہ دونوں نواز شریف اور آصف زرداری اپنے ذاتی مفادات کے لیے ریاستی اداروں کو نقصان پہنچائیں گے، میں چاہتا ہوں کہ نئے آرمی چیف کے تقرر سے پاک فوج مضبوط ہو۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف چاہتے ہیں کہ صرف ایسا آرمی چیف مقرر کیا جائے جو ان کے مالی معاملات اور مقدمات کا خیال رکھے۔تاہم عمران خان نے وضاحت کی کہ کوئی بھی آرمی چیف ریاست، ریاستی ادارے اور عوام کے خلاف نہیں جائے گا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ میری امریکا سے کوئی دشمنی نہیں ہے، میں پاکستان اور امریکا کے درمیان مثبت، بہتر اور مضبوط تعلقات چاہتا ہوں، میں ہمیشہ پاکستان کے مفادات کو اپنے ذاتی مفادات پر مقدم سمجھوں گا۔انہوں نے ایک بار پھر چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ ارشد شریف، سینیٹر اعظم سواتی اور خود ان پر قاتلانہ حملے کے مقدمات وہ اپنی نگرانی میں چلائیں اور سب کو انصاف فراہم کیا جائے۔ انہیں حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کرنے کا پیغام ملا اور انہوں نے صاف انکار کر دیا کیونکہ نئے عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد ہی بات چیت ممکن ہے۔جبکہ صدر عارف علوی نے گورنر ہائوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کسی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ نومبر میں ہونے والی ایک اہم تعیناتی کے بارے میں مشاورت جاری ہے۔پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اس بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ اہم تعیناتی کہاں ہونے جا رہی ہے تاہم ڈاکٹر عارف علوی بظاہر اگلے آرمی چیف کی تعیناتی کا ہی حوالہ دے رہے تھے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ نومبر کے مہینے میں ہونے والی ایک اہم تعیناتی کو آئین اور متعلقہ قوانین کے مطابق ہونا چاہیے، تاہم ان کی رائے میں یہ تعیناتی متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کی جا سکتی ہے۔عارف علوی نے اعتراف کیا کہ وہ سیاسی اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مصروف عمل ہیں تاکہ انہیں مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے اور قوم کو درپیش اہم مسائل پر اتفاق رائے پیدا ہو سکے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ کہ پاکستان آرمی ایکٹ میں ترامیم سے متعلق میڈیا میں جاری قیاس آرائیاں بلاجواز ہیں لیکن ان کے بیان نے نئے آرمی چیف کی متوقع تعیناتی سے قبل پس پردہ جاری اقتدار کی کشمکش کو عیاں کر دیا ہے۔ پاکستان آرمی ایکٹ 1952 پی اے اے میں مجوزہ ترامیم کا تعلق فوج کے امور، انفراسٹرکچر، کمانڈ اور سروس کی شرائط و ضوابط سے ہے۔تاہم فی الوقت دفعہ 176 میں ترامیم توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں، جن میں خاص طور پر اسی شق کی ذیلی دفعہ دو اے میں لفظ توسیع اور استعفی کا اضافہ شامل ہے۔اس مخصوص ترمیم کا جائزہ اس پس منظر میں دلچسپ ہے کہ نئے آرمی چیف کے لیے متوقع امیداواروں میں ایک امیدوار ایسے بھی ہیں جو آرمی چیف کا عہدہ خالی ہونے سے چند روز قبل ریٹائر ہو رہے ہیں، خیال کیا جارہا ہے کہ اس ممکنہ ترمیم سے یہ پیچیدگی کو دور کرنا ہی مقصود ہے، تاہم یہ ضروری نہیں کہ معاملہ ہی ہو۔وزارت دفاع کی جانب سے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے مقدمات کے لیے بھیجی گئی سمری کے مطابق یہ ترمیم دراصل جنرل ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے تجویز کی گئی تھی اور اس نقطہ نظر سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس کا مقصد جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دینا ہے۔ایک ریٹائرڈ دفاعی سیکرٹری کے مطابق تکنیکی طور حکومت یا کسی بھی سروسز کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل یا اس سے نچلے عہدے سے ریٹائر ہونے والے افسران کو کسی نئی قانون سازی کے بغیر ضرورت کے مطابق ان کے متعلقہ عہدے پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔سابق دفاعی سیکرٹری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو اس کے عہدے پر برقرار رکھنے کا یہ منصوبہ موجودہ آرمی چیف کے لیے ہی ہے۔حکمران اتحاد اور حزب اختلاف پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اپنائے گئے موقف نے آئندہ فوجی کمان سنبھالنے کے لیے نام کے انتخاب کا عمل پیچیدہ بنا دیا ہے، اگر کسی ایک امیدوار کا انتخاب کیا جاتا ہے تو امکان ہے کہ کسی ایک فریق کی جانب سے عوام میں اس تعیناتی کو منفی رخ دینے کی کوشش کی جائے گی۔یہ ایک ایسی چیز ہے جسے فوج ایسی صورتحال میں ہرگز برداشت نہیں کر سکتی جب اس کے کچھ سینیئر افسران کو سیاسی میدان میں مسلسل تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔یہی وہ صورتحال ہے جس کے پیش نظر نئی حکومت کے قیام تک جنرل قمر جاوید باجوہ کو بطور آرمی چیف برقرار رکھنے کی تجویز سامنے آئی ہے، خیال کیا جارہا ہے کہ اس کے بعد اگلے آرمی چیف کے انتخاب کا معاملہ ائندہ حکومت پر چھوڑ دیا جائے گا۔ عمران خان بھی اس خیال کے پرزور حامی تھے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے اس اہم تعیناتی کے بارے میں اپنی رائے پر نظرثانی کرلی ہے اور اب وہ اس تعیناتی کے معاملے پر اپنی رائے پر زور دینے کے خواہاں نظر نہیں آتے۔ سپریم کورٹ نے 2019 کے فیصلے میں آرمی ایکٹ کی متعلقہ شقوں کا جائزہ لینیکی ہدایت کی تھی جس کے مطابق سروسز چیفس کی مدت ملازمت پر قانون سازی درکار ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق مناسب وقت پر اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت جی ایچ کیو کی مجوزہ قانون سازی کے بارے میں کتنی سنجیدہ ہے؟سمری سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تجویز یکم نومبر کو وزارت دفاع کی جانب سے کابینہ کمیٹی کو بھیجی گئی تھی جو کہ کسی بھی قانون سازی کی تجویز کے لیے پہلا مرحلہ ہوتا ہے، اس کے بعد سے پندرہ  روز گزر چکے ہیں لیکن کابینہ کمیٹی کا کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا۔رابطہ کیے جانے پر تین اہم وفاقی وزرا نے مجوزہ قانون سازی کے بارے میں مکمل لاعلمی کا اظہار کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سمری ایگزیکٹو باڈی کے ارکان کو بھیجنا ابھی باقی ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کا آٹھ نومبر کو شرم الشیخ سے واپسی پر اچانک لندن جانا اور وہاں ان کا طویل قیام بھی حکومت کی جانب سے اس اہم معاملے میں ہچکچاہٹ نمایاں کرتا ہے۔اس وقت لندن سے موصول ہونے والی اطلاعات میں یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ سربراہ مسلم لیگ نون نواز شریف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف ہیں۔ایک وفاقی وزیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم فوجی کمان کی تبدیلی سے پہلے ممکن نہیں ہے۔وزیر دفاع کی جانب سے بھی ان ترامیم اور قانون سازی کے لیے کوئی جلدبازی نہیں دکھائی دے رہی، ان کا کہنا ہے کہ آرمی ایکٹ میں کسی بڑی تبدیلی پر غور نہیں کیا جا رہا ہے، جو بھی ترامیم کی جانی ہیں وہ مناسب وقت آنے پر کی جائیں گی۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز کراچی میں ملیر گیریژن کا دورہ کرتے ہوئے اپنے الوداعی دوروں کا سلسلہ جاری رکھا، اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ حکومت کی آئندہ حکمت عملی بھانپ چکے ہیں، تاہم اگلے آرمی چیف کے لیے حکومت اور فوج کے درمیان کشمکش ابھی باقی ہے۔